’مرکز کے اشارے پر کام کرنے والے گورنر کی نیت صاف نہیں‘، سپریم کورٹ میں سماعت جاری
کانگریس اور این سی پی کی جانب سے پیش ہونے والے ابھیشیک منو سنگھوی نے سپریم کورٹ میں کہا کہ مہاراشٹر میں جوڑ توڑ کی سیاست کو روکنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسمبلی میں جلد از جلد فلور ٹیسٹ کرانے کی ضرورت ہے۔
Abhishek Manu Singhvi, appearing for NCP-Congress, says in Supreme Court, "When the announcement was made at 7 pm that we are staking claim to form govt and Uddhav Thackeray will lead it, couldn’t the Governor wait?" #Maharashtra https://t.co/EmP8ATM31Y
— ANI (@ANI) November 24, 2019
’ہمارے پاس اکثریت ہے، ہم اسے ثابت کرنے کو تیار‘
شیوسینا ، این سی پی اور کانگریس کی عرضی پر سماعت کے دوران کپل سبل نے سپریم کورٹ میں کہا، ’’مہاراشٹر کے لوگوں کو حکومت کی ضرورت ہے۔ جب ہم یہ کہہ رہے ہیں کہ ہماری اکثریت ہے تو ہم اسے ثابت کرنے کے لئے تیار ہیں۔ ہم کل ہی اکثریت ثابت کر سکتے ہیں۔
سبل نے مزید کہا ، ’’ہم نے کرناٹک میں بھی یہ ثابت کیا ہے۔ اگر ان (بی جے پی) کے پاس اکثریت ہے تو انہیں اپنی اکثریت ثابت کرنی چاہئے۔‘‘
Kapil Sibal appearing for Shiv Sena in Supreme Court, on Shiv Sena, NCP & Congress' plea: The people of Maharashtra need a government. When we are saying we have the majority we are ready to show it. We are ready to show the majority tomorrow. #Maharashtra https://t.co/sSIvIIQ79U
— ANI (@ANI) November 24, 2019
سپریم کورٹ کے سامنے ابھیشیک منو سنگھوی کے پیش کئے دلائل
ابھیشیک منو سنگھوی نے کانگریس کا موقف پیش کرتے ہوئے عدالت کو بتایا کہ مہاراشٹرا میں جو کچھ ہوا ہے وہ شکوک و شبہات کی زد میں ہے۔ انہوں نے عدالت کو بتایا کہ گورنر کا ہر اقدام اس طرف اشارہ کر رہا ہے کہ انہیں ایسا کرنے کے لئے کہا گیا ہے۔
کانگریس، این سی پی اور شیوسینا نے عدالت سے مطالبہ کیا ہے کہ فڑنویس کی جانب سے گورنر کو جو بھی دستاویزات پیش کئے گئے ہیں انہیں طلب کیا جائے اور بی جے پی سے جلد اسمبلی میں پروٹیم اسپیکر مقرر کرتے ہوئے اپنی اکثریت ثابت کرنے کو کہا جائے۔ علاوہ ازیں، یہ بھی مطالبہ کیا گیا ہے کہ اکثریت صوتی ووٹوں سے ثابت کی جائے اور سارے عمل کی ویڈیو گرافی بھی کی کروائی جائے۔
شیو سینا، این سی پی اور کانگریس کی عرضی پر سماعت شروع
مہاراشٹر میں فڑنویس کی قیادت والی حکومت بنانے پر شیو سینا، این سی پی اور کانگریس کی گورنر کے حکم کے خلاف دائر عرضی پر سپریم کورٹ میں سماعت شروع ہو گئی ہے۔ سپریم کورٹ کے سینئر ترین سینئر جج این وی رمن کی سربراہی والی تین رکنی خصوصی بینچ اس معاملہ کی سماعت کر رہی ہے۔
درخواست گزاروں کا دعوی ہے کہ شیوسینا کے رہنما ادھو ٹھاکرے کی زیرقیادت اتحاد ، مہاوکاس آگاڑی کو 144 سے زیادہ ارکان اسمبلی کی حمایت حاصل ہے ، جبکہ فڑنویس حکومت اکثریت سے بہت پیچھے ہے۔
فڑنویس کو جمعہ کی صبح وزیر اعلی کا حلف دلائے جانے کے بعد شیوسینا ، نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (این سی پی) اور کانگریس کی تینوں نے مشترکہ طور پر گذشتہ شام دیر سے یہ عرضی داخل کی ہے اور مرکزی حکومت ، مہاراشٹر حکومت ، فڑنویس اور این سی پی کے رہنما اجیت پوار کو مدعا علیہ بنایا ہے۔ درخواست گزاروں نے عدالت سے معاملے کی جلد سماعت کے لئے درخواست کی۔
فڑنویس حکومت کا کیا ہوگا؟ سپریم کورٹ کرے گا فیصلہ
مہاراشٹر معاملہ پر سپریم کورٹ میں سماعت کچھ ہی دری میں شروع ہونے جا رہی ہے اور دونوں اطراف کے لوگ عدالت اعظمیٰ میں پہنچنا شروع ہوگئے ہیں۔ مہاراشٹر کانگریس کے رہنما پرتھویراج چوان ، رندیپ سورجے والا ، ابھیشیک منو سنگھوی سپریم کورٹ پہنچ چکے ہیں۔ جب نامہ نگاروں نے ابھیشیک منو سنگھوی سے سوال کرنا چاہا تو وہ کوئی جواب دیئے بغیر مسکرا کر آگے بڑھ گئے۔
Maharashtra political crisis: All eyes on Supreme Court today
Read @ANI Story | https://t.co/6DeCLYdeCh pic.twitter.com/dJbvQeu5qE
— ANI Digital (@ani_digital) November 24, 2019
یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – Source بشکریہ قومی آواز بیورو—-
