معلومات کے حق (RTI) قانون میں مجوزہ تبدیلیوں کے خلاف انا ہزارے کا سخت موقف، بھوک ہڑتال کی وارننگ

احمد نگر/ممبئی: معروف سماجی کارکن اور بدعنوانی مخالف تحریک کے رہنما انا ہزارے نے معلومات کے حق (RTI) قانون میں مجوزہ تبدیلیوں کے خلاف سخت ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے حکومت کو واضح انتباہ دیا ہے کہ اگر متنازع ترامیم فوری طور پر واپس نہ لی گئیں تو وہ دوبارہ بھوک ہڑتال شروع کریں گے۔

انا ہزارے نے کہا کہ آر ٹی آئی قانون عام شہریوں کو حکومت اور سرکاری اداروں سے جواب طلب کرنے کا ایک مؤثر اور بنیادی حق فراہم کرتا ہے۔ اس قانون نے ملک میں شفافیت، جوابدہی اور بدعنوانی کے خلاف جدوجہد کو مضبوط کیا ہے، لہٰذا اس کے دائرہ کار کو محدود کرنے یا اسے کمزور کرنے کی کوئی بھی کوشش عوامی مفاد کے خلاف ہوگی۔

انہوں نے الزام لگایا کہ مجوزہ تبدیلیاں معلومات کے حق کے قانون کی اصل روح کو متاثر کر سکتی ہیں اور شہریوں کے معلومات حاصل کرنے کے آئینی حق کو کمزور بنا سکتی ہیں۔ انا ہزارے نے کہا کہ آر ٹی آئی کسی حکومت یا ادارے کی ملکیت نہیں بلکہ عوام کا حق ہے، اس لیے اس کا "تجارتی یا انتظامی مفادات” کے تحت استعمال محدود نہیں کیا جانا چاہیے۔

سماجی کارکن نے مرکزی اور ریاستی حکومتوں سے مطالبہ کیا کہ وہ عوامی جذبات کا احترام کرتے ہوئے ان تبدیلیوں پر نظرثانی کریں اور انہیں فوری طور پر واپس لیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگر حکومت نے ان کے مطالبات کو سنجیدگی سے نہ لیا تو وہ عوامی تحریک کے ساتھ بھوک ہڑتال کا راستہ اختیار کریں گے۔

سیاسی مبصرین کا ماننا ہے کہ انا ہزارے کے اس اعلان کے بعد حکومت کے لیے ایک نئی مشکل پیدا ہو سکتی ہے، کیونکہ آر ٹی آئی کا معاملہ براہِ راست شفافیت اور عوامی حقوق سے جڑا ہوا ہے۔ انا ہزارے ماضی میں بھی بدعنوانی کے خلاف اپنی تحریکوں کے ذریعے حکومتوں پر دباؤ ڈالنے میں کامیاب رہے ہیں، جس کے باعث ان کی تازہ وارننگ کو بھی اہمیت دی جا رہی ہے۔

اب ریاست اور ملک بھر کی نظریں حکومت کے اگلے قدم پر مرکوز ہیں کہ آیا وہ انا ہزارے کے اعتراضات کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے مجوزہ تبدیلیوں پر نظرثانی کرے گی یا پھر یہ معاملہ ایک نئی عوامی تحریک کی شکل اختیار کرے گا۔

جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق آر ٹی آئی درخواست کی فیس 10 روپے سے بڑھا کر 30 روپے کر دی گئی ہے، جبکہ معلومات کی نقول حاصل کرنے کے لیے فی صفحہ فیس 2 روپے سے بڑھا کر 5 روپے مقرر کی گئی ہے۔

نئے قواعد کے تحت ایک درخواست میں صرف ایک ہی موضوع سے متعلق معلومات طلب کی جا سکیں گی۔ اس کے علاوہ درخواست کی حد 150 الفاظ مقرر کی گئی ہے، جس کے باعث درخواست گزاروں کو اپنی معلوماتی درخواست انتہائی مختصر انداز میں پیش کرنا ہوگی۔

حکومت نے درخواست گزار کے لیے فوٹو شناختی کارڈ جمع کرانا بھی لازمی قرار دیا ہے۔ مزید برآں، پہلے اپیل کے لیے 50 روپے اور دوسرے اپیل کے لیے 100 روپے فیس مقرر کی گئی ہے، جب کہ اس سے قبل اپیل کا عمل مفت تھا۔

نوٹیفکیشن میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر مطلوبہ معلومات پہلے سے کسی سرکاری ویب سائٹ پر دستیاب ہوں تو درخواست گزار کو وہیں سے معلومات حاصل کرنے کی ہدایت دی جائے گی۔ اسی طرح کسی فرد کی ذاتی معلومات حاصل کرنے کے لیے درخواست گزار کو یہ ثابت کرنا ہوگا کہ اس معلومات کا حصول عوامی مفاد میں ہے۔

ایک اور اہم تبدیلی کے تحت اگر درخواست گزار اپیل کی سماعت کے دوران بار بار غیر حاضر رہتا ہے تو اس کی اپیل مسترد کی جا سکے گی۔

ان تبدیلیوں کے خلاف متعدد سماجی کارکنوں اور آر ٹی آئی تنظیموں نے اعتراضات اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ترامیم حقِ معلومات کے قانون کی بنیادی روح کے منافی ہیں اور شفافیت کے عمل کو کمزور کر سکتی ہیں۔ معروف سماجی کارکن انا ہزارے نے بھی ان تبدیلیوں پر سخت اعتراض کرتے ہوئے حکومت سے انہیں فوری واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے اور بصورت دیگر احتجاج اور بھوک ہڑتال کی وارننگ دی ہے۔

سیاسی اور سماجی حلقوں میں اب یہ بحث زور پکڑ رہی ہے کہ آیا یہ ترامیم انتظامی اصلاحات کے لیے ضروری ہیں یا پھر ان سے شہریوں کے معلومات تک رسائی کے بنیادی حق پر قدغن لگے گی۔ حکومت کے آئندہ موقف پر عوام اور سماجی تنظیموں کی گہری نظر ہے۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading