رضوان جان سر
بسم اللہ الرحمن الرحیم
اللَّهُ وَلِيُّ الَّذِينَ آمَنُوا يُخْرِجُهُمْ مِنَ الظُّلُمَاتِ إِلَى النُّورِ وَالَّذِينَ كَفَرُوا أَوْلِيَاؤُهُمُ الطَّاغُوتُ يُخْرِجُونَهُمْ مِنَ النُّورِ إِلَى الظُّلُمَاتِ أُولَئِكَ أَصْحَابُ النَّارِ هُمْ فِيهَا خَالِدُونَ(البقرۃ آیت 257)
اﷲ ایمان والوں کا دوست اور مددگار ہے ہے، وہ انہیں اندھیریوں سے نکال کر روشنی میں لاتا ہے، اور جن لوگوں نے کفر اپنا لیا ہے، ان کے ولی وہ شیطان ہیں جو انہیں روشنی سے نکال کر اندھیریوں میں لے جاتے ہیں ۔ وہ سب آگ کے ساتھی ہیں ۔ وہ ہمیشہ اسی میں رہیں گے
محترم بزرگو! عزیز نوجوان ساتھیو!
آپ کے سامنے سورہ بقرۃ کی ایک آیت اور اس کا ترجمہ پیش کیا گیا ہے، آج کے اس خطبے میں اسی آیت کی روشنی میں کچھ باتیں پیش کی جائیں گی.
اس آیت میں پہلی بات یہ بتائی گئی ہے کہ اللہ ان کا ولی، کارساز اور دوست ہے جو اس پر ایمان لاتے ہیں. اس میں ایک اہم نکتہ یہ ہے کہ مومنین کی برادری کسی نسل، رنگ، قوم اور علاقے کی نسبت سے نہیں بنتی بلکہ ایک عقیدے اور ایمان سے بنتی ہے اور وہ عقیدہ یہ ہے کہ اللہ کو اپنا خالق، مالک اور حاکم تسلیم کیا جاے،محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کا آخری پیعمبر تسلیم کیا جاے. جس شخص نے بھی اللہ کو اپنا خالق مالک اور حاکم تسلیم کرلیا وہ مومن ہے چاہے اس کا تعلق زمین کے کسی بھی حصے سے ہو، وہ کسی بھی قوم یا نسل سے ہو، وہ کوئی بھی زبان بولتا ہو.
اب جو شخص اللہ پر ایمان لے آتا ہے اس کا دوست، ولی، ساتھی اور مددگار اللہ تعالی ہوجاتا ہے. اب جس کا ولی اللہ ہوجائے اس کی خوش نصیبی کا کیا کہنا، اس کی رفعت اور مرتبے کا کیا ٹھکانہ. جس کا ولی اللہ ہوجائے پھر اسے دنیا میں کسی دوسری قوت اور سہارے کی ضرورت باقی نہیں رہتی.
اللہ پر ایمان لاتے ہی اس کی زندگی کی شاہراہ روشن ہوجاتی ہے،وہ اللہ کے نور کی روشنی میں زندگی بسر کرتا ہے. اس کے سامنے راہ ہدایت کھل کر آجاتی ہے، اس کے ہاتھ میں کامیابی کی سب سے اہم کلید آجاتی ہے.اس کی نگاہ ہمیشہ اللہ کی خوشنودی پر ہوتی ہے، وہ ہر معاملے میں اللہ کی شریعت اور اس کی مرضی کو پیش نظر رکھتا ہے، اس پر شیطان کا زور نہیں چلتا، وہ شیطان اور اس کی چالبازیوں سے واقف ہوجاتا ہے، جہاں بھی اس کے قدم لڑکھڑاتے ہیں اللہ کی مدد اس کے ساتھ ہوتی ہے.ہر معاملے میں اسے اللہ اور اس کے رسول کی رہنمائی حاصل ہوتی ہے. نظریات اور مختلف ازم کے پرچارک اور مبلغ اسے اپنی طرف متوجہ کرتے ہیں مگر وہ کسی بھی تاریکی اور ظلمت کی طرف متوجہ نہیں ہوتا.
محترم بھائیو!
کفر وشرک، الحاد، مادہ پرستی، لا ادریت اور دوسرے تمام باطل نظامہاے فکر یہ سب کے سب ظلمتیں ہیں. یہ ظلمتیں ہر دور میں انسانیت کی سب سے بڑی دشمن ہیں.
ان ظلمتوں کا مقابلہ صرف اللہ کا نور کرسکتا ہے. اللہ کا دین کر سکتا ہے، اس کی شریعت کرسکتی ہے.
سورہ بقرہ ہی میں اس آیت سے پہلی والی آیت میں کہا گیا ہے کہ فمن یکفر بالطاغوت و یومن باللہ فقد استمسک بالعروۃ الوثقی لا انفصام لھا
اب جو کوئی طاغوت کا انکار کرے اور اللہ پر ایمان لے آیا تو اس نے ایک ایسا مضبوط سہارا تھام لیا جو کبھی ٹوٹنے والا نہیں ہے. حقیقت یہ ہے کہ اللہ پر ایمان لانے والا ایک ایسے حصار میں محفوط ہوجاتا ہے جہاں ظلمتیں اور باطل طاقتیں اس کا کچھ بگاڑ نہیں سکتیں، اس کا حامی اور مددگار اللہ ہوجاتا ہے جو ہر وقت اس کی حفاظت کے لیے موجود ہوتا ہے.
محترم بھائیو! یہاں ظلمات سے مراد جہالت کی تاریکیاں ہیں، کفر وشرک اور باطل افکار کے اندھیرے ہیں جن میں پھنس کر انسان اپنی کامیابی اور سعادت کی راہ سے دور نکل جاتا ہے، ظلمات ظلمت کی جمع ہے، نور واحد ہے، یہ ہمیشہ ہر جگہ اور ہر زمانے میں ایک ہوتا ہے جب کہ ظلمات اور تاریکیاں بے پناہ ہیں، ہر دور، ہر زمانے کے انسان کو نت نئی ظلمتوں سے واسطہ پڑتا ہے، .اگر آدمی کو اللہ کے نور کی روشنی میسر نہ آے تو وہ نہ جانے کتنی ظلمتوں میں حیران و سرگرداں رہے گا، اسے نہ تو راہ ہدایت ملے کی اور نہ اس کی زندگی میں کبھی اطمینان وسکون ہوگا. وہ حقیقت سے دور نکل کر اپنی ساری توانائیاں اور کوششیں غلط راہوں میں لگاتا رہے گا اور اخیر میں خسران اور ناکامی اس کا مقدر ہوگی..
اللہ پر اگر ایمان کامل ہو، شعوری ایمان ہو، اہل ایمان اگر اپنے دعواے ایمان میں سچے ہوں تو ایسے ہی لوگوں کے بارے میں کہا گیا ہے کہ وانتم الاعلون ان کنتم مومنین
تم ہی سربلند رہوگے اگر تم واقعی مومن ہو،
ان الذین قالو ربنا اللہ ثم استقامواتتنزل علیھم الملائکۃ
جنھوں نے کہا کہ ہمارا رب اللہ ہے پھر اس پر جمے رہے تو ان کی نصرت کے لیے فرشتے نازل ہوتے ہیں.
حقیقت یہ ہے کہ اللہ پر ایمان ہر بھلائی کا سرچشمہ اور منبع ہے اور اس کا انکار ہر طرح کے خسران کا موجب.
ہمیں اللہ نے ایمان کی نعمت سے نوازا ہے. اسلام کی شکل میں ایک مکمل نظام زندگی عطا کیا ہے. قرآن مجید میں اس کو اتمام نعمت سے تعبیر کیا گیا ہے واتممت علیکم نعمتی اور تم پر اپنی نعمتوں کو تمام کردیا. اس نعمت پر ہم اللہ کا جتنا بھی شکر ادا کریں کم ہے،شکر کی بہترین شکل یہ ہے کہ ہم ایمان کے تقاضوں کو پورا کریں، ہمارا ایمان صرف دعوی ایمان نہ ہو بلکہ وہ ایمان ہماری زندگی کے ہر گوشے سے عیاں اور ظاہر ہو.ہماری زندگی پر اسلامی کی حکمرانی ہو، ہم ہر کام شریعت کے مطابق انجام دینے کی کوشش کریں. اللہ ہمیں اس نعمت ایمان کی قدر دانی کی توفیق دے. آمین
اس آیت میں دوسری بات یہ بتائی گئی ہے کہ
جو لوگ اللہ کو تسلیم نہیں کرتے ان کا دوست اور پشت پناہ طاغوت ہوتا ہے،طاغوت کے لفظی معنی ہیں اپنی حد سے آگے برھ جانے والا، یہاں طاغوت سے مراد وہ معبود، وہ نظام یا وہ رسم ورواج یاوہ طاقتیں ہیں جنھیں انسان خدا کو چھوڑکر اختیار کرتا ہے یا جن کی پیروی کرتا ہے. ایک طاغوت تو شیطان ہے، اسی طرح ایک طاغوت انسان کا اپنا نفس ہے جو اسے راہ حق سے روکتا ہے، رہنما، حکومت، دوست احباب، خاندان، بیوی بچے، مال و دولت، حب مال و جاہ اور خواہشات بھی طاغوت ہیں جو انسان کو اللہ کے راستے سے دور کردیتی ہیں.
اب جو لوگ اللہ کو اپنا مالک اور رب تسلیم نہیں کرتے تو ان کے رہنما اور رب طرح طرح کے طاغوت ہیں جو انھیں ظلمات کے اندھیروں میں بھٹکاتے ہیں، انھیں روشنی اور صحیح طریقہ زندگی سے دور کرتے ہیں
ومن یعش عن ذکر الرحمان نقیض لہ شیطان فھو قرین جو اللہ کے ذکر سے بے پروا بن جاتے ہیں ہم ان پر ایک شیطان مسلط کردیتے ہیں اور وہ ان کا ساتھی بن جاتا ہے. یہ مختلف قسم کے طاغوت انسان کو کبھی راہ ہدایت کی طرف نہیں آنے دیتے. ہر ٹھوکر کے بعد ایک دوسری بڑی ٹھوکر ان کا مقدر ہوتی ہے، وہ ایک اندھیرے سے باہر آتے ہیں تو دوسرا اندھیرا ان کا منتظر رہتا ہے، طاغوت کے ساتھیوں کو کوئی اجالا اور روشنی راس نہیں آتی، ان کے دل پر مہر لگ جاتی ہے، ان کی فطرت مسخ ہوجاتی ہے،یہ ظلمات یہ طلمتوں کا نظام ہمیشہ انسانیت کا دشمن ثابت ہوا ہے، آج مادیت اور سرمایہ دارانہ نظام نے دنیا کے امن و سکون کو غارت کر رکھا ہے. ہر طرف جنگ وجدل کا بازار گرم ہے. انسان خود اپنے ہاتھوں اپنی دنیا یا اپنے مسکن کی تباہی کے درپے ہے. سرمایہ دارانہ نظام کے معاشرتی استحصال نے انسانوں کی زندگی اجیرن کر رکھی ہے.
.طاغوت اور اس کے پیروکار دنیا میں بھی پریشان رہتے ہیں اور آخرت کا خسران تو ان کا مقدر ہے.
محترم بھائیو!
ہمارے پاس اللہ کا نور ہے. اللہ کی بخشی ہوئی روشنی اور ہدایت ہے.اللہ کا آخری دین ہے ایک ایسا دنیا جو تمام انسانوں کے لیے ہے، جو ہر زمانے کے لیے ہے. دنیا بار بار اس کا مشاہدہ کر چکی ہے کہ جب بھی یہ نظام قائم ہوا دنیا امن و سکون سے بھر گئی.
ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم اس روشنی اور نور سے ہدایت حاصل کریں، اپنی پوری زندگی کو اس نور سے منور کریں. اگر ہم اس نور سے روشنی حاصل کرتے ہیں تو ہم کامیاب ہیں ورنہ ہم سے زیادہ بدنصیب کون ہوگا جس کا پاس چراغ تو ہو مگر وہ خود اندھیروں میں ٹامک ٹوئیاں مارتا پھرے، پر پیچ اندھیرے راستوں میں ادھر ادھر بھٹکتا پھرے. حیران و پریشان رہے.
ہماری دوسری ذمہ داری یہ ہے کہ ہم اس نور سے دنیا کو منور کرنے کی کوشش کریں. یہ نور، یہ روشنی، یہ ہدایت ایک امانت ہے، اس امانت کا حق اس وقت تک ادا نہیں ہوسکتا جب تک ہم اسے دوسرے انسانوں تک نہ. ہہنچائیں.
قرآن مجید میں ہمیں خیر امت کہا گیا ہے ہمیں دنیا میں اس لیے بھیجا گیا ہے کہ ہم دنیا میں خیر کی دعوت دیں اور برائیوں سے لوگوں کو منع کریں.
خیر امت یا امت مسلمہ انبیاء کے مشن کی حامل اور وارث ہے، پیارے رسول کے بعد اب کوئی دوسرا رسول اس دنیا میں آنے والا نہیں ہے. امت کا ہر فرد چاہے وہ کسی بھی حیثیت کا حامل ہو دعوت دین اس کی ذمہ داری ہے.
سوچیے کہ ہم اس ذمہ داری کو کس حد تک ادا کر رہے ہیں، جو نور ہمارے پاس ہے اس نور سے دنیا کو کس حد تک روشن کر رہے ہیں؟
آئیے ہم عہد کریں کہ ہم روشنی کے سفیر بنیں گے، ظلمات اور تاریکیوں میں بھٹکتی دنیا کو اللہ کی طرف بلائیں گے،لوگوں کو اسلام اور اس کی اعلی تعلیمات سے واقف کروائیں گے. اندھیروں کو مٹائیں گے اور روشنی کو پھیلانے والے بنیں گے. آمین
اَللّٰھُمَّ اجْعَلْنَا مِنْ عِبَادِکَ الْمُؤْمِنِیْنَ‘ اَللّٰھُمَّ اَخْرِجْنَا مِنَ الظُّلُمٰتِ اِلَی النُّوْرِ۔ آمین یا ربّ العالمین!
وآخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین