مہاراشٹرمیں ’چچا‘کی حکمت عملی سے بی جے پی چاروںخانے چت از: جاوید جمال الدین

مہاراشٹر میں گزشتہ ایک مہینے سے جاری سیاسی بحران بالآخر شیوسینا کے سربراہ ادھوٹھاکرے کے ممبئی کے تاریخی شیواجی پارک میں وزیراعلیٰ کاحلف لیے جانے کے بعد ختم ہوچکا ہے ،لیکن یہ حقیقت ہے کہ ریاست کی تاریح میں ایک نئے دورکا آغاز ہوا اور ’چچا ‘کی حکمت عملی نے بی جے پی کو چاروںخانے چت کردیا ہے ،بلکہ ممبئی سے لیکر دہلی تک اُس کی چولیں ہل گئی ہیں ،اسے جو شرمندگی اُسے اٹھانی پڑی ہے ،ایسی گزشتہ چھ سال میں کبھی نہیں اٹھانی پڑی تھی ،کرناٹک میں بھی ایسی ہی صورتحال تھی ،لیکن مہاراشٹر میں جوکچھ ہوا ہے ،اُس پر سنجیدگی سے غورکریں تودوردورتک ایک علیحدہ نظارہ دکھائی د ے گا کہ حکومت کی تشکیل میں کانگریس اور این سی پی نے شیوسینا کو حمایت ہی نہیں دی بلکہ اُدھوٹھاکرے کی قیادت میں تشکیل دی گئی

حکومت میں شامل بھی ہوگئی ہیں۔جبکہ این سی پی کے سربراہ شردپوار کا ریاستی ہی نہیں بلکہ قومی سطح پربھی قدبڑھ گیا ہے، بلکہ انہوںنے ثابت کردیا ہے کہ دہلی میں بیٹھ کر سیاسی اٹھا پٹک کرنے والے ہوش کے ناخن لے لیں۔فی الحال یہ ثابت ہوگیا ہے کہ مہاراشٹرمیں ’چچا‘کی حکمت عملی سے بی جے پی چاروںخانے چت ہوگئی ہے۔مستقبل قریب میں بی جے پی واپسی کے لیے ہرداﺅاور حربہ استعمال کرے گی ،کیونکہ پوار نے اسے بُری طرح پٹخ دیا ہے ۔

آگے بڑھنے سے پہلے گزشتہ ایک مہینے میں ریاست میں جوکچھ ہوا ،اس پر ٹھنڈے دل سے غورکرنا ضروری ہے ،بی جے پی اس محاذ سے شکست سے دوچار ہوئی ہے اور اقتدار کے حصول کے لیے کچھ بھی کرگزرنے کی اس کی پالیسی نے بھگوا پارٹی کو پوری سے برہنہ کرکے رکھ دیاہے۔بی جے پی نے راتوں رات بی جے پی کے قانون ساز پارٹی کے لیڈر اور سابق وزیراعلیٰ دیویندر فڑنویس اور این سی پی کے لیڈراجیت پوار کی حلف برداری راج بھون میں کرادی ،وزیراعلیٰ کی سرکاری رہائش گاہ ورشا سے راج بھون،پھر دہلی میںپی ایم او،وزارت داخلہ اورپھر راشٹرپتی بھون کی صبح سویرے گھنٹی بجادی گئی اور ڈرامائی انداز میں حکومت سازی کا عمل مکمل کرلیا گیا ،ابھی لوگ بستر میں آنکھیں مل رہے تھے کہ انہیں خبر لگی کہ فڑنویس اور اجیت پوار نے بالترتیب وزیراعلیٰ اور نائب وزیراعلیٰ کے طورپرحلف لے لیا ہے،لیکن بھلا ہو ہندوستانی عدلیہ کا ، اس نے حکومت سازی اور حلف برداری کے خلاف داخل کی جانے والی ایک عرضداشت پرسپریم کورٹ نے تاریخ سازفیصلہ سنایااور حکم دیا کہ دیویندرفڑنویس 24گھنٹے میں اسمبلی کے ایوان میں اعتماد کا ووٹ حاصل کریں اور یہیں سے بی جے پی کے زوال کا آغاز ہوگیا۔سپریم کورٹ نے انہیں دیئے جانے والی دوہفتے کی مدت کو کالعدم قراردے دیااور نومنتخب اراکین کی خریدوفروخت کا اندیشہ ظاہر کیا ،عدالت عالیہ نے جمہوری قدروں کے تحفظ کی وکالت کی اور عام شہری کے اس حق کو تسلیم کیا کہ اسے اچھی اور بہتر حکومت فراہم کی جائے۔ سپریم کورٹ کے حکم پر تو ان کے پیروں تلے سے زمین کھسک کررہ گئی ۔پہلے نائب وزیراعلی اجیت پوار نے استعفیٰ دیااور پھر شیوسینا کو کوستے ہوئے اور نئے سیاسی اتحادپرتنقید کرتے ہوئے فڑنویس نے منہ بناتے ہوئے دل پرپتھر رکھتے ہوئے عہدہ چھوڑدیا۔کیونکہ انہوں نے اجیت پوار کے بھروسے یہ کھیل کھیلااورانہیں یہ محسوس ہورہا تھا کہ حکومت کی تشکیل کے نتیجے میں انہیںفائدہ پہنچے گا اور اراکین بی جے پی کی حمایت کردیں گے۔ان کی اس حرکت کے نتیجے میں بی جے پی لیڈرشپ کو بھی کافی ذلت اٹھانا پڑی ہے۔

بی جے پی نے ملک کی کئی ریاستوںمیں اقتدار حاصل کرنے کے لیے ہر طرح کے حربے اپنائے ہیں ،لیکن فڑنویس اور دہلی والوں کو اس بات کا ذرا بھی احساس نہیں تھا کہ مہاراشٹر ان کے لیے آسان نہیں ہے کیونکہ یہاں شردپوار کی شکل میں ایک مراٹھا مردآہن کھڑا اور سب اس کی چھتر چھا یا میں آگئے ہیں ،بلکہ کانگریس کی سربراہ سونیا گاندھی نے بھی انہیں کھلا ہاتھ دے دیا تھا۔بی جے پی کو اس بار خفیہ ایجنسیوں اور انفورسمینٹ ڈائرکٹوریٹ (ای ڈی ) کا استعمال کرنے کا موقعہ نہیں مل سکا ،دراصل شردپوار چند ماہ قبل ہی ای ڈی کے ایک نوٹس پر جو رُخ اپنا چکے ہیں ،اس سے بی جے پی اچھی طرح واقف ہے ،لیکن کرسی ایسی چیز ہے جوکہ منہ سے لگی جائے توچھڑائے نہ چھڑے ۔اس لیے بی جے پی نے اقتدار کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے ، مہاراشٹر کے گورنرسے صدرجمہوریہ تک کا استعمال کیا اور راتوں رات مہاراشٹر میں حکومت سازی کرلی ،جس سے جمہوریت کی جڑیں متاثر ہوئی ہیں۔فوری طورپر وزیراعظم مودی اور وزیرداخلہ میدان میں آگئے اور ٹوئیٹر پر مبارکباد دے دی ۔انہیں پتہ نہیں اور اس حقیقت کو انہوں نے بھانپ لیا ہے کہ مہاراشٹر میں جلدبازی میں لیے گئے فیصلہ نے بی جے پی کی شبیہ کو نقصان ہوا ہے بلکہ اس کے وقار اور وزیراعظم کی شبیہ کو بھی نقصان پہنچا ہے۔اس سیاسی اٹھا پٹخ میں پارٹی لیڈرشپ کی جو بے عزتی ہوئی ہے ،اس سے پارٹی کو ابھر نے میں وقت لگے گا،دوسری طرف سب سے زیادہ فائدہ شیوسینا کو پہنچا ہے کیونکہ بی جے پی کے راج میں وہ نائب وزیر اعلی کے عہدہ سے محروم رہی ،لیکن اب وہ وزارت اعلیٰ کے ساتھ تین پارٹیوں کی حکومت کی قائد بھی ہے اور مہاراشٹر میں بی جے پی کی ذلت آمیز شکست کے لیے صرف دیویندر فڑنویس ہی نہیں بلکہ مودی اور شاہ بھی ہرطرح سے ذمہ دار ہیں۔

شیو سینا ، نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (این سی پی) اور کانگریس کا تینوں پارٹیوںکااتحاد تاریخی اور سیاسی لحاظ سے اہم بن گیا ہے اوریہ بھی ایک عجیب اتفاق ہے کہ تین پارٹیوں کی بنیاد ممبئی میں رکھی گئی تھی ۔ مختلف نظریات رکھتے ہیں۔کانگریس اور این سی پی سیکولر نظریے کی پیروی کرتی ہیں ، جبکہ شیوسینا کی بنیاد ”مراٹھی عوام کو انصاف دلانے“کے لئے کی گئی تھی اور بعد میں انہوں نے سخت گیر ہندوتوا کو اپنایا۔ بی جے پی کی جارحانہ سیاست کا مقابلہ کرنے کے لئے اب تینوں جماعتیں متحد ہوگئی ہیں، پچھلے پانچ سال میں بی جے پی نے مہاراشٹر میںکانگریس اوراین سی پی کے وجود کو ختم کرنے کی ہرممکن کوشش کی اور شیوسینا کو بھی نہیں بخشا ۔ امکان ہے کہ ان تینوں مختلف جماعتوں کے ساتھ ساتھ آنے سے مہاراشٹر کی سیاست پراچھے اثرات پڑیں گے۔ویسے مہاراشٹر وکاس اگھاڑی (ایم وی اے)کے تینوں اتحادیوںکو اس وقت تک ساتھ رہنا پڑے گا، جب تک بی جے پی کچھ نرم نہ پڑجائے ،کیونکہ سابق وزیراعلیٰ فڑنویس نے پہلے روز سے مخالفت کے ٹوئیٹ شروع کردیئے ہیںاوربی جے پی کی کوشش ہوگی کہ ان پرغالب رہے۔حالانکہ بی جے پی اور شیوسینا تقریباً تین دہائیوں تک ریاست کی سیاست پر اپنے نظریات کے سبب متحد رہیں۔دونوں میںتکراراور تصادم بھی ہوتا رہا ،لیکن براہ راست معرکہ آرائی نہیںتھی ،البتہ شیوسینا کے ترجمان سامنا نے ہرروز بی جے پی کو نشانہ بنانے میں کوئی کسرنہیں چھوڑی ۔دراصل بی جے پی اور شیوسینا قریب ہوتے ہوئے ایک دم سے روٹھ گئے ،اس کی وجہ یہ ہے کہ دونوں اپنے اتحاد میں جمود محسوس کررہے تھے۔ دونوں بڑھنا چاہتی تھیں ، لیکن وہ ان کے رائے دہندگان ایک ہی تھے ،کیونکہ دونوں کے نظریات ایک جیسے رہے ہیں ۔بی جے پی نے ان دودہائیوں میں شیوسینا کو دبانے اور کمزور کرنے کے لیے درپردہ پوری کوشش کی ہے اوریہی وجہ ہے کہ اس مرتبہ شیوسینا ،اپنی بنیاد کو بڑھانے کے لئے اپنی سیاست میں تبدیلی لے آئی ہے ،کیونکہ بی جے پی نے مہاراشٹر کے دیہی رائے دہندگان کو رام کرلیا اور بی جے پی کے چھوٹے چھوٹے لیڈر شیوسینا لیڈرشپ کو آنکھیں دکھانے لگے اور آنجہانی بال ٹھاکرے کے بعد انہیں مزید تقویت ملی ۔اور وہ بے لگام ہوگئے ۔

ادھو ٹھاکرے ایک اعتدال پسند ایجنڈا اپنانے کی کوشش کررہے ہیں ، جس کا مقصدشیوسینا کی توسیع اور زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچنا ہے۔ ادھو ٹھاکرے نے پچھلے چند سال میں خاموشی سے اپنی توجہ تبدیل کی ہے۔ شیوسینا اب ترقیاتی سیاست کے ساتھ کسانوں ، دیہی اموراور شہری غریبوں کی بھی بات کر رہی ہے ،شیوسینا کا اثر شہری علاقو ںمیں زیادہ رہا ہے ۔اس اتحاد کی وجہ سے شیوسینا اب ریاست بھر میں پارٹی کو وسعت دینے پر زیادہ توجہ دے گی۔عام طورپرسیاست میں جانکاری رکھنے والے بھی یہ سمجھ سکتے ہیں کہ این سی پی اور کانگریس کو اس سے پریشانی نہیں ہوگی ، کیونکہ دونوں فریقوں کایہ بھی خیال ہے کہ مذکورہ اتحاد بھی ان کی مدد کرسکتا ہے۔ گزشتہ پانچ سال میں ، بی جے پی ریاست کے متعدد حصوں میں اپنے وجود کوابھارنے اور منظم انداز میں دوسروںکو نشانہ بنا رہی تھی ،اور شیوسینا بھی درپردہ اس کے ایجنڈے میں پائی جاتی تھی۔

اگر ہم جائزہ لیں تو محسوس ہوگا کہ ممبئی،تھانے،نوی ممبئی اور رائے گڑھ جیسے نواحی علاقوںمیںاورشہروں میں کانگریس اور این سی پی کافی کمزور ہیں ،لیکن شیوسینا ان علاقوں میں مضبوط ہے۔ تینوں پارٹیاں ایک دوسرے کے ساتھ ہم آہنگ ہیں۔ اگر وہ ایک دوسرے کے ساتھ مل کر رہ گئے اور حکمت عملی سے منصوبہ سازی کی گئی تو وہ ایک دوسرے کی مدد کی بنیاد سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔یہ چیز انتخابی سیاست میں ایک مضبوط مرکب بھی بن سکتا ہے۔جہاں تک بی جے پی کا سوال ہے ،اس شرمندگی اور منہ کی کھانے کے بعداس کارویہ جارحانہ ہونے کا امکان ہے ،بلکہ دوروز میں بی جے پی لیڈروںاور خود فڑنویس نے جس طرح کے بیانات دیئے ہیں اور راست شیوسینا کو نشانہ بنایا ہے ،انہیں لگتا ہے کہ ترقی کے ساتھ ساتھ ہندوتوابھی ان کے لیے ایک اہم مدعا ہوگا۔اور وہ اس کا فائدہ ہرطرح سے اٹھانے کے لئے تیار ہیں۔
مہاراشٹر کی سیاست میں حکومت تشکیل دینے والا تین جماعتی اتحاد یقینی طور پر ایک اہم موڑ ہے۔ شدید نظریاتی اختلاف کے باوجود سب ایک ساتھ آگئے ہیں،شیوسنا کے لیے 30 سالہ اتحاد کو توڑنا ایک بہت بڑا خطرہ تھا،لیکن ادھواور ان کے صاحبزادے کے ساتھ ساتھ معاوئین نے ایک اہم فیصلہ لیا ہے ۔انہوںنے سیکولرزم کو بھی اپنالیا ہے،بقول ادھو،سیکولرآئین کا حصہ ہے ،لیکن سب سے زیادہ اہم یکساں قلیل پروگرام (سی ایم پی) ہی ہوگا، اسی سے انہیں کامیابی ملی ہے اسے ایک بہترین دستاویز کہا جاسکتا ہے ، جس میں ہر ایک کے لئے کچھ نہ کچھ ہے۔ لیکن جب تک سی ایم پی پر عمل نہیں ہوگا اور اسے نافذ نہیں کیا جائے گا،تب تک مشکل ہے جیسا کہ چند سال قبل سب کی ترقی اور ساتھ رہنے کا نعرہ لگایا گیا تھا جوکہ اب کھوکھلا ہوچکا ہے۔

javedjamaluddin@gmail.com

9867647741

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading