*نشہ کی عیاشی میں دم توڑتے ہوئے جوان

از :عبدالرزاق بنگلوری متعلم :مدرسہ شاہی مراد آباد درجہ :تکمیلِ افتاء

موجودہ دور میں نشے کی دیوانگی نوجوانوں کو برباد کرکے قبر کے گڑھے تک پہنچا رہی ہے،اور اس کا استعمال سراسر نقصان و خسران ہے، نشے کے نقصانات ظاہر ہیں، سب سے بڑا نقصان تو خود اس کی صحت کا ضیاع ہے، نشہ آور چیز اپنے استعمال کرنے والے کے گردے، پھیپھڑے، جگر، معدہ، اعصاب، پٹھے، اور جسم کا سارا نظام تباہ کر دیتی ہیں،
نشہ آور چیزیں اپنے عادی کی صحت فیملی، لائف، کیریئر، کاروبار، زندگی سب کو کھنڈر بنا کر آخر کار موت کے منہ میں ڈھکیل دیتی ہے، اور نشے کا دیوانہ اپنی ہوس کو پورا کرنے کے لئے ہر جرم کا ارتکاب کرکے حیوانیت کو شرمسار کرتا ہے، بالآخر یہ نشہ آور اشیا سرمایہ داروں کو دولت سے، صنعتکاروں کو صنعت کاری سے، دوشیزاؤں کو عصمت و عزت، سے اور اہل علم کو فہم و فراست سے، اور خود جانتے بوجھتے لوگوں کو حلال و حرام کی تمیز کرنے سے، دور کر رہی ہیں اورلوگ ایک ہنستی کھیلتی زندگی سے ہمیشہ کے لئے محروم ہوجاتے ہیں، خصوصا مسلم معاشرے کو درپیش اس اہم ترین مسئلے سے نہ تو آنکھیں چرائی جا سکتی ہیں، اور نہ ہی اپنی پروان چڑھتی ہوئی نسل کو اس کے رحم و کرم پر چھوڑا جا سکتا ہے، نشہ آور اشیاء میں سے سب سے بڑی نشہ آور چیز شراب ہے، جس کی قباحت قرآن اور حدیث میں بالکل واضح ہے، اور آخرت میں شرابی کا انجام بھی بہت برا ہے، آج امت میں شراب عام ہو چکا ہے، اور شراب کا عیب جیسا ہونا چاہیے ماحول میں ایسا باقی نہیں رہا، باپ بیٹے کے سامنے اور بیٹا باپ کے سامنے شراب پی رہا ہے، اور کسی میں کوئی غیرت باقی نہیں رہی، اور شراب کی قباحت اور برائی کے سلسلے میں امام منذری رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی کتاب الترغیب و الترہیب میں 57 احادیث نقل فرمائی ہیں، ان میں سے ایک حدیث ہم یہاں نقل کر دیتے ہیں، جو ترمذی شریف کے اندر بھی موجود ہے،
جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شراب کے بارے میں دس قسم کے لوگوں پر لعنت فرمائی ہے،
1) شراب بنانے والے ملازم پر
2) وہ شخص جو اپنے لیے شراب بنوا تا ہے
3) شراب پینے والے پر
4) شراب ادھر سے ادھر لے جانے والے پر
5) جس کے واسطے ادھر سے ادھر لے جایا جائے
6) شراب پلانے والے پر
7) شراب بیچنے والے پر
8)شراب کی قیمت کھانے والے پر
9) شراب خریدنے والے پر
10)جس کے لئے شراب خریدی جائے اس پر لعنت بھیجی ہے، (ترمذی شریف 1/ 242، الترغیب و الترہیب للمنذری جلد 3 صفحہ 174)
آخرت میں شرابی کا حشر یہ ہوگا کہ جہنم کے اندر زانیہ عورتوں کو جو عذاب دیا جائے گا ان میں سے ایک عذاب یہ بھی ہو گا کہ ان کی شرمگاہ سے گندا خون اور پیپ اس طریقے سے کثرت کے ساتھ بہنے لگے گا کہ اس کے بہنے کی وجہ سے باقاعدہ ایک نہر بن جائے گی تو شرابی کو اس طرح زانیہ عورتوں کی شرمگاہوں سے بہتا ہوا خون اور پیپ کی نہر سے پلایا جائے گا، اور یہی شرابیوں کے کھانے پینے کی غذا ہو گی، (الترغیب و الترہیب للیافعی، صفحہ 157)
نہایت عبرت حاصل کرنے کا مقام ہے کہ دنیا ہی میں اس کو کئی طرح کی بیماریاں لاحق ہوجاتی ہیں، شرابی کے بدن سے ایک خطرناک بدبو آنے لگے گی جس کی وجہ سے اس کی بیوی بچے بھی اس کے قریب آنا گوارا نہیں کریں گے، اور اس کی عقل و فراست مار کھا جاتی ہے، اور وہ اپنے بیوی بچوں پر ظلم کرنے لگتا ہے، اور بدن کا کوئی عضو اس کا صحیح سالم نہیں رہتا، اور فرشتے اس کے قریب ہونا تو دور کی بات لوگ بھی اس سے نفرت کرنے لگیں گے، اور یہی عالم ہوتا ہے بیڑی، سگریٹ، اور گٹکا کھانے والوں کا کہ ان کے منہ سے اس قدر بدبو آنے لگتی ہے کہ دوست و اقارب بھی قریب نہیں آتے، اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے بدبو دار شخص کو مسجد میں آنے سے منع کیا ہے کیونکہ مسجد اللہ کا گھر ہے اور وہاں فرشتوں کا ماحول ہر ہمیشہ سجا رہتا ہے، اور اس کی بدبو سے فرشتوں کو بھی تکلیف ہوتی ہے بجائے دعا پر آمین کہنے کے فرشتے اس پر لعنت بھیجتے ہیں، اسی وجہ سے فقہائے کرام نے بیڑی سگریٹ نوشی اور گٹکا کھانے کو مکروہ تحریمی لکھا ہے،
آج امت کے اندر بڑے طبقے میں یہ ایک غذا کی شکل بن گئی ہیں، جو اس کا عادی ہوتا ہے اس کو کھانا نہ ملے تو کوئی حرج نہیں لیکن بیڑی، سگریٹ، اور گٹکا کے بغیر وہ جی نہیں سکتا، اب ہم خود غور کریں کہ جس میں سراسر نقصان ہی نقصان ہو ایک پیسے کا بھی نفع نہ ہو اور دوسروں کو جس سے تکلیف ہوتی ہو ایسے اشیاء استعمال کر کے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو بجائے راضی کرنے کے ناراض ہمارے مقدر ہو رہی ہے، اب اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علی علیہ وسلم کو ناراض کر کے زندگی گزاریں گے تو آخر اللہ کے سامنے حاضر بھی تو ہونا ہے، اس وقت ہم اپنے خالق حقیقی کو کیا منہ دکھلائیں گے
*حرف آخر*
میں امت کے اس طبقے سے ہاتھ جوڑ کر گوش گزار ہوں کہ اس لعنت سے نکل کر اپنی آخرت کو بنانے اور سنوارنے کی کوشش کریں، کیونکہ نشے کے زہر سے نسلِ نو مر رہی ہے، انسانیت دم توڑ رہی ہے، قوم کے مقدر کا درخشندہ ستارہ روبہ زوال ہے، اسی لئے دیگر تنظیموں کی طرح سبھی کو اس مہم کو لے کر آگے بڑھنا ہوگا، پولیس کو فعال اور متحرک ہوکر اس برائی کو روکنا ہو گا، اور حکومت اور خفیہ ایجنسیوں کو چاہیے کہ وہ انسانیت کے سوداگروں کو بے نقاب کریں، اور والدین کو اپنی اولاد کی ہر نقل و حرکت پر کڑی نظر رکھنی ہو گی، اگر اس طرح مکمل تیاری کی جائے تو ہوسکتا ہے یہ تلاطم خیز سیلاب تھم سکے، ورنہ وہ دن دور نہیں جب ایک گھر کے چار افراد میں سے ایک پر شراب کی پھٹکار، دوسرا گٹکے کا بیمار، تیسرا سگریٹ کی لعنت میں گرفتار، اور چوتھا ڈر کس کا شکار ہو گا، ہم دعا گو ہیں کہ اللہ ہم سب کو نشے کی لعنت میں ملوث ہونے سے حفاظت فرمائے اور ہماری نسلوں کو تاقیامت اس برائی سے محفوظ رکھے، اور دین کی صحیح سمجھ بوجھ عطا فرمائے، (آمین)

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading