ناندیڑ:وارڈنمبر13(D)میں”وقار“ کی جنگ میں کانگریس نے مجلس کوہرایا

ناندیڑ:6فروری۔(ورق تازہ نیوز)زون نمبر 13(D) چوپالہ مدینہ نگر کے ضمنی چناو کےلئے آج 7 فروری کو رائے شماری عمل میں آئی۔جس میںکانگریس کے امیدوار جناب عبدالغفار عبدالستار نے 6025 ووٹ لیکر اپنے حریف مجلس اتحاد المسلمین کے امیدوار صابر چاو¿ش کو شکست دی۔ صابر چاو¿ش کُل 4159 ووٹ حاصل کرکے دوسرے مقام پر رہے.۔اس زون میں ک±ل 20 ہزار 464 ووٹرس ہیں۔ 10 ہزار 661 ووٹر س نے رائے دہی میں حصہ لیا تھا۔

24رائے دہی مراکز پر ووٹرس نے ووٹ ڈالے تھے۔ آج صبح دس بجے اسٹیڈیم کے احاطہ میں چار ٹیبل پر چھ مرحلوں میں ووٹوںکی گنتی کاعمل مکمل ہوا ۔اس حلقہ سے چھ امیدورار انتخابی میدان میں تھے۔جن کے محصولہ ووٹوں کی تفصیلات اس طرح ہے۔ عبدالغفارعبدالستار 6025(کانگریس)‘ امر لالہ 87 ‘(آزاد)‘ مظہر25(آزاد)‘محمدصابرچاوس 4519(مجلس) ‘ پٹھان ظفرعلی خاں 60(انڈین ڈیموکریٹک موومنٹ) ‘ عبدالعزیز قریشی 6۔جبکہ 299 ووٹرس نے نوٹا بٹن کااستعمال کیا ۔عبدالغفار کو کامیابی کے بعد ریٹرئنگ آفیسر وسب ڈویژنل آفیسر لطیف پٹھان کے ہاتھوں سرٹیفکیٹ دیاگیا ۔

اس انتخابی عمل میں ریٹرئنگ آفیسر کی حیثیت سے لطیف پٹھان ‘معاون ریٹرئنگ آفیسر کے طور پر ڈاکٹر ارون جرہاڑ‘ تحصیلدار‘جناب غلام صادق اسسٹنٹ کمشنر نے خدمات انجام دیں ۔ اس کے علاوہ دیگر ملازمین نے بھی انکا تعاون کیا ۔اس زون کے انتخابات پر ناندیڑ ضلع کی نظریںمرکو زتھی ۔کانگریس اور ایم آئی ایم کے بالخصوص صابرچاوس کےلئے یہ چناو وقارکامسئلہ بن گیاتھا۔واضح رہے کہ اس زون کے چار حلقوں پر کانگریس کاقبضہ تھا لیکن اسمبلی انتخابات کے وقت صابرچاوس نے کارپوریشن کی رکنیت اور پارٹی سے استعفیٰ دے کر مجلس میںشمولیت اختیار کرلی تھی ۔ اس لئے اس حلقہ D کی مخلوعہ نشست کیلئے دوبارہ انتخابات ہوئے ۔اس حلقہ میں کانگریس کی طاقت مضبوط ہے اسلئے ابتدا سے کہاجارہاتھا کہ اس مرتبہ صابرچاوس کوانتخاب میںکامیابی آسان نہیں ہوگی ۔ اسکے علاوہ اس حلقہ میں ہند و ووٹرس کی تعداد بھی تقریبا چار ہزارسے زائدتھی لیکن شیوسینا اور بی جے پی سے کوئی بھی امیدوار انتخابی میدان میں نہیں تھا ۔ شیوسینا امیدوار نے پرچہ نامزدگی داخل کیاتھا لیکن بعد میں واپس لے لیا ۔اس لئے اکثریتی طبقہ کے ووٹ کس پارٹی کے حق میںجائیںگے یہ بڑا سوال تھا لیکن کانگریس نے مہاویکاس اگھاڑی میںشامل شیوسینا کے لیڈران سے بات چیت کی جس کافائدہ یقینا کانگریس امیدوار کو ہوااور انکی کامیابی میں اکثریتی طبقہ کے ووٹرس کا کافی اہم رول رہا ۔صابرچاوس نے بھی مجلس کے بینرتلے چار ہزار ووٹ حاصل کئے جوپارٹی اورصابرچاوس کے لئے اچھی بات ہے ۔لیکن انتخابات میںتوہارجیت دیکھی جاتی ہے اور عبدالغفار نے صابرچاوس کو تقریبا1800 ووٹوںسے شکست دی ۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading