مورتی وسرجن جلوس کے دوران مسجدپر رنگ پھینک کر حالات خراب کرنے کی کوشش

لکھنو¿:۔ 27اکتوبر(پریس ریلیز) گذشتہ دنوں پہلے رسیا بازار شراوستی نگر میں نئے مقام پر مورتی رکھنے پھر خیرا بازار تھانہ میں مسلم اکثریتی علاقے سے نئی روایت قائم کرتے ہوئے مورتی وسرجن جلوس نکالنے کے دوران نعرے اورنماز کے وقت مسجد میں رنگ پھینک کرشرپسندوں کے ذریعہ فرقہ وارانہ فساد کرانے پر جمعیة علماءاتر پردیش کے ریاستی صدر مولانا محمد متین الحق اسامہ قاسمی نے سخت ناراضگی اور تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے ریاستی حکومت و ضلع انتظامیہ کی ناکامی بتایا۔ مولانانے حکومت و انتظامیہ سے سوال کیا کہ جب یہ جلوس ہمیشہ اپنے روایتی روٹ سے نکلتا تھا تو پھر2-3برسوں میں اس کا روٹ کیوںاور کس کے کہنے پر تبدیل کیا گیا؟ علاقائی لوگوں کے اعتراض و فساد کے خدشہ کے اظہار کے باوجود ضلع انتظامیہ یا پھر کس نے مسلم اکثریتی علاقہ سے جلوس نکالنے کی اجازت دی؟ اور پھر جب ایس ڈی ایم اور سی او خود جلوس میں موجود تھے تو ان کی موجودگی میں فرقہ پرست عناصر اپنی گھناو¿نی حرکتوں میں کیسے کامیاب ہو گئے ؟ نماز کے وقت مسجد کے سامنے جلوس روک کرنعرے کیوں لگائے گئے ،اورنعرے کن لوگوںنے لگائے؟ٹھیک نماز کے وقت مسجد میں گلال پھینکا گیا؟بازار کی دکانوں کونقصان پہنچانے کی کوشش کی گئی؟مولانا نے کہا کہ کیا انتظامیہ نے خودیا کسی کے دباو¿ میں آکر اپنی سرپرستی میں نئے راستے سے جلوس نکالنے کی روایت کو قائم کرایا ہے؟مولانا نے صحافیوں سے بتایاکہ بہرائچ سے آئی خبروں کے مطابق ماحول خراب کرنے والے تو اپنا کام کرکے موقع سے بھاگ گئے لیکن پولیس کے ذریعہ وہاں کے پر امن مقامی لوگوں کے دروازوں کو توڑ تے ہوئے گھروں میں گھس کر بے قصوروں کی گرفتاری کی جا رہی ہے۔ وہاں کی عورتوں ،بچوں اور بزرگوں کو بھی پولیس اپنی لاٹھیوں کا نشانہ بنا کر خوف و حراساں کاماحول پیدا کر رہی ہے۔ مولانا نے بتایا کہ حد تو اس وقت ہو گئی جب گاو¿ں کے حافظ اور عالم کے گھروں تک کو نہیں چھوڑا گیا اور ان کے گھر کی عورتوں پربھی پولیس نے لاٹھیاں برسائیں یہاں تک کہ ستر سال کی بزرگ خاتون کو بھی نہیں بخشا۔ ہم تو کیا کوئی بھی انصاف پسند شہری اسے کبھی برداشت نہیں کر سکتا۔ مولانا نے بتایا کہ پولیس کی بربرکارروائی ، توڑ پھوڑ، لاٹھی چارچ اور بے قصوروں کی گرفتاری سے پورے ضلع میں ایک خاص طرح کے دہشت کا ماحول ہے ۔ جب جمعیة علماءکے ضلعی اراکین نے ضلع انتظامیہ سے رابطہ کیا تو انہوں نے بے قصوروں کی رہائی اور قصورواروں پر سخت کارروائی کرنے کی یقین دہانی کرائی لیکن ابھی تک ایک بھی نعرے لگانے والے ،رنگ پھینکنے والے یا توڑ پھوڑ کرنے والے قصورواروں کے خلاف مقدمہ تو دور کی بات ایف آئی آر تک درج نہیں کی گئی۔ جو کہ حکومت ،پولیس اور انتظامیہ کی یکطرفہ کارروائی کو صاف ظاہر کرتا ہے۔ مولانا نے بتایا کہ انہوں نے ضلع مجسٹریٹ اور ایس پی کو خط بھی ارسال کیا ہے اورکہا کہ وہ ضلع کے بڑے ذمہ داران ہیں ، پورے ضلع میں امن وامان اور سکون قائم رکھنا اور بے قصوروں کی حفاظت کے ساتھ شرپسندوں کے خلاف کارروائی کرناآپ کا فرض ہے ، اگر آپ ہی کسی وزیر یا نیتا کے دباو¿ میں آ جائیں گے تو پریشان عوام کس کے پاس انصاف کی امید لے کر جائے گی۔ مولانانے حکومت اور ضلع انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ نئی روایت قائم کرنے والے قصورواروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے، خصوصاً جو نام ضلع انتظامیہ کو دئے گئے ہیں ان کے خلاف فوراً ایف آئی آر درج کراکرمقدمہ چلایا جائے ۔جن بے قصوروں کی اب تک گرفتاری کی جا چکی ہے ان کو جلد از جلد رہا کیا جائے ، فساد میں جن لوگوں کی دکانوں میں توڑ پھوڑ کی گئی ان کو معقول معاوضہ دیا جائے ۔ یکطرفہ کارروائی اور لاپروائی بڑے افسران کو زیب نہیں دیتا ۔ جن فرقہ پرست طاقتوں کے ذریعہ خوف ودہشت کا ماحول بنا یاجا رہا ہے ان کو نشانزد کرتے ہوئے ان پر گہری نگاہ رکھی جائے تاکہ یہ شرپسند اپنی گھناونی کوششوں میں کامیاب نہ ہوسکیں اور پرامن عوام بے خوف وخطر ہوکر سکون کے ماحول میں سانس لے سکے۔

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading