ناندیڑ:21جولائی۔(ورق تازہ نیوز)لو ک سبھا انتخابات میں کانگریس کے رکن پارلیمنٹ اشوک راوچوہان کی بی جے پی امیدوار پرتاپ پاٹل چکھلی کر سے شکست کے بعد ناندیڑ کا سیاسی ماحول تبدیل ہوتانظرآرہا ہے ۔اورایسی اطلاع ہے کہ کانگریس پارٹی کے 23میونسپل کارپوریٹرس بی جے پی کے رابطہ میں ہے ۔ کیونکہ کانگریس کے اعلیٰ لیڈران اور کچھ کارپوریٹرس کی غیر ضروری مداخلت سے بھی یہ کارپوریٹرس عاجز ہے ۔
وارڈس کے کاموں میں جانبداری کامظاہرہ کیاجارہا اور کچھ مخصوص کارپوریٹرس پر ہی مہربانی کی جارہی ہے ۔ بالخصوص پارٹی کے سینئر کارپوریٹرس ہی کارپورریشن کے اعلیٰ افسران سے ساز بازکرکے اپنے کام نکال رہے ہیںاور نئے کارپوریٹرس کو درکنار کیاجارہا ہے ۔ ان سات تا آٹھ کارپوریٹرس کی غیر ضروری مداخلت سے یہ کارپوریٹرس ناراض ہیں ۔ ا ن ناراض کارپوریٹرس کا کہنا ہے کہ انکے تجویز کردہ کاموں پرتوجہ نہیں دی جاتی ہے جس کے نتیجہ میں انھیں عوام کی برہمی وغصہ کاسامنا کرنا پڑتا ہے ۔ ناندیڑکارپوریشن پر کانگریس کاقبضہ ہے اور 73کارپوریٹرس منتخب ہوئے ہیں لیکن چنندہ کارپوریٹرس اورکچھ موجودہ و سابقہ عہدیداران ہی سارا کام کاج دیکھتے ہیں اس طرح کی شکایت متعلقہ کارپوریٹرس کررہے ہیں ۔
دوسری جانب لوک سبھا چناو میں اشوک راوچوہان کو ناندیڑ شہرکے کچھ وارڈوں میں کم ووٹ ملے ہیں جسکے لئے یہی کارپوریٹرس ذمہ دار ہے اس لئے پارٹی اُن پر شک وشبہہ کی نظر دیکھ رہی ہے ۔کانگریس پارٹی کے اس رویہ سے عاجز 23کارپوریٹرس بی جے پی میں جلد شمولیت اختیار کریں گے اس طرح کااشارہ بی جے پی کارپوریٹر دیپک سنہہ راوت نے دیا ہے ۔