بھیونڈی فساد2016‘گرفتار12ملزمین کی ضمانت منظور

ممبئی :27اکتوبر (پریس ریلیز)13 اکتوبر2016ءکو گنجان مسلم آبادی والے صنعتی شہر بھیونڈی میں محرم کے موقع پر نکلنے والے تعزیہ کے جلوس کے دوران پھوٹ پڑنے والے فرقہ وارانہ فسادات جس میں 8 افراد شدید زخمی اور چند پولس اہلکاروں کو بھی پتھر او¿کی وجہ سے چوٹیں آئی تھیں کے معاملہ میں گرفتار12مسلم نوجوانوں کومشروط ضمانت پر رہا کیئے جانے کے تھانہ سیشن عدالت نے احکامات جاری کیئے ۔یہ اطلاع آج یہاں ملزم کو قانونی امداد فراہم کرنے والی تنظیم جمعیة علماءمہاراشٹر (ارشد مدنی) قانونی امداد کمیٹی کے سربرہ گلزار اعظمی نے ممبئی میں اخبار نویسوں کو دی ۔گلزار اعظمی نے بتایا کہ ملزمین محمد توصیف خان، سلطان نسیم شاہا، سمیر مسلم انصاری ،محمد جاوید شیخ، محمد جلیل علی حسن انصاری ،محمد عالم شیخ،محمد علی منیر شیخ،شہباز اقبال انصاری،شبیر سلیم شاہا،نوشاد سلیم شاہا،محمد اکرم حبیب اللہ انصاری،کمال احمد نہال احمد انصاری، رفیق شیخ،محمد افروز حنیف صدیقی اور فیاض جعفر خان کی ضمانت عرضداشت پر ایڈوکیٹ متین شیخ اور ایڈوکیٹ ارشد شیخ نے بحث کی اور عدالت کو بتایا تھا کہ اس معاملے میں چارج شیٹ داخل کی جاچکی ہے اور سپریم کورٹ نے اس سے قبل دو ملزمین کو اور سیشن عدالت نے دوملزمین کو ضمانت پر ہا کیا تھا لہذا ان ملزمین کو بھی ضمانت پر رہائی ملنا چاہئے ۔دفاعی وکیل کے دلائل سے اتفاق کرتے ہوئے تھانہ سیشن عدالت کے جج امبڈکر نے ملزمین کو پندرہ ہزار روپیہ کے ذاتی مچلکہ پر رہا کیئے جانے کے احکامات جاری کیئے اور ملزمین پرسرکاری گواہوں سے رابطہ نا کرنے اور ان کے خلاف موجود ثبوت وشواہدسے چھیڑ چھاڑ ناکرنے کی ہدایت دی۔گلزار اعظمی نے بتایا کہ ابتک جمعیة علماءکی کوششوں سے 16 ملزمین کو ضمانت پر رہا کرایا جاچکا ہے اور دیگر ملزمین کی ضمانت پر رہائی کے لیئے کوشش جاری ہے۔واضح رہے کہ 13 اکتوبر ۶۱۰۲ءکو محرم کے موقع پر بھیونڈی شہر سے تعزیہ کا جلوس نکالا گیا تھا جسے شہر میں گھمایا جارہا تھا اس دوران ہنومان مندر کے پاس چند شرپسندوں نے جلوس میں رخنہ اندازی کی کوشش کی اور شرکاءجلوس پر پتھراﺅ کیا جس کے بعد دونوں فرقوں کی جانب سے ایک دوسرے پر پتھراﺅ کیا گیا اس دوران پولس بھی پتھراﺅ کی زد میں آگئی اور اس کی گاڑیوں کو شدید نقصان پہنچا تھا ۔ادثہ کی اطلاع ملنے کے بعد شاستری نگر پولس نے ۹۱ مسلم نوجوانوںکے خلاف تعزیرات ہند کی دفعات307, 395, 436, 353, 332, 336, 338, 427, 143, 147, 148, 149 ، 34اور پبلک پراپرٹی ڈیمجیس ایکٹ کی دفعہ 3 اور 4نیز بامبے پولس کی دفعہ 37(1) 135 کے تحت مقدمہ قائم کیا اور ان تمام ملزمین کے خلاف فرد جرم بھی عدالت میںداخل کی تھی۔

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading