ناندیڑ:16 ستمبر:(ورق تازہ نیوز) ناندیڑ کے معروف تعلیمی ادارہ مدینتہ العلوم ہائی اسکول میں "اوزون کے تحفظ کا بین الاقوامی دن” کے موقع پر شعور بیداری پروگرام کا انعقاد صدر معلّمہ ثمینہ انجم صاحبہ اور انچارج اساتذہ سیّد جاوید علی اور خان نکہت یاسمین صاحبہ کی زیر سرپرستی اور اساتذہ کرام محمدی عظمیٰ خان، ناہید بیگم، عبدالحسیب، محمد مکرم علی اور عبدالرّحیم کی زیر نگرانی میں عمل میں آیا. جس میں طلبہ و طالبات کو اوزون پرت کی تخفیف سے کرہ ارض پر ہونے والے نقصانات سے واقفیت کروائی گئی. معلّمات محمدی عظمیٰ خان اور ناہید بیگم نے طلبہ و طالبات کی مو¿ثر انداز میں رہنمائی کرتے ہوئے بتایا کہ انسانی سرگرمیوں اور موسمی تبدیلی کی وجہ سے اوزون پرت کی موٹائی میں کمی واقع ہو رہی ہے۔ اس مظہر کو جدید اصطلاح میں "اوزون کی تخفیف (Ozone Depletion)” کہتے ہیں۔ اوزون پرت پتلی بھی ہو رہی ہے اور بڑے پیمانے پر اس میں سوراخ بھی نمودار ہو رہے ہیں۔ جس سے زمین پر انسان ہی نہیں بلکہ تمام نباتات اور حیوانات کو خطرہ لاحق ہو چکا ہے۔ سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ انسان کے ذریعہ خارج کردہ کیمیائی مادّے اوزون پرت کو تخفیف کرنے کے ذمّہ دار ہیں۔
اس میں خاص طور پر "سی ایف سی (CFC)” اور "ایچ ایف سی (HFC)” قابل ذکر ہیں۔ ان کو اوزون ختم کرنے والے مادّے بھی کہا جاتاہے۔ کلوروفلوروکاربنس (CFC) کا اخراج ریفریجریٹر، ایرکنڈیشنز، عطریات کے اسپرے، مختلف محلل اور پیکجنگ میں استعمال ہونے والے مادّوں سے ہوتا ہے۔ انھوں نے مزید بتایا کہ سورج کی بالائے بنفشی شعاعوں سے انسانوں میں جلدی کینسر اور موتیا بند (Cataract) کی شرح میں بے انتہا اضافہ ہو رہا ہے۔ اسی طرح بالائے بنفشی شعاعوں کے تعامل سے انسانوں میں جنسیاتی (genetic) اور قوت مدافعت (immune system) کو کم کرنے کے امراض بھی درپیش ہیں۔ سورج کی بالائے بنفشی شعاعوں سے جانداروں کو مختلف قسم کے خطرات لاحق ہیں۔ اسی طرح بالائے بنفشی شعاعیں نباتات کے جسمانی نشونما اور بڑھنے کے عمل پر بالواسطہ طور پر اثر انداز ہو رہی ہیں۔ اوزون پرت کو مزید تخفیف سے بچانے کے لئے "16ستمبر 1987” کو بہت سارے ممالک کی حکومتوں نے اوزون کو نقصان پہنچانے والے مادّوں پر کم سے کم انحصار رہنے پر رضامندی ظاہر کی اور ایک معاہدہ پر دستخط کئے جسے "مونٹریئل پروٹوکول (Montreal Protocol)” کا نام دیا گیا۔
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے 1994 میں اس معاہدے کی اہمیت کو سمجھتے ہوئے مونٹرئیل پروٹوکول کی تاریخ یعنی "16ستمبر” کو ہی "اوزون کے تحفظ کا بین الاقوامی دن” منانے کا فیصلہ کیا اس دن کو منانے کا مقصد اوزون کی پرت کی اہمیت کو اجاگر کرنا ہے. صدر معلّمہ ثمینہ انجم صاحبہ نے کہا کہ سورج سے نہایت خطرناک شعاعیں خارج ہوتی ہیں وہ اگر برائے راست زمین پر پہنچ جائیں تو انتہائی خطرناک ہو سکتی ہیں۔ لہٰذا اللہ تعالیٰ نے ان شعاعوں کے لئے ایک فلٹر بنایا ہے جو سورج سے نکلنے والی نہایت خطرناک شعاعوں کو زمین تک پہنچنے سے پہلے ہی فلٹر کرتی ہے، اس فلٹر کو اوزون پرت کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اوزون پرت نہ صرف اہلِ زمین کو سورج کی بالائے بنفشی شعاعوں سے محفوظ رکھتی ہے بلکہ زمین اور کرہ ہوا کی مفید اشیاء جیسے ہوا، مفید گیسیس اور پانی کو باہری فضا میں خارج ہو کر ضائع ہونے سے بھی روکتی ہے۔
انھوں نے طلباءکو ماحولیاتی آلودگی سےاوزون کو ہونے والے نقصانات سے بچاو¿ کی تدابیر اختیار کرنے کی تلقین کی۔ اس موقع پر طلبہ و طالبات نے کثیر تعداد میں شرکت کی. انھوں نے اپنے ہاتھوں میں اوزون پرت کے تعلق سے پلے کارڈز بنا کر شاندار مظاہرہ کیا. پروگرام کے اختتام پر صدر معلّمہ ثمینہ انجم صاحبہ نے جمیع تدریسی و غیر تدریسی عملے اور طلباء کے تعاون کا شکریہ ادا کیا.