بی جے پی-شیوسینا حکومت نہیں بننے پر ہم راستہ تلاش کریں گے: این سی پی ترجمان
مہاراشٹر میں سیاسی ہلچل انتہائی تیز ہے۔ میڈیا ذرائع کے مطابق این سی پی سربراہ شرد پوار نے اپوزیشن میں بیٹھنے کی بات کہی ہے لیکن این سی پی کے کچھ لیڈروں نے ایسا اشارہ دیا ہے کہ اگر بی جے پی-شیوسینا حکومت نہیں بنتی ہے تو وہ راستے تلاش کریں گے۔ این سی پی کے قومی ترجمان نواب ملک نے بھی اس تعلق سے ایک بیان دیا ہے جس میں انھوں نے کہا ہے کہ ’’اگر بی جے پی اور شیو سینا اتحاد مہاراشٹر میں حکومت نہیں بناتی ہے تو این سی پی حکومت سازی کا راستہ تلاش کرے گی۔‘‘ ساتھ ہی انھوں نے یہ بھی کہا کہ کوئی بھی پارٹی ان کے لیے اچھوت نہیں ہے۔
— Avinash (@avinash_mailme) November 2, 2019
وزیر اعلیٰ بی جے پی سے ہی ہونا چاہیے: رام داس اٹھاولے
بی جے پی نے ابھی تک شیوسینا کو وزیر اعلیٰ عہدہ دینے سے انکار ہی کیا ہے اور شیو سینا بھی بضد ہے کہ وزیر اعلیٰ ڈھائی سال کے لیے اس کی پارٹی سے ہونا چاہیے۔ اس درمیان بی جے پی لیڈروں کی کوشش ہے کہ وہ شیوسینا کے خلاف زیادہ کچھ نہ بولیں، لیکن اس درمیان ریپبلکن پارٹی آف انڈیا کے سربراہ اور بی جے پی کے حامی رام داس اٹھاولے نے واضح لفظوں میں کہا ہے کہ وزیر اعلیٰ بی جے پی سے ہی ہونا چاہیے۔ انھوں نے شیوسینا کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور کہا کہ اسے وزیر اعلیٰ عہدہ کے لیے ضد نہیں کرنی چاہیے کیونکہ بی جے پی ریاست میں بڑی پارٹی ہے۔
Ramdas Athawale, Republican Party of India on Maharashtra government formation: Chief Minister should be of Bharatiya Janata Party (BJP). #Mumbai pic.twitter.com/hsjGKtfQ0K
— ANI (@ANI) November 2, 2019
مہاراشٹر کی سڑکوں پر نظر آ رہے شرد پوار کے کئی پوسٹر، لکھا گیا ’باپ، باپ ہوتا ہے‘
زبردست سیاسی سرگرمیوں کے درمیان ریاست مہاراشٹر میں سڑکوں پر شرد پوار کے کئی پوسٹرس اور ہورڈنگز لگے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔ خبروں کے مطابق یہ ہورڈنگز این سی پی لیڈروں نے لگوائے ہے اور سا پر مراتھی زبان میں لکھا ہے ’’باپ، باپ ہوتا ہے‘‘۔ حالانکہ بی جے پی-شیوسینا کے درمیان جاری تلخیوں کے درمیان شرد پوار نے واضح لفظوں میں کہا ہے کہ انھیں عوام نے اپوزیشن میں بیٹھنے کا مینڈیٹ دیا ہے تو وہ اپوزیشن میں ہی بیٹھیں گے، لیکن اپوزیشن پارٹیوں کے کچھ لیڈران نے شیو سینا کو حمایت دے کر بی جے پی کو اقتدار سے باہر کرنے کا مشورہ دیا ہے۔ دراصل شیوسینا کسی بھی حال میں وزیر اعلیٰ عہدہ چھوڑنا نہیں چاہ رہی اور بی جے پی کو یہ منظور نہیں ہے۔
महाराष्ट्र: NCP ने कई शहरों में लगवाए शरद पवार के होर्डिग्स, लिखा- 'बाप, बाप होता है' https://t.co/d3oIaoVF83
— omprakash vyas (@opvyas11) November 2, 2019
کانگریس رکن پارلیمنٹ نے سونیا گاندھی کو خط لکھ کر شیو سینا کی حمایت کا دیا مشورہ
مہاراشٹر میں حکومت سازی کو لے کر بی جے پی-شیو سینا کے درمیان تلخیوں کے درمیان مہاراشٹر کانگریس کے لیڈر اور رکن پارلیمنٹ حسین دلوئی نے پارٹی کی قومی صدر سونیا گاندھی کو ایک خط لکھا ہے۔ اس خط کے ذریعہ دلوئی نے سونیا گاندھی کو مشورہ دیا ہے کہ مہاراشٹر میں کانگریس اتحاد کی حکومت بنانا بہتر ہوگا۔ حسین دلوئی نے واضح لفظوں میں کہا ہے کہ این سی پی، کانگریس اور شیو سینا مل کر مہاراشٹر میں حکومت بنائے کیونکہ شیو سینا اور بی جے پی حکومت کی تشکیل پر اتفاق قائم نہیں ہو پا رہا ہے۔ انھوں نے کہا کہ کانگریس، اقلیتی طبقہ کے لوگ، اتحاد میں ہماری ساتھی این سی پی اور شیو سینا کے ساتھ مل کر حکومت بنائیں۔
#Maharashtra #Congress नेता #HussainDalvai ने दी सोनिया गांधी को सलाह शिवसेना के साथ बनाए सरकार, संजय राउत ने कहा-सभी कर रहे बात लेकिन बीजेपी-शिवसेना नहीं#SoniaGandhi #BJP #Shivsena #MaharashtraGovernmentFormation #MaharashtraGovernment https://t.co/jbXU8YbUAo
— InKhabar (@Inkhabar) November 2, 2019
شیوسینا-بی جے پی کے درمیان تلخیاں بڑھیں، شرد پوار-سونیا کی ملاقات ممکن
مہاراشٹر میں سیاسی ہنگاموں کے درمیان اس طرخ کی خبریں سامنے آ رہی ہیں کہ این سی پی سربراہ شرد پوار کانگریس صدر سونیا گاندھی سے ملاقات کے لیے دہلی آ سکتے ہیں۔ دراصل مہاراشٹر کانگریس کے سینئر لیڈروں نے کانگریس صدر سونیا گاندھی کے ساتھ یکم نومبر کو میٹنگ کی تھی جس کے بعد پارٹی کے سینئر لیڈر اشوک چوان نے کہا تھا کہ پارٹی فی الحال کوئی فیصلہ نہیں لے گی، اور اگر شیو سینا مہاراشٹر میں بی جے پی سے علیحدہ ہونے کا اعلان کرے گی تو اس سلسلے میں کچھ سوچا جائے گا۔ کانگریس کے اس بیان کے بعد ریاست میں سیاسی ہلچل مزید تیز ہو گئی ہے اور شرد پوار نے بھی ایک بیان میں کہا ہے کہ بی جے پی کو حکومت سازی کے لیے جھکنا چاہیے اور سی ایم عہدہ شیوسینا کے ساتھ شیئر کرنا چاہیے۔ اب اگر بی جے پی وزیر اعلیٰ عہدہ شیو سینا کو 2.5 سال کے لیے دینے کو تیار نہیں ہوتی ہے تو حالات مشکل ہو سکتے ہیں۔ بی جے پی نے پہلے ہی اعلان کر رکھا ہے کہ 7 نومبر تک اگر شیوسینا اپنا موقف واضح کرتے ہوئے حکومت سازی کے لیے ساتھ نہیں دیتی ہے تو ریاست میں صدر راج نافذ ہو جائے گا۔
उद्धव ठाकरे से फोन पर बातचीत की खबरों के बीच दिल्ली जाएंगे शरद पवार, सोनिया गांधी से कर सकते हैं मुलाकात | maharashtra political rift: sharad pawar likely to meet sonia gandhi in delhi https://t.co/dROKxz7Bl6 pic.twitter.com/F3kZSRM6bT
— Hindi 2 News – Online Read Latest News (@hindi2news) November 2, 2019
بی جے پی کو چاہیے کہ حکومت سازی کے لیے جھکتے ہوئے وہ سی ایم عہدہ شیئر کرے
این سی پی سربراہ شرد پوار نے ایک بار پھر شیوسینا کے ذریعہ وزیر اعلیٰ عہدہ کے مطالبہ کو صحیح ٹھہراتے ہوئے بی جے پی کو جھکنے کا مشورہ دیا ہے۔ انھوں نے میڈیا سے بات چیت کے دوران کہا کہ اگر بی جے پی کو حکومت سازی کرنی ہے تو چاہیے کہ وہ جھکے اور وزیر اعلیٰ عہدہ شیو سینا کے ساتھ بانٹے۔ قابل ذکر ہے کہ شیو سینا 50-50 فارمولے پر بضد ہے اور چاہتی ہے کہ 2.5 سال کے لیے شیو سینا سے وزیر اعلیٰ بنے اور نصف وزارت بھی اس کے اراکین اسمبلی کو دی جائے۔
BJP Will Have to Bend, Share CM Post if It Wants to Form Maharashtra Govt, Says Sharad Pawar https://t.co/KxEgN3H3FC
— PUNEET VIZH (@Puneetvizh) November 2, 2019
شیوسینا نے بی جے پی کے الٹی میٹم کو کیا نظر انداز، ’سامنا‘ میں بنایا تنقید کا نشانہ
بھارتیہ جنتا پارٹی نے یکم نومبر کو شیوسینا سے واضح لفظوں میں کہا تھا کہ اگر مہاراشٹر میں 7 نومبر تک حکومت کی تشکیل نہیں ہوئی تو صدر راج کی سفارش کردی جائے گی، اس لیے سینا کو جلد ازجلد اپنا موقف ظاہر کردینا چاہئے۔ ساتھ ہی خبروں کے مطابق بی جے پی نے شیو سینا سے یہ بھی کہا تھا کہ یکم نومبر کو یہ بتا دیں کہ نائب وزیر اعلیٰ اور کچھ وزارتوں کے ساتھ انھیں حکومت میں شامل ہونا منظور ہے یا نہیں۔ اس الٹی میٹم کو شیو سینا نے پوری طرح سے نظر انداز کر دیا ہے۔ یکم نومبر کو اپنا کوئی موقف تو شیو سینا نے ظاہر نہیں کیا، اس کے برعکس 2 نومبر کے سامنا میں اس نے بی جے پی کے ذریعہ صدر راج نافذ کیے جانے کی دھمکی کو زبردست تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ اس نے ’سامنا‘ میں لکھا ہے کہ صدر راج کی دھمکی دینا عوامی مینڈیٹ کی بے عزتی ہے۔
#Breaking | #MAHAYudh intensifies.@ShivSena slams @BJP4India in their mouthpiece Saamana after the latter said the possibilities of President’s rule in Maharashtra.
TIMES NOW’s Kajal Iyer with more details. Listen in. pic.twitter.com/ITz1JF2zsz
— TIMES NOW (@TimesNow) November 2, 2019
یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – Source بشکریہ قومی آواز بیورو—-
