ناندیڑ:یکم ڈسمبر (ورق تازہ نیوز) مہاراشٹرمیں شیوسینا‘ این سی پی اور کانگریس پارٹی کی موجودہ حکومت تشکیل پانے پرسینئر اور موظف مدرس خورشیداحمدنے اطمینان کااظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس حکومت کی تشکیل سے ریاست کے سبھی مذاہب ‘فرقوں اور طبقات کے عوام کی ترقی کی نئی راہیں نکل آئی ہیں ۔ بلا شبہ یہ ایک سیکولر حکومت ہے جو ملک کے دستور کے مطابق کام کرے گی ۔
خورشیداحمد نے اکتوبر 2017ء میں ناندیڑ کے گورنمنٹ ریسٹ ہاوس میں قدآور قائد شرد پوار سے اپنی ملاقات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ انھوں نے شردپوار سے اس وقت کے سیاسی حالات پرتبادلہ خیال کیا تھا ۔خورشیداحمد نے این سی پی قائد شردپوار سے کہاتھا کہ نوٹ بندی اور جی ایس ٹی کے نفاذ سے پورے ملک کے عوام پریشان ہیں۔سماج میں انتشار پایاجاتا ہے ۔
مرکزی بی جے پی حکومت میں سیکولر دستور ہند کے ساتھ کھلواڑ کیا جارہا ہے ۔ اور ہماری نظر میں آپ (شردپوار) ایک ایسی سیاسی شخصیت ہے جو سماج کو موجودہ انتشار سے باہر نکال سکتی ہے ۔ نہ صرف مہاراشٹر بلکہ پورا ملک آپ کی طرف امید بھری نظروں سے دیکھ رہا ہے کیونکہ آپ ایک ڈائنامک شخصیت ہیں ۔ اس کے بعد شردپوار نے خورشیداحمد کا شکریہ ادا کرتے ہوئے انھیں اُن کے رابطے میں رہنے کےلئے کہا تھا ۔
خورشید احمد کا کہنا ہے کہ آج مہاراشٹر میں جو سیاسی منظر نامہ تبدیل ہوا ہے اس کاسارا کریڈٹ شردپوار کوجاتا ہے اور یہ کہنا بے جا نہ ہوگا اس وقت جو باتیں انھوں نے پوار صاحب سے کہی تھیں شاید وہ پوار صاحب کے ذہن میں رہی ہوں گی۔