حیدرآباد2اکتوبر(یواین آئی)سابق ریاست حیدرآباد دکن کے آخری فرنروا نواب میرعثمان علی خان کی برطانیہ میں 35ملین پاونڈ دولت کے معاملہ میں آج پاکستان کو بڑا دھکہ لگا کیونکہ عدالت نے واضح کردیا کہ نظام حیدرآباد کی جانب سے جمع کروائی گئی یہ رقم ہندوستان کی ہے۔ یہ رقم نیشنل ویسٹ منسٹر بینک لندن میں محفوظ ہے۔ اس پر پاکستان اپنا دعوی کرتا آرہا ہے۔اس معاملہ کے فریقوں میں ہندوستان‘ پاکستان اور ساتویں نظام حیدرآباد کے ورثاء بھی شامل ہیں۔
عدالت کے اس فیصلہ سے پاکستان کے دعووں کو بڑا دھکہ لگا جو خود کو اس دولت کا حقدار سمجھ رہا تھا کیونکہ برطانوی ہائی کورٹ نے آج اس بھاری رقم کے 70سالہ قدیم معاملہ میں ہندوستان کے دعووں کو برقرار رکھا ہے۔ساتویں نظام حیدرآباد نے 1948ء میں لندن بینک کو ایک ملین کی رقم روانہ کی تھی جو اب تقریباً 35ملین پاونڈ ہوگئی ہے۔ برطانیہ اور ویلس کے ہائی کورٹ نے آج یہ فیصلہ سنایا۔ یہ فیصلہ 70سال سے زائد کے دستاویزات کے تجزیہ اور قانونی پہلووں کے تفصیلی تجزیہ کے بعد سنایا گیا۔ عدالت نے ٹرسٹ‘فارن ایکٹ کارروائیوں کے حدود کا بھی تجزیہ کیا اور پاکستان کے دلائل کو مسترد کردیا۔
عدالت نے اپنے فیصلہ میں پاکستان کے یہ دعوی کو بھی مسترد کردیا کہ یہ رقم جنگی جہازوں کی خریدی کی ادائیگی کے لئے تھی یا تحفہ کے طور پر دی گئی تھی۔ یہ معاملہ1950ء کی دہائی میں کی گئی کارروائی سے مشروط ہے جس میں برطانوی ایوان نمائندگان نے حیدرآباد کے ساتویں نظام کی جانب سے پیش کردہ دعوی کو مسترد کردیا تھا۔ نظام نے اس عرضی میں اس رقم کے پاکستان کی سرکاری مراعات کے تحت ہونے کا دعوی کیا تھا۔ وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں یہ بات بتائی۔2013میں پاکستان نے اپنے طور پر تازہ اقدام کیا اور دعوی کیا کہ یہ اس کی ملکیت ہے۔ہائی کورٹ کے اس فیصلہ کے بعد پاکستان‘ کئی دہائیوں قدیم حیدرآباد فنڈ کیس ہار گیا ہے جس میں اس معاملہ کے دوران کئی نشیب و فراز آئے جہاں ہندوستان اور نظام حیدرآباد کے ورثاء نے پاکستان کے اس دعوی کی شدت سے مخالفت کی جس میں اس رقم پر اس بنیاد پر یہ کہتے ہوئے دعوی کیا تھا کہ یہ اس ملک کے عوام کے لئے ایک تحفہ تھا۔ 1948ء سے ہی یہ فنڈ‘ ہائی کمشنر پاکستان کے اکاونٹ میں ہے۔