🟠 ناندیڑ کی انعامی زمینوں پر حکومت کو فیصلہ واپس لینے کا مطالبہ
ناندیڑ: 25 جون (ورق تازہ نیوز)
📍 مسئلے کا آغاز
ناندیڑ شہر کے اسد اللہ آباد علاقے کی انعامی زمینوں سے متعلق فیصلے کا اختیار اب حکومت کے پاس چلا گیا ہے۔ اس کے باعث وہاں کے مقامی رہائشی ایک بار پھر معاشی بحران میں پھنس گئے ہیں۔ اس مسئلے کو مدنظر رکھتے ہوئے، انعامی زمین کے فیصلے کا تمام اختیار دوبارہ ضلع کلکٹر کو سونپنے کی مانگ ایم ایل اے بالاجی راو کلیانکر نے محصول وزیر چندرشیکھر باونکولے سے کی ہے۔
🗣️ عوام کی نمائندگی میں کلیانکر کی تکرار
شہریوں کے مفاد میں ایم ایل اے کلیانکر نے وزیر سے تکرار کرتے ہوئے زور دیا کہ یہ اختیار دوبارہ کلکٹر کو دیا جائے، جس پر اب سیاسی حلقوں میں بحث شروع ہوگئی ہے۔ اس انعامی زمین کا معاملہ گزشتہ کئی برسوں سے زیر التوا تھا۔ ان زمینوں کی وجہ سے مقامی باشندوں کو مالکانہ حقوق حاصل کرنے، تعمیرات کے اجازت نامے حاصل کرنے اور دیگر قانونی معاملات میں شدید دقتوں کا سامنا تھا۔ اسی کے پیش نظر ناندیڑ شمالی حلقے کے رکن اسمبلی بالاجی راو کلیانکر نے یہ معاملہ وزیر محصول کے سامنے پیش کیا۔ کلیانکر نے ملاقات کے دوران وزیر کے سامنے واضح الفاظ میں یہ مسئلہ رکھا اور مقامی شہریوں کو انصاف دلانے کے لیے مطالبہ کیا کہ انعامی زمینوں کا فیصلہ کرنے کا اختیار دوبارہ ضلع کلکٹر کو دیا جائے۔
📄 2019 کا سرکاری فیصلہ اور اس کے اثرات
وزیر باونکولے کو دیا گیا میمورنڈم بھی اسی مطالبے پر مبنی تھا۔ واضح رہے کہ مارچ 2019 میں حکومت نے فیصلہ کیا تھا کہ اسد اللہ باد کے س۔ن۔ 34، 28 اور 29/1 جیسے سروے نمبروں میں شامل انعامی زمینوں سے متعلق فیصلہ صرف حکومت کرے گی، اور کلکٹر کے اختیارات کو محدود کر دیا گیا تھا۔ اس فیصلے کے بعد مقامی رہائشیوں کو زمین کے کاغذات، نام درج کروانے، خرید و فروخت جیسے بنیادی حقوق میں سخت دشواریاں ہونے لگیں۔ ایم ایل اے کلیانکر نے واضح کیا کہ ان مشکلات کی وجہ سے عوام میں شدید ناراضگی ہے، اور عوامی دباو¿ کو دیکھتے ہوئے حکومت کو چاہیے کہ 2019 کا فیصلہ واپس لے اور اختیارات دوبارہ ضلع کلکٹر کو دے۔
📡 مزید شہری و علاقائی خبروں کے لیے ہمارے ساتھ جڑے رہیے
نا ندیڑ:25جون( ورق تازہ نیوز)ناندیڑ شہر کے اسد اللہ آباد علاقے کی انعامی زمینوں سے متعلق فیصلے کا اختیار اب حکومت کے پاس چلا گیا ہے۔ اس کے باعث وہاں کے مقامی رہائشی ایک بار پھر معاشی بحران میں پھنس گئے ہیں۔ اس مسئلے کو مدنظر رکھتے ہوئے، انعامی زمین کے فیصلے کا تمام اختیار دوبارہ ضلع کلکٹر کو سونپنے کی مانگ ایم ایل اے بالاجی راو کلیانکر نے محصول وزیر چندرشیکھر باونکولے سے کی ہے۔
شہریوں کے مفاد میں ایم ایل اے کلیانکر نے وزیر سے تکرار کرتے ہوئے زور دیا کہ یہ اختیار دوبارہ کلکٹر کو دیا جائے، جس پر اب سیاسی حلقوں میں بحث شروع ہوگئی ہے۔اس انعامی زمین کا معاملہ گزشتہ کئی برسوں سے زیر التوا تھا۔ ان زمینوں کی وجہ سے مقامی باشندوں کو مالکانہ حقوق حاصل کرنے، تعمیرات کے اجازت نامے حاصل کرنے اور دیگر قانونی معاملات میں شدید دقتوں کا سامنا تھا۔اسی کے پیش نظر ناندیڑ شمالی حلقے کے رکن اسمبلی بالاجی راو کلیانکر نے یہ معاملہ وزیر محصول کے سامنے پیش کیا۔ کلیانکر نے ملاقات کے دوران وزیر کے سامنے واضح الفاظ میں یہ مسئلہ رکھا اور مقامی شہریوں کو انصاف دلانے کے لیے مطالبہ کیا کہ انعامی زمینوں کا فیصلہ کرنے کا اختیار دوبارہ ضلع کلکٹر کو دیا جائے۔
وزیر باونکولے کو دیا گیا میمورنڈم بھی اسی مطالبے پر مبنی تھا۔واضح رہے کہ مارچ 2019 میں حکومت نے فیصلہ کیا تھا کہ اسد اللہ باد کے س۔ن۔ 34، 28 اور 29/1 جیسے سروے نمبروں میں شامل انعامی زمینوں سے متعلق فیصلہ صرف حکومت کرے گی، اور کلکٹر کے اختیارات کو محدود کر دیا گیا تھا۔اس فیصلے کے بعد مقامی رہائشیوں کو زمین کے کاغذات، نام درج کروانے، خرید و فروخت جیسے بنیادی حقوق میں سخت دشواریاں ہونے لگیں۔ایم ایل اے کلیانکر نے واضح کیا کہ ان مشکلات کی وجہ سے عوام میں شدید ناراضگی ہے، اور عوامی دباو¿ کو دیکھتے ہوئے حکومت کو چاہیے کہ 2019 کا فیصلہ واپس لے اور اختیارات دوبارہ ضلع کلکٹر کو دے۔