ناندیڑ:(ورق تازہ نیوز) مراٹھواڑہ کے طلبہ کے تعلیمی و پیشہ ورانہ نقط نظر سے پونے ایک نہایت اہم شہر بن چکا ہے۔ ناندیڑ سے پونے روزانہ کئی آئی ٹی پیشہ وران اور طلبہ آتے جاتے ہیں۔ تاہم موجودہ صورتحال میں ناندیڑ تا پونے دن بھر میں ایک بھی براہِ راست ریل گاڑی دستیاب نہ ہونے کے سبب مسافروں کو شدید ذہنی اذیت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ایسی صورتِ حال میں ناندیڑ-پونے-ناندیڑ وندے بھارت ایکسپریس ریل گاڑی کو ناندیڑ، لاتور، عثمان آباد کے راستے شروع کیا جائے، ایسی مانگ رکن پارلیمان رویندر وسنت راو¿ چوہان نے ریلوے وزیر اشونی ویشنو سے ایک مکتوب کے ذریعے کی ہے۔ خوش آئند بات یہ ہے کہ ریلوے وزیر نے اس مطالبے کو مثبت طور پر قبول کرتے ہوئے عندیہ دیا ہے کہ رواں برس دسمبر تک ناندیڑ-پونے وندے بھارت سروس شروع کی جائے گی۔
رکن پارلیمنٹ رویندر چوہان نے اپنے مکتوب میں ذکر کیا ہے کہ اگر یہ نئی وندے بھارت ریل سروس ناندیڑ، لاتور، عثمان آباد کے راستے شروع کی گئی تو مراٹھواڑہ کے لاکھوں مسافروں کو بڑا فائدہ ہوگا۔ اس راستے کا فاصلہ تقریباً 550 کلومیٹر ہے۔مزید برآں، پنوہل-ناندیڑ ٹرین (نمبر 17613) کی رفتار میں بھی اضافہ کیا جانا چاہیے۔ فی الحال یہ ٹرین پنویل سے دوپہر 4 بجے روانہ ہو کر اگلے دن صبح 8:45 بجے ناندیڑ پہنچتی ہے، اور 646 کلومیٹر کا سفر بجلی سے چلنے والے انجن کے ذریعے طے کرتی ہے۔ پنویل تا کودووڈی کا 303 کلومیٹر کا فاصلہ 6 گھنٹے 20 منٹ میں طے ہوتا ہے، جبکہ کودووڈی تا ناندیڑ 370 کلومیٹر کا سفر 10 گھنٹے 20 منٹ میں مکمل ہوتا ہے، جس کے باعث ٹرین ناندیڑ میں تاخیر سے پہنچتی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ لاتور روڈ اور پرلی ویشوناتھ ریلوے اسٹیشن پر انجن بدلنے کے لیے درکار وقت کم کرنے کی غرض سے ان دونوں اسٹیشنوں پر چوڑی لائین (Double Line) بچھانا ضروری ہے۔
اس اقدام سے 10 تا 12 ٹرینوں کو فائدہ ہوگا، سفر کا وقت کم ہوگا اور ریلوے کو مالی فائدہ بھی حاصل ہوگا۔انہوں نے ریلوے وزیر کو یاد دلاتے ہوئے کہا کہ احمد نگر-بیڑ ریلوے لائن شروع ہو چکی ہے اور بیڑ-پرلی ویشوناتھ ریلوے لائن دسمبر 2025 تک شروع ہونے کی امید ہے۔ اس موقع پر انہوں نے ناندیڑ-پرلی ویشوناتھ-بیڑ-احمد نگر-پونے کے راستے نئی دہلی کے لیے ایک نئی ریل گاڑی شروع کرنے کا بھی مطالبہ کیا، جو کہ مراٹھواڑہ کے مسافروں کی دیرینہ خواہش ہے۔ اس مطالبے کو بھی منظوری دی جائے، یہ اپیل انہوں نے مکتوب میں کی ہے۔