منظم حملہ کی خوفناک تصویر: نقصان زدہ مدرسہ-مسجد، خاکستر دکانیں اور ویران مکانات

نئی دہلی: پچھلے 9 روز قبل شمال مشرقی دہلی کے کئ مقامات پر پھیلے تشدد کے بعد اب رفتہ رفتہ فساد زدہ علاقوں میں خوف و ہراس کی فضا کسی نہ کسی حال میں چھٹتی نظر آ رہی ہے۔ جمعیۃ علماء ہند کے اراکین کے ساتھ قومی آواز کے نمائندہ نے فساد زدہ علاقوں کا دورہ کیا اور وہاں کا حال جانا۔

مصطفیٰ باد میں متاثرین مسلم خواتین سے فساد کے حالات پر بات کرتی ہوئی ہندو خواتین
کھجوری میں بھارتی فوج کے جوان محمد انیس کے والد محمد منیس درمیان میں دیکھے جا سکتے ہیں
کھجوری خاص میں تعینات ایس ڈی ایم گورو یادو جمعیتہ علماء ہند کے اراکین کے ساتھ
بھاری فوج کے جوان محمد انیس کا آگزنی کی زد میں آیا ہوا مکان
کھجوری خاص کی گلی نمبر 4 کے راستہ میں آگزنی کی زد میں خاکستر بائیک
ایس ڈی ایم گورو یادو جمعیتہ علماء کے اراکین سے متاثرہ لوگوں کے مسائل پر گفتگو کرتے ہوئے
راہل گاندھی مصطفیٰ باد کی فاروقیہ مسجد کے دروازے سے داخل ہوتے ہوئے

جمعیۃ علماء کا یہ وفد سب سے پہلے فساد زدہ چاند باغ میں واقع جامع مسجد پہونچا جہاں پر سینکڑوں متاثرین موجود تھے جن کو یہاں سے اشیاء خورد نوش کے تقسیم کرنے کا کام شمال مشرقی دہلی کے جنرل سیکرٹری مولانا جمیل اختر اپنے مقامی ساتھیوں کے ساتھ کرتے ہوئے ملے۔

اس موقع پر دہلی جمعیۃ علماء ہند کے مرکزی دفتر سے دہلی جمعیۃ کے صوبائی صدر مولانا محمد مسلم قاسمی کی سربراہی میں پہونچے وفد نے راحت کے عمل میں بھی حصہ لیا۔ یہاں سے تقریباً ایک کلومیٹر کی دوری پر واقع کھجوری خاص گلی نمبر 4 سے گذرتے ہوئے مسجد فاطمہ پہونچے۔

متاثرہ علاقہ کا دورہ کر کے حالات کا جائزہ لیا۔ جائزہ میں عام شاہ راہ کی مارکیٹ میں جلی ہوئی دوکان شوروم گاڑیوں کا منظر سے ایسا لگ رہا ہے تھا کہ ، یہاں پہلے سے مسلمانوں کی دوکانوں کو برباد کرنے کے لیے مکمل شناخت کرکے دنگائی اور فسادیوں نے تشدد اور فساد کو منظم طریقے سے انجام دیا ہے۔

کھجوری خاص کی گلی نمبر 4 کے دروازہ پر پہونچےجہاں ایس ڈی ایم گورو یادؤ مقامی لوگوں سے گفتگو کرتے ہوئے ملے جو بحیثیت سرکاری انتظامیہ اعلی افسر کے طور پر خاکستر ہوئی دوکان مکانوں کی باز آبادکاری کے عمل میں سرکاری ملازمین کو لیکر بنیادی سہولیات بجلی پانی گیس کی ترسیل کے کاموں کو اپنی نگرانی میں کرا رہے تھے۔

یہاں اراکین جمعیۃ علماء ہند کے وفد نے جب ایس ڈی ایم گورو سے ملاقات کی اور یہاں کھجوری خاص کی گلی میں واقع مسجد فاطمہ میں کام کرانے کی بات کی تو انہوں نے فوری طور پر مسجد کی تجدید کاری کرنے کی بات کی اور برجستہ ایس ڈی ایم گورو نے مسجد میں کام کرانے کی بات کہی۔ واضح رہے کہ یہاں پر واقع کئ منزلہ مسجد فاطمہ کو فسادیوں نے مکمل آگ لگا کر اجاڑ دیا تھا جو دیکھنے میں انتہائی مخدوش نظر آ رہی تھی۔

مسجد فاطمہ فساد کے پہلے دن سے غیر آباد چل رہی تھی جس میں کل ہی سے نماز پنجگانہ ادا ہونی شروع ہو گئ ہے، اس گلی نمبر چار میں 40 سے 45 مسلمانوں کی آبادی تھی جو مکمل طور پر سبھی مکانات آگ زنی اور توڑ پھوڑ کے ذریعے اپنی تباہی کی سراپا تصویر بنے ہوئے تھے۔

یہاں کے مقامی محمد عارف، نے بتایا کہ اس گلی کے 33 مسلمان زخمی ہوئے ہیں، فیاض عالم اورمشاہد نے بھری آواز میں اپنے حالات بتاتے ہوئے کہا کہ، ہماری پوری دوکان اور مکانات سب خاکستر کر دیے گئے ہیں، جیسا آپ کے سامنے ہے، مشاہد نے بتایا کہ فسادیوں نے 5 تولہ زیور فون 70 ہزار نقدی سمیت دیگر چاندی کے زیورات سب کو لیکر گھر کو توڑ پھوڑ کر سب سامان کو آگ لگا کر گھر کے سامان کو خاک کے ڈھیر میں تبدیل کر دیا ہے، پاس میں گلی نمبر 5 میں کا دورہ کیا جہاں پر انڈین آرمی کے جوان محمد انیس کے والد محمد منیس سے ملاقات ہوئی، اس دوران جمعیۃ علماء ہند کے وفد کے سامنے انہوں نے بتایا کہ ہماری گلی میں 9 مکان ہیں جو مکمل طور پر خاکستر ہو گیے ہیں، ہم لوگ اس گلی سے فسادیوں کے آنے سے پہلے مکانات چھوڑ کر نکل گیے تھے، لیکن جس کی وجہ سے ہم بچ گیے تھے لیکن مکانات چار چار منزلہ سب تباہ کر دیے ہیں، میرا بیٹا فوجی ہے، ہمارا پورا مکان جل چکا گیا تھا لیکن بیٹے انیس کو بعد میں پتہ چلا۔

یہاں سے چاند باغ کے دھرنا پر پہونچے جہاں سے یہ 23 فروری کو فساد شروع ہوا تھا، یاد رہے کہ یہاں کے مقامی لوگ ایک مہینہ سے زائد دھرنے پر بیٹھے ہوئے تھے جو اب فساد کے دن سے ختم ہو گیا ہے، یہاں سے جمعیۃ علماء کے وفد نے برجپوری پلیا مصطفیٰ باد میں واقع مسجد فاروقیہ اور جامعۃ الھدی پہونچے، جہاں پر کچھ خواتین آگزنی کی زد میں آئی مسجد اور مدرسہ کا جائزہ لے رہی تھی، ان میں سے ایک افروزہ نامی خاتون جو یہاں پر جاری احتجاج میں شامل ہوتی رہی تھی یہاں کے حادثہ کی چشم دید تھی انہوں نے مکمل حالات پر روشنی ڈالی۔ فاروقیہ مسجد کے صدر فخرالدین نے دورہ کراکر بتایا کہ مسجد سے متصل ادارہ جامعۃ الھدی کو پوری طرح آگ کے حوالے کر دیا اور فسادیوں نے مدرسہ کے آفس کے تمام ریکارڈ کو آگ کے حوالے کر دیا جس کے باقیات صاف طور پر نظر آ رہے تھے۔

یہاں سے یہ پورا وفد مصطفیٰ باد میں گھروں سے بے گھر ہوے لگے لوگوں کا کیمپ کا دورہ کیا جہاں 7پنڈالوں پر مشتمل وسیع عریض پیمانے پر لگے ہوئے تھے، یہاں خواتین کے انتظام انصرام کا ذمہ یہاں کے ایم ایل اے حاجی یونس کی اہلیہ شمع پروین اور کی تین بیٹیاں دیکھ رہی تھیں انہوں نے بات کرتے ہوئے کہا کہ، ہم تمام متاثرین کی ہر طرح کی سہولیات کے لیے کام کر رہے ہیں، ااس موقع پر جمعیۃ علماء ہند کے اس وفد نے یہاں بیٹھے ہوئے وکلا سے متاثرین کے مسائل کے حوالے سے گفتگو کی۔

یہاں سے پھر واپسی میں فاروقیہ مسجد پہونچے جہاں پر کانگریس پارٹی کے سینئر رہنما راہل گاندھی قافلہ کے ساتھ پہونچے، فاروقیہ مسجد کا دورہ کے دوران یہاں جمعیۃ علماء ہند کے آرگنائزر مفتی عبدالقدیر نے فاروقیہ مسجد میں داخل ہونے پر تباہی اور بربادی کے حالات کو بتایا اور کہا کہ، جس طرح پولس اور فورس اور غنڈوں نے ننگا ناچ کیا اس پر روشنی ڈالی اس موقع پرمفتی عبدالقدیر نے کہا کہ فسادیوں کے مقابلہ آرائی کے لیے ایسی کمروں سے باہر آنا ضروری ہوگا، ورنہ یہ گاندھی کا ملک دیکھتے دیکھتے یونہی برباد ہوتا رہے گا اور آپ ایسے ہی فساد متاثرین علاقوں کے دورہ کرنے کو ہی محض مرہم سمجھتے رہوگے۔ کم و بیش اسی طرح کا ماحول سیلم پور، جعفرآباد، موج پور، کبیر نگر، چاند باغ، وجے پارک میں دیکھنے کو ملا۔

یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – بشکریہ قومی آواز بیورو

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading