ناندیڑ ممبئی :17جنوری(ورق تازہ نیوز)دہشت گردی کے الزامات کے تحت گرفتار ناندیڑ کے ایک مسلم نوجوان کی ضمانت عرضداشت پر ممبئی ہائی کورٹ میں گذشتہ کل سماعت عمل میںآئی جس کے دوران دورکنی بینچ نے سیشن عدالت میں قائم خصوصی عدالت سے مقدمہ کے تعلق سے رپورٹ طلب کی تاکہ مقدمہ کی سماعت میں ہونے والی تاخیر کا جائزہ لیا جاسکے کیونکہ استغاثہ نے دیڑ ھ سال قبل مقدمہ کی سماعت ۸ ماہ میں مکمل کیئے جانےکا دعوی کیا تھا لیکن آج دیڑ ھ سال سے زائد کا عرصہ گذر جانے کے باوجود معاملے کی سماعت ختم ہونے سے کوسوں دور ہے ۔ ملزم عرفان محمد غوث کو قانونی امداد فراہم کرنے والی تنظیم جمعیة علماءمہاراشٹر (ارشد مدنی) کی جانب سے داخل کردہ ضمانت عرضداشت پر جسٹس اے ایس اوک اور جسٹس اے ایس گڈکری کے روبرو سماعت عمل میں آئی جس کے دوران ایڈوکیٹ مبین سولکر نے عدالت کو بتایا کہ ہائی کورٹ نے ایک سال قبل ملزم کو ضمانت اس شرط پر نہیں دینے کا حکم دیا تھا کہ خصوصی این آئی اے عدالت آٹھ ماہ میں مقدمہ کی سماعت مکمل کرلے گی لیکن اب جبکہ دیڑھ سال سے زائد کا عرصہ گذرچکا ہے این آئی اے عدالت مقدمہ فیصل کرنے میںناکام ثابت ہوئی اور مستقبل قریب میں مقدمہ فیصل ہونے کے امکانات معدوم ہیں کیونکہ دیڑھ سو گواہوں میں سے صرف پچاس گواہوں نے ہی ابتک عدالت میں گواہی دی ہے۔ایڈوکیٹ مبین سولکر نے عدالت کو بتایا کہ مقدمہ کی سماعت مکمل ہونے میں ہونے والی تاخیر کا ذمہ دار ملزم نہیں ہے اور نہ ہی دفاعی وکلاءکی وجہ سے مقدمہ کی سماعت مکمل نہیں ہوسکی بلکہ این آئی اے عدالت میں سرکاری گواہوں کو پیش کرنے میں ناکام ثابت ہوا ہے۔ایڈوکیٹ مبین سولکر نے عدالت کو بتایا کہ ملزم کو جیل میں چھ سال سے زائد کا عرصہ گذر چکا ہے اور جس طرح سے این آئی اے عدالت کا م کررہی ہے اس مقدمہ کو مکمل ہونے میں ایک طویل وقفہ درکا ر ہوگا لہذا ملزم کو ضمانت پر رہا کیا جائے۔ایڈوکیٹ مبین سولکر کی بحث کے بعد دو رکنی بینچ نے خصوصی این آئی اے عدالت کے جج کوٹھلیکر سے ۳۲ جنوری سے قبل تفصیلی رپورٹ ہائی کورٹ میں پیش کرنے کا حکم دیتے ہو ئے معاملے کی سماعت ملتوی کردی۔دوران سماعت ہائی کورٹ میں ایڈوکیٹ مبین سولکر کی معاونت کے لیئے ایڈوکیٹ شاہد ندیم اور ایڈوکیٹ زارا سلاتی، ایڈوکیٹ ابھیشک پانڈے و دیگر موجود تھے۔واضح رہے چھ سا ل قبل مہاراشٹر انسداد دہشت گرد دستہ نے مہاراشٹر کے ناندیڑ ضلع سے پانچ مسلم نوجوان محمد مزمل عبدالغنی، محمد صادق محمد فاروق، محمد الیاس محمد اکبر، محمد عرفان محمد غوث اور محمد اکرم محمد اکبر کو غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام سے متعلق قانون کی دفعات ۰۱،۳۱،۵۱، اور ۶۱ اور مہلک ہتھیار رکھنے والے قانون کی دفعات ۳،۵۲ کے تحت گرفتار کیا تھا اور ان پر الزام عائد کیا تھا کہ وہ صحافیوں، سیاست دانوں اور دیگر اہم شخصیات کو نشانہ بنانے والے تھے ۔