مونجارو: بھوک اور وزن کم کرنے والا انجیکشن لیکن کیا یہ ایک مستقل حل ہے؟

سیمون تقریباً ایک سال سے وزن کم کرنے کے انجیکشنز کا استعمال کر رہی ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ ان انجیکشنز نے وہ کر دکھایا جو ڈائٹ، یعنی خوراک میں کمی، ان کے لیے کبھی نہیں کر سکی۔

34 سالہ سیمون کے ذہن میں ہر وقت یہی سوال ہوتا تھا کہ اگلا کھانا کب ہوگا؟ کیا کھانا ہوگا؟ کیا وہ ان کے لیے کافی ہوگا؟

وہ کہتی ہیں کہ ’اتنی شدید خواہش ہوتی تھی کہ ناقابل برداشت ہوجاتی تھی۔ میں نے ہر قسم کی ڈائٹ آزما کر دیکھی ہے۔ آپ ایٹکنز، کلین ایٹنگ، سلِم فاسٹ، سلمِنگ ورلڈ، میل ریپلیسمنٹ شیکس جیسی کسی بھی ڈائٹ کا نام لیں میں نے سب کچھ آزمایا لیکن کچھ بھی میرے لیے کارگر ثابت نہیں ہوا۔‘

کچھ سال قبل جب ان کا وزن 102 کلوگرام ہو گیا تو وہ لاکھوں لوگوں کی طرح ’ویٹ واچرز‘ کی جانب رجوع ہوئیں۔ انھوں نے ایپ ڈاؤن لوڈ کی اور اس کے پوائنٹس سسٹم پر سختی سے عمل پیرا رہیں، وہ جو کچھ کھاتیں، وہ سکین کرتیں اور روزانہ کے پوائنٹس کے اندر رہتیں۔

’ویٹ واچرز‘ کھانے پینے کی اشیاء کو پوائنٹس دیتے ہیں۔ اور اس ضمن میں ان کا کہنا ہے کہ یہ ایک ’انقلابی الگوردم‘ ہے جس کے ذریعے صارفین کو بہتر غذاؤں کے بارے میں آگاہ کیا جاتا ہے۔

لیکن سیمون کہتی ہیں کہ چند ہفتوں بعد انھیں ایسا لگنے لگا جیسے انھیں ناکام ہونے کے لیے تیار کیا جا رہا ہے۔

انھوں نے کہا: ’میں طویل عرصے تک وزن کیسے کم رکھ سکتی تھی اگر مجھے اس عجیب پوائنٹس سسٹم کو فالو کرنا پڑتا؟ کھانے کو پوائنٹس میں نہیں بلکہ کیلوریز، فیٹ اور مائکرونیوٹریئنٹس میں ناپا جاتا ہے۔‘

’مجھے محسوس ہوا جیسے میں قید ہو گئی ہوں، اور جتنا زیادہ میں نے تحقیق کی اور سمجھا اتنا ہی مجھے یقین ہوتا گیا کہ یہ سب میرے لیے نہیں۔‘
ان کے مطابق، وزن کم کرنے کی جدوجہد میں جو چیز ان کے لیے واقعی مؤثر ثابت ہوئی وہ وزن کم کرنے کا انجیکشن ’مونجارو‘ تھا۔ اس انجیکشن کو انھوں نے تقریباً ایک سال قبل لینا شروع کیا تھا۔

وہ بتاتی ہیں کہ اس وقت ’میں اپنی زندگی کے سب سے زیادہ وزن 21 اسٹون (یعنی 133 کلو گرام) سے کچھ اوپر تھی۔ اور ڈاکٹر نے بتایا کہ میں پری-ڈائیبیٹک (ذیابیطس کے دہانے پر) ہوں۔ مجھے معلوم تھا کہ کچھ بدلنا ہو گا، میرے دو بچے ہیں جو مجھ پر منحصر ہیں۔‘

انھیں دوا شروع کرنے کا مشورہ دیا گیا، لیکن اس کے لیے انھیں دو سال کے انتظار کا کہا گيا تو انھوں نے نجی طور پر اسے آن لائن خریدنے کا فیصلہ کیا۔ صرف چند دنوں میں، وہ خوشی کے آنسو بہا رہی تھیں۔

انھوں نے کہا: ’مجھے یقین نہیں آ رہا تھا کہ مجھے کھانے پر کنٹرول حاصل ہو گیا ہے۔ پہلی بار میں پریشان نہیں تھی کہ اگلی بار کب کھاؤں گی۔‘

وزن کم کرنے کا یہ انجیکشن جی ایل پی-1 نامی ہارمون کی نقل کرتے ہیں، جو بھوک کم کرتا ہے اور انسان کو زیادہ دیر تک شکم سیر ہونے کا احساس دلاتا ہے۔

اب تک، سیمون اپنا وزن 26 کلو گرام کم کر چکی اور آہستہ آہستہ ان کا وزن مزید کم ہو رہا ہے۔ وہ اپنی کہانی سوشل میڈیا پر شیئر کر رہی ہیں۔

انھوں نے کہا: ’مجھے فوری حل نہیں چاہیے۔ میں وزن کم کرنے کے انجیکشنز کو استعمال کر رہی ہوں تاکہ مجھے وہ کنٹرول مل سکے جو کبھی میرے پاس نہیں تھا۔‘
دس لاکھ اراکین کا نقصان
بہت سے لوگوں کے لیے وزن کم کرنے کے یہ انجیکشن تیز نتائج فراہم کرتے ہیں، لیکن کچھ ماہرین کو اس کے بڑھتے ہوئے رجحان اور طویل المدتی جسمانی و ذہنی اثرات کے متعلق تشویش ہے۔

ایک وقت تھا جب ویٹ واچرز کو محفوظ اور متوازن وزن کم کرنے کے مترادف سمجھا جاتا تھا۔ دنیا بھر میں اس کے تقریبا 45 لاکھ صارفین تھے اور تقریباً ہر شہر میں اس کے ورکشاپس موجود تھے۔

لیکن 50 سال سے زائد عرصے تک ڈائٹ انڈسٹری پر راج کرنے کے بعد ویٹ واچرز نے دس لاکھ سے زائد ممبرز کھو دیے ہیں اور اس نے دیوالیہ ہونے کی درخواست دائر کر رکھی ہے کیونکہ وہ سوشل میڈیا اور وزن کم کرنے والے انجیکشنز کے بدلتے ہوئے منظرنامے کا مقابلہ نہیں کر سکا۔

کمپنی کا کہنا ہے کہ وہ بند نہیں ہو رہی بلکہ دیوالیہ پن کی درخواست اس کے 1.25 ارب امریک ڈالر کے قرض کو حل کرنے میں مدد دے گی۔

اپنے بیان میں ویٹ واچرز نے کہا ہے کہ اس کا وزن کم کرنے کا پروگرام (جس میں اب اس کے اپنے برانڈ کے انجیکشنز بھی شامل ہیں) اور ورکشاپس جاری رہیں گی۔

کمپنی کا دعویٰ ہے کہ وہ پچھلے 60 سالوں سے سائنسی طور پر سب سے زیادہ معاون برانڈ رہا ہے اور اس کی افادیت پر 180 سے زائد تحقیقی مطالعے شائع ہو چکے ہیں۔ویٹ واچرز کا کہنا ہے کہ اس نے ’مکمل دیکھ بھال کا ماڈل‘ اپنا رکھا ہے تاکہ ہر فرد کی مجموعی صحت کا خیال رکھا جا سکے، جس میں موٹاپے کے ماہر کلینکس اور رجسٹرڈ ڈائٹی شیئنز تک رسائی شامل ہے۔

یہ ان چند کمپنیوں میں سے ایک ہے جہاں ڈاکٹر وزن کم کرنے کے لیے مریضوں کو ریفر کر سکتے ہیں اور برطانوی نیشنل ہیلتھ سروس (این ایچ ایس) مریضوں کی ہفتہ وار ملاقات میں شرکت کے لیے ادائیگی کرتا ہے۔نیشنل سینٹر فار ایٹنگ ڈس آرڈرز کی ڈائریکٹر ڈین جیڈ نے بی بی سی کو بتایا کہ ’اب بات صرف کیلوریز کنٹرول کی نہیں رہی بلکہ ایک نیا رجحان ابھر چکا ہے، اور وہ فرد کی مکمل فلاح و بہبود ہے۔‘

’لوگ قبیلوں کی صورت میں چلنا پسند کرتے ہیں، پہلے یہ ویٹ واچرز قبیلے کا قافلہ تھا جو پوائنٹس اور کیلوریز کا حساب رکھتا تھا اب لاکھوں لوگ مختلف طریقوں سے وزن کم کرنے یا صحت مند بننے کے طریقے اپناتے ہیں۔ یہ سوشل میڈیا، انجیکشنز کے ذریعے نئے نئے قبیلے بنا رہے ہیں۔‘وہ اس بات سے متفق نہیں ہیں کہ دوا اس کا حل ہے جس کی لوگوں کو تلاش ہے۔

وہ کہتی ہیں کہ ’کوئی بھی دوا انسان کو یہ سہولت فراہم نہیں کرتی کہ انجیکشنز بند کرنے کے بعد دوبارہ ان کے وزن نہ بڑھیں۔‘ان کا ماننا ہے کہ ’یہ ایک عارضی حل ہے، اور وزن کم کرنے اور اسے برقرار رکھنے کا سب سے مؤثر طریقہ یہ ہے کہ انسان زیادہ کھانے کے پیچھے کی نفسیاتی وجوہات کو سمجھے۔‘
زیادہ جامع نقطہ نظر
ڈاکٹر جوان سلور لندن کے ایٹنگ ڈس آرڈرز کلینک ’اوری‘ کی چیف ماہرِ نفسیات ہیں اور وہ اس بات سے اتفاق کرتی ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ وزن کم کرنے والے انجیکشنز جسم کی فطری ضروریات کو بالکل خاموش کر دیتے ہیں جو کہ جسم کو سمجھنے کے عمل کے خلاف ہے۔

’لوگ نفسیاتی وجوہات کی بنا پر بے تحاشا کھا سکتے ہیں، وہ جذبات کو سنبھالنے یا خود کو تسلی دینے کے لیے کھاتے ہیں۔ ایٹنگ ڈس آرڈرز صرف کھانے کے بارے میں نہیں ہوتے۔‘خوراک اور غذائیت اب ایک بڑی، جامع حکمت عملی کا حصہ بن چکی ہیں جسے لوگ اپنی ویل بیئنگ یا فلاح و بہبود کے لیے اپنا رہے ہیں۔

جینیفر پائبس لیورپول کی ایک فٹنس کوچ ہیں۔ وہ آن لائن اور ذاتی طور پر کلائنٹس کے ساتھ کام کرتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ صحت مند زندگی صرف وزن کم کرنے کا نام نہیں۔

’میں جن خواتین کے ساتھ کام کرتی ہوں، ان کی حوصلہ افزائی کرتی ہوں کہ وہ اپنی بہتری کو صرف وزن کے ترازو پر نہ تولیں۔‘

’اس بات پر توجہ دیں کہ وہ کیسا محسوس کر رہی ہیں، پرانی اور نئی تصویریں دیکھ کر جسم کی تبدیلی کو دیکھیں، نیند کیسی آتی ہے، دل کی رفتار، جم میں کارکردگی جیسی تمام چیزیں بہت اہم ہیں۔‘

اگرچہ ڈائٹ انڈسٹری تبدیل ہوتی نظر آ رہی ہے لیکن اب بھی بہت سے لوگ ایسے ہیں جو اکٹھے بیٹھ کر اپنے تجربات بانٹنے، اور اپنے کمیونٹی کے دوسرے لوگوں کی وزن کم کرنے میں مدد کرنے کے روایتی انداز کو ترجیح دیتے ہیں۔

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading