نئی دہلی: آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے اتراکھنڈ حکومت کی جانب سے پیش کیے گئے ’اقلیتی تعلیمی بل 2025‘ کی سخت مخالفت کرتے ہوئے اسے آئین میں دیے گئے بنیادی حقوق کے منافی قرار دیا ہے۔ بورڈ نے واضح کیا ہے کہ اگر ضروری ہوا تو اس معاملے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا جائے گا۔بورڈ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ ہندوستان کا آئین اپنے شہریوں کو مذہبی آزادی کی ضمانت دیتا ہے۔ خاص طور پر آئین کی دفعات 25 اور 26 مذہبی آزادی کو یقینی بناتی ہیں، جبکہ دفعہ 30 کے تحت مذہبی اقلیتوں کو اپنے تعلیمی ادارے قائم کرنے اور انہیں چلانے کا مکمل حق حاصل ہے۔
بورڈ نے اس بات پر زور دیا کہ مدارس نہ صرف مذہبی تعلیم کا مرکز ہیں بلکہ یہ ملک کی تہذیبی اور سماجی شناخت کے تحفظ میں بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔بیان میں مزید کہا گیا کہ مدارس نے ہندوستان کی آزادی کی جدوجہد سے لے کر موجودہ دور تک معاشرے کی تعمیر و ترقی میں نمایاں خدمات انجام دی ہیں۔ اس کے باوجود، کچھ حلقے سیاسی مفادات کے تحت اقلیتوں کو ان کے مذہبی تشخص سے محروم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، جو ایک تشویش ناک رجحان ہے۔ بورڈ کے مطابق مدارس کو کمزور کرنے کی یہ کوشش ایک منظم حکمت عملی کا حصہ معلوم ہوتی ہے۔
بورڈ نے اتراکھنڈ حکومت کے مجوزہ قانون پر خاص اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ اس کے تحت تمام مدارس کے لیے سرکاری تعلیمی بورڈ میں رجسٹریشن لازمی قرار دیا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ، حکومت کے ماتحت تعلیمی بورڈ کو یہ اختیار دیا جا رہا ہے کہ وہ نصاب اور مذہبی مواد کا تعین کرے، جس سے مدارس کی خودمختاری متاثر ہوگی۔آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے اس اقدام کو نہ صرف آئینی حقوق کی خلاف ورزی قرار دیا بلکہ اسے ایک سیکولر ریاست کے اصولوں کے بھی خلاف بتایا۔ بورڈ کا کہنا ہے کہ مدارس کی خودمختاری کا تحفظ مسلم سماج کی مشترکہ ذمہ داری ہے اور اس سلسلے میں ہر ممکن آئینی و قانونی قدم اٹھایا جائے گا۔
بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ اس معاملے سے متعلق کچھ درخواستیں پہلے ہی اتراکھنڈ ہائی کورٹ میں زیر سماعت ہیں۔ اگر ان درخواستوں کے ذریعے مناسب راحت حاصل نہیں ہوتی تو بورڈ سپریم کورٹ سے رجوع کرے گا۔ واضح رہے کہ اتراکھنڈ حکومت نے اس بل کے تحت ریاستی مدرسہ بورڈ کو ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور تمام مدارس کو اتراکھنڈ بورڈ یا سی بی ایس ای سے منظوری لینا لازمی قرار دیا ہے، جس پر ملک بھر میں بحث تیز ہوگئی ہے۔