سپریم کورٹ کے سامنے ابھیشیک منو سنگھوی کے پیش کئے دلائل
ابھیشیک منو سنگھوی نے کانگریس کا موقف پیش کرتے ہوئے عدالت کو بتایا کہ مہاراشٹرا میں جو کچھ ہوا ہے وہ شکوک و شبہات کی زد میں ہے۔ انہوں نے عدالت کو بتایا کہ گورنر کا ہر اقدام اس طرف اشارہ کر رہا ہے کہ انہیں ایسا کرنے کے لئے کہا گیا ہے۔
کانگریس، این سی پی اور شیوسینا نے عدالت سے مطالبہ کیا ہے کہ فڑنویس کی جانب سے گورنر کو جو بھی دستاویزات پیش کئے گئے ہیں انہیں طلب کیا جائے اور بی جے پی سے جلد اسمبلی میں پروٹیم اسپیکر مقرر کرتے ہوئے اپنی اکثریت ثابت کرنے کو کہا جائے۔ علاوہ ازیں، یہ بھی مطالبہ کیا گیا ہے کہ اکثریت صوتی ووٹوں سے ثابت کی جائے اور سارے عمل کی ویڈیو گرافی بھی کی کروائی جائے۔
شیو سینا، این سی پی اور کانگریس کی عرضی پر سماعت شروع
مہاراشٹر میں فڑنویس کی قیادت والی حکومت بنانے پر شیو سینا، این سی پی اور کانگریس کی گورنر کے حکم کے خلاف دائر عرضی پر سپریم کورٹ میں سماعت شروع ہو گئی ہے۔ سپریم کورٹ کے سینئر ترین سینئر جج این وی رمن کی سربراہی والی تین رکنی خصوصی بینچ اس معاملہ کی سماعت کر رہی ہے۔
درخواست گزاروں کا دعوی ہے کہ شیوسینا کے رہنما ادھو ٹھاکرے کی زیرقیادت اتحاد ، مہاوکاس آگاڑی کو 144 سے زیادہ ارکان اسمبلی کی حمایت حاصل ہے ، جبکہ فڑنویس حکومت اکثریت سے بہت پیچھے ہے۔
فڑنویس کو جمعہ کی صبح وزیر اعلی کا حلف دلائے جانے کے بعد شیوسینا ، نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (این سی پی) اور کانگریس کی تینوں نے مشترکہ طور پر گذشتہ شام دیر سے یہ عرضی داخل کی ہے اور مرکزی حکومت ، مہاراشٹر حکومت ، فڑنویس اور این سی پی کے رہنما اجیت پوار کو مدعا علیہ بنایا ہے۔ درخواست گزاروں نے عدالت سے معاملے کی جلد سماعت کے لئے درخواست کی۔
فڑنویس حکومت کا کیا ہوگا؟ سپریم کورٹ کرے گا فیصلہ
مہاراشٹر معاملہ پر سپریم کورٹ میں سماعت کچھ ہی دری میں شروع ہونے جا رہی ہے اور دونوں اطراف کے لوگ عدالت اعظمیٰ میں پہنچنا شروع ہوگئے ہیں۔ مہاراشٹر کانگریس کے رہنما پرتھویراج چوان ، رندیپ سورجے والا ، ابھیشیک منو سنگھوی سپریم کورٹ پہنچ چکے ہیں۔ جب نامہ نگاروں نے ابھیشیک منو سنگھوی سے سوال کرنا چاہا تو وہ کوئی جواب دیئے بغیر مسکرا کر آگے بڑھ گئے۔
Maharashtra political crisis: All eyes on Supreme Court today
Read @ANI Story | https://t.co/6DeCLYdeCh pic.twitter.com/dJbvQeu5qE
— ANI Digital (@ani_digital) November 24, 2019
یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – Source بشکریہ قومی آواز بیورو—-