ناندیڑ:مراٹھاریزرویشن کیلئے ایک شخص نے جان دی

ناندیڑ:30اگست ( ورق تازہ نیوز) ایک اور 33 سالہ نوجوان نے جمعرات کی رات مراٹھا ریزرویشن کے لیے ایک خودکشی نوٹ لکھ کر اپنی زندگی کا خاتمہ کر لیا، جس میں لکھا تھا کہ "بچوںکو پوری طرح تعلیم نہیں مل رہی ہے، مراٹھا برادری کو ریزرویشن نہیں مل رہا ہے”۔ یہ واقعہ ناندیڑ ضلع کے اردھا پور تعلقہ کے ساورگاو¿ں میں پیش آیا اور مرنے والے کا نام کشن بابو راوآبدار ہے۔

یہ بات سامنے آئی ہے کہ تعلقہ کے ساورگاوں کے کشن بابو راو آبدار نے مراٹھا ریزرویشن کے لیے اپنی زندگی کا خاتمہ کر لیا۔ کشن نے جمعرات کی رات اپنی رہائش گاہ میں پھانسی لگادی اور ایک خط لکھا جس میں کہاگیا کہ "میں بچوں کی تعلیم میں ناکام ہو رہا ہوں، مراٹھا برادری کو ریزرویشن دیا جانا چاہیے”۔ ان کے پسماندگان میں اہلیہ، ایک سات سالہ بیٹا اور ایک چھ سالہ بیٹی ہے۔ اطلاع ملتے ہی پولیس انسپکٹر چندر شیکھر کدم نے جائے حادثہ کا دورہ کیا۔

سبودھ آبدار کی اطلاع پر اردھا پور تھانے میں معاملہ درج کیا گیا ہے۔ مزید تفتیش تکارام بوئن واڑ کررہے ہیں۔ساورگاو¿ں مراٹھا ریزرویشن تحریک کا ایک اہم گاو¿ں مناناجاتا ہے ۔ یہاں کے گاو¿ں والے ریزرویشن کی جدوجہد میں سرگرم تھے اور خواتین نے بھی سلسلہ وار بھوک ہڑتال میں حصہ لیا۔

دریں اثنا، اگست 2018 کو ساورگاوں کے گنپت باپو راو آبدار نے مراٹھا برادری کے لیے ریزرویشن حاصل کرنے کے لیے چھت سے چھلانگ لگا کر خودکشی کر لی۔ ان کے خاندان کو حکومت کی طرف سے دس لاکھ کی امداد ملی ہے۔ اس وقت ان کی بیوی مناکرنا گنپت آبدار (38) اسٹیٹ ٹرانسپورٹ بورڈ ناندیڑ میں کام کر رہی ہیں۔ا

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading