ایران اور امریکہ کے اعلیٰ حکام کے درمیان مذاکرات کا پہلا دور مکمل ہونے کے بعد ایرانی وفد مذاکراتی مقام یعنی سوئٹزرلینڈ سے وطن واپس روانہ ہو گیا ہے، جبکہ تکنیکی سطح کے مذاکرات رواں ہفتے برگن سٹاخ میں جاری رہیں گے۔
اس معاہدے میں ثالث کا کردار ادا کرنے والے قطر اور پاکستان نے چند گھنٹے قبل مشترکہ اعلامیے میں کہا کہ ’اسلام آباد مفاہمتی یادداشت‘ کے تحت اعلیٰ سطحی مذاکرات کا پہلا اجلاس سوئٹزرلینڈ کے علاقے برگن سٹاخ میں اختتام پذیر ہو گیا ہے۔
مشترکہ اعلامیے کے مطابق برگن سٹاخ ریزورٹ میں تکنیکی مذاکرات رواں ہفتے جاری رہیں گے۔
ثالث ممالک کے مطابق ایران اور امریکہ کے درمیان ایک ایسے روڈ میپ پر اتفاقِ رائے ہو گیا ہے جس کے تحت آئندہ 60 روز میں حتمی معاہدے تک پہنچنے کی کوشش کی جائے گی۔
قطر اور پاکستان نے مزید بتایا کہ تہران اور واشنگٹن آبنائے ہرمز میں کسی بھی ممکنہ واقعے یا غلط فہمی سے بچنے کے لیے ایک "مواصلاتی رابطہ نظام” (لائن آف کمیونیکیشن) قائم کرنے پر بھی متفق ہو گئے ہیں۔
دوسری جانب ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری اپنے بیان میں سوئٹزرلینڈ مذاکرات میں "نمایاں پیش رفت” کا اعلان کیا۔
عباس عراقچی نے کہا کہ ایرانی تیل اور پیٹروکیمیکل مصنوعات کی برآمدات پر عائد پابندیاں معطل کر دی گئی ہیں اور بحری ناکہ بندی کا خاتمہ ہو گیا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ایران کے بعض منجمد اثاثے بھی جاری کر دیے گئے ہیں۔