سنیئر صحافی عبد السمیع بوبیرے انتقال کرگئے

ممبئی ،25 جون (ایجنسیز )سنئیر صحافی اور روزنامہ شامنامہ اور ہفتہ روزہ صبح اُمید کے مدیر82سالہ عبدالسمیع بوببرے کا انتقال ہوگیا،انہوں نے اُردو صحافت کے ساتھ ساتھ خلیجی ممالک کے متعلق ایک انگریزی میگزین انڈوگلف کی بھی اشاعت کی اور سیہوگ نامی غیر سرکاری تنظیم کے ذریعے بھی سماجی اور تعلیمی خدمات انجام دیتے رہے۔مرحوم کے پسماندگان میں بیٹے احمربوبیرے اور تین بیٹیاں ہیں۔ مرحوم کی تدفین آج بعد نماز مغرب جنوبی ممبئی میں واقع بڑا قبرستان میں عمل میں آئی،

اس موقع پر انجمن اسلام کے اعزازی سکریٹری اور ان کے بھانجے عتیق حفیظ،صدرانجنن اسلام ڈاکٹر ظہیر قاضی ،اردوٹائمزکے مدیرسعید احمد،پارٹنر سہیل سعید احمد ،روزنامہ ہندوستان کے مدیر سرفراز آرزو،صحافی ندیم صدیقی،جاویدجمال الدین ،فعاد پاٹکا ،عبیدخان ،یوسف شیخ اور شہر کے معززین،صحافی اور سیاسی شخصیات شامل رہیں۔عبدالسمیع بوببرے کے انتقال کی خبر سے اُردو دنیا صدمہ سے دوچار ہے کیونکہ انہوں نے ہمیشہ نوجوان صحافیوں کی حوصلہ افزائی کی۔مرحوم سمیع بوبیرے کے والد عبدالحمید بوبیرے نے اردو صحافت میں ہفتہ روزہ صبح امیدشائع کیا اور ادبی،فلمی اور سماجی خبروں کے لیے ہاتھوں ہاتھ لیا جاتا تھا۔

اس طرح طویل عرصے تک انہوں نے اردو کی خدمات انجام دی تھی اور عبدالسمیع بوببرے نے بھی صبح امید کو جاری وساری رکھا،لیکن اردو وقت کے ساتھ اسے بھی دوسرے رسالوں اور اخبارات کی طرح بند کرناپڑا۔لیکن ان حالات میں بھی 1990کے عرصے میں عبدالسمیع بوبیرے نے شام نامہ جاری کیا تھا، کچھ وقت کے لیے روزنامہ انقلاب میں بھی خدمات انجام دی۔کوکنی برادری سے تعلق رکھنے کی وجہ جامع مسجد ٹرسٹ ممبئی میں ٹرسٹی رہے۔

اردوجرنلسٹ ایسوسی ایشن کے جنرل سکریٹری سرافراز آرزو نے سمیع بوبیرے کے انتقال پر گہرے رنج وغم کا اظہار کیا ہے ۔انہوں نے کہاکہ یہ اُردو صحافت کے لیے ایک ناتلافی نقصان ہے۔کیونکہ انہوں نے نصف صدی کے عرصہ تک صحافت کی خدمت کی اور اُردو کے ساتھ ساتھ مراٹھی اور ہندی صحافیوں میں بھی یکساں مقبول رہے۔

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading