نئی دہلی: دہلی وقف بورڈ کی طرف سے جھارکھنڈ میں موب لنچنگ کے شکار ہوئے تبریز انصاری، جن کی اس واقعہ میں موت ہو گئی ہے، ان کی مدد کے لئے ہاتھ بڑھایا ہے۔ دہلی وقف بورڈ کے چیئرمین اور عام آدمی پارٹی کے رکن اسمبلی امانت اللہ خان نے اس حوالہ سے ٹوئٹ کر کے اطلاع دی۔ اس ٹوئٹ کے مطابق دہلی وقف بورڈ ہلاک شدہ تبریز انصاری کی بیوی کو 5 لاکھ روپے کی امداد کرے گا۔
دہلی وقف بورڈ کی طرف سے مزید کہا گیا کہ مقتول تبریز کی بیوی کو نوکری بھی دی جائے گی اور انہیں قانونی امداد بھی فراہم کی جائے گی۔ غورطلب ہے کہ حال ہی میں جھارکھنڈ کے سرائے کیلا کھرساواں ضلع کے گھاتکی ڈیہہ گاؤں میں مقامی لوگوں نے بائیک چوری کے الزام میں مسلم نوجوان تبریز انصاری کو اتنا زد و کوب کیا تھا کہ وہ زخموں کی تاب نہ لا سکے اور دم توڑ گئے۔
Delhi Waqf Board chairman and AAP MLA Amanatullah Khan: Delhi Waqf Board will give Rs 5 lakh to wife of Tabrez Ansari (who was lynched in Jharkhand). Waqf Board will also give her a job and provide her legal assistance. pic.twitter.com/vz3YlNSkJA
— ANI (@ANI) June 27, 2019
اتنا ہی نہیں تبریز کے ساتھ مار پیٹ کے دوران ’جے شری رام‘ اور ’جے ہنومان‘ کے نعرے بھی لگوائے گئے۔ اس واقعہ کی ویڈیو وائرل ہو گئی تھی جس میں تبریز انصاری کو مار پیٹ نہ کرنے کی گزارش کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔ تبریز کے اہل خانہ کا الزام ہے کہ اسے محض اس لئے پیٹا گیا کیوں کہ وہ مسلمان تھا۔ اس معاملہ میں اب تک 11 لوگوں کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔ سرائے کیلا کھرساواں کے پولس سپرنٹنڈنٹ کارتک ایس نے کہا، ’’کھرساواں پولس اسٹیشن کے انچارج اور ایک سب انسپیکٹر کو معاملہ کی سنجیدگی کو نہ سمجھنے کی بنا پر معطل کر دیا گیا ہے۔
تبریز کے قتل پر پولس نے حملہ آوروں کے خلاف آئی پی سی کی دفعہ 302 (قتل) اور 295 اے (دانشتہ طور پر اور بدنیتی سے کی گئی واردات، کسی مخصوص طبقہ کے مذہبی جذبات مجروح کرنے کے ارادے سے کی گئی واردات) کے تحت معاملہ درج کیا تھا۔
پارلیمنٹ میں بھی گونجا تھا معاملہ
صدر کے خطبہ پر شکریہ کی تحریک کے دوران بحث کرتے ہوئے اے آئی ایم آئی ایم کے سربراہ اسد الدین اویسی نے کہا تھا کہ موب لنچنگ کے واقعات رونما ہونے بند نہیں ہوں گے کیوں کہ بی جے پی اور آر ایس ایس نے مسلمانوں کے تئیں نفرت کو ہوا دی ہے، یہی وجہ ہے کہ آج مسلمانوں کو دہشت گرد، غدار ملک اور گائے کے قاتل کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ ایسے حالات یں کیا ملک 5 ٹریلین کی معیشت بن پائے گا۔
سماجوادی پارٹی کے رکن پارلیمان اعظم خاں نے بھی واقعہ کی سخت مذمت کی تھی۔ منگل کے روز کانگریس صدر راہل گاندھی نے کہا تھا کہ یہ واقعہ انسانیت کے نام پر سیاہ داغ ہے۔ اس پر مرکز اور جھارکھنڈ کے طاقت ور لوگوں کی خاموشی حریان کرنے والی ہے۔
یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – Source بشکریہ قومی آواز بیورو—-
