ممتا کی تڑپ 

 آزاد عباس چوگلے
ابوظہبی میں دو عزیز ہی نہیں بلکہ دلعزیز سہیلیاں قیام پذیر تھیں۔ ایک کا نام معصومہ تھا تو دوسری کا نام سورنا تھا۔ اتنی گہری دوست کہ جیسے ایک جان دو قلب۔ ہر چھوٹی سے چھوٹی خریداری کے لیے ساتھ جاتی تھی۔ اتفاق سے دونوں کی پسند بھی یکساں تھی۔ گھنٹوں ایک دوسرے سے فون پر ہمکلام رہتی تھی۔ ہر چھوٹی سے چھوٹی بات ایک دوسرے سے بانٹتی تھی۔ اتنا ہی نہیں ایک دوسرے کے بچوں پر جان نچھاور کرتی تھی۔ ماشاءاللہ انکی دوستی پر رشک تھا کہ ایسی بھی دوستی ہوتی ہے ۔
معصومہ ابھی ابھی ابوظہبی آئی تھی کوئی خاص دوستی نہیں تھی ان ہی دنوں سورنا بھی چند ماہ قبل ابوظہبی آئی تھی جو پیشے سے نرس تھی اور اُسے بھی ایک پرخلوص دوست کی تلاش تھی۔ ایک دن معصومہ اپنی بیمار بیٹی کو لے کر ایک ہسپتال گئی جہاں اُس کی ملاقات سورنا سے ہوئی۔ چونکہ دونوں ممبئی سے تعلق رکھتے تھے تو خیر خیریت بڑی تفصیل سے دریافت کی ایک دوسرے کو اپنا اپنا فون نمبر دیا اور بہت اچھی اور سچی دوست بن گئی۔ اب ان کی دوستی کو چند ہی دن ہوچکے تھے کہ سورنا نے بتایا کہ میری پہلی ڈیلیوری ہے لہٰذہ میں اپنی ماں کے پاس ممبئی جا رہی ہوں اور وہ گئی قریباً دو ماہ بعد اُس کا فون آیا کہ میں ابھی ابوظہبی میں ہوں چونکہ میری ویزہ ختم ہوچکی اُسے لگوانے آئی ہوں اور میری ننھی پری میرے ماں کے پاس ہے ویزہ لگتے ہی میں واپس چلی جاو¿ں گی بس دو تین دن رہنا ہوگا ۔ لہٰذہ میں شام کو آپ کو ملنے آپ کے گھر آرہی ہوں۔
حسب وعدہ سورنا شام کو معصومہ کے گھر پہنچی اور ڈھیر سارے تحفے معصومہ اور میاں کے لیے اور ان کی بیٹی کے لیے لائے۔ معصومہ پہلے سے ہی کچھ خاص پکوان کی تیاری میں لگ چکی تھی مزید کچھ بنانا چاہتی تھی مگر سورنا نے پوری طرح سے منع کردیا کہا کچھ نہ بناو¿ آج ہم ڈھیر ساری باتیں کریں گے۔ پھر بھی معصومہ نے نہایت ہی خلوص و عقیدت سے پکوڑے بنائے ساتھ میں کچھ میٹھا بھی بنایا جب یہ سب خوردونوش مع بسکٹ کے سامنے رکھا تو دیکھا کہ سورنا کے میاں سب کچھ کھارہے ہیں اور پکوڑے کی تعریف بھی کررہے ہیں مگر اُس کی سہیلی صرف اور صرف بسکٹ ہی کھارہی ہے ۔ معصومہ کافی حیران و پریشان ہوگئی کہ اُس کی دلعزیز سہیلی نہ پکوڑے کھارہی ہے نہ ہی میٹھا کھارہی ہے ۔ معصومہ بضد تھی کہ وہ کچھ کھائے مگر وہ ایک نہ مانی ۔ آخرش معصومہ نے نہایت ہی منت و سماجت سے التجا کی کہ ”نہ کھانے کی وجہ بتاو¿ تا کہ اگلی دفعہ وہ ڈش نہیں بنائیں گے اور اپنی پسند بتاو¿ تا کہ تمہاری پسند کا دھیان رکھ سکوں۔“ چند لمحے خاموشی طاری ہوگئی پھر سورنا نے کہا کہ میں ایک پکی برہمن ہوں میں کسی کے گھر کا پکوان نہیں کھاتی ۔ پلیز پلیز بُرا نہیں ماننا یہ بچپن سے میری فطرت ہے۔”مگر آپ کے میاں نے تو سب کچھ کھالیا “ معصومہ کے میاں نے ہنستے ہنستے کہا ۔ جواباً سورنا نے کہا ” ہاں میں جانتی ہوں وہ کھالیتے ہیں نہ میں نے ان کو منع کیا ہے نہ منع کروں گی کیونکہ یہ اُن کا عقیدہ ہے میں اپنے عقیدہ پر مصمم ہوں وہ اپنے عقیدہ پر۔“ معصومہ کے شوہر کہے جارہے تھے کہ ہم بالکل ناراض نہیں ہیں ہم بلکہ خوش ہیں کہ آپ نے ہمارا وقت اور خرچ بچالیا۔ اگلی دفعہ بہت قسم کے بسکٹ اور اچھی قسم کا کیک لاکر رکھیں گے۔ یہ سنتے ہی سورنا نے کہا کیک بالکل نہیں میں کیک نہیں کھاتی کیونکہ اُس میں انڈا ہوتا ہے ۔ لہٰذہ پھر سے ایک دفعہ چند لمحوں کے لیے خاموشی نے جنم لیا پھر کسی دوسرے عنوان پر بحث چلی اور وہ جانے کے لیے نکلے جاتے جاتے یہ وعدہ فرداً لیا کہ کل یہ لوگ اُس کے گھر جائیں گے۔
تیسرے دن سورنا حسب وعدہ معصومہ کے گھر گئی۔ معصومہ نے اُس کے لیے بہت اچھے اچھے اور الگ الگ قسم کے بسکٹ رکھے۔ کھاتے کھاتے ایک طویل وقت تک نشست ہوئی۔ دونوں فیمیلیوں کے مابین محبت اور اخوت کا رشتہ مضبوط ہوتا جارہا تھا ۔ بہت خوشگوار ماحول تھا ہنسی مذاق خوب ہورہی تھی کہ اچانک معصومہ کی بیٹی زور زور سے رونے لگی دونوں اندر بیڈروم میں چلی گئیں۔ چند منٹ بعد معصومہ نے اشارے سے اپنے میاں کو بُلایا اور بتایا کہ میں اپنی بیٹی کو دودھ پلارہی تھی کہ سورنا میرے قریب آئی اور نہایت ہی انکساری سے التجا کی کہ میری بھی ممتا جاگ اُٹھی ہے میری بھی چھاتی میں دودھ بھر آیا ہے میں اپنی بیٹی کو دودھ پلانا چاہتی ہوں تم بھی ایک ماں ہو تم میرے اندر جاگی ممتا کو بخوبی سمجھ سکتی ہو پلیز پلیز مجھے اجازت دیں ۔ ابھی میں آپ سے درخواست کرتی ہوں کہ سورنا کو دودھ پلانے کی اجازت دے دیں کیا فرق پڑتا ہے وہ غیر مذہب کی ہے تو….؟ جھٹ سے معصومہ کے میاں نے کہا کوئی فرق نہیں پڑتا وہ بھی ایک انسان ہے ۔ بالکل اجازت ہے وہ دودھ پلاسکتی ہے ۔ یہ دودھ نہ ہندو نہ مسلمان کا ہے بس دودھ ہے ۔ جسم کے اندر جو خون ہے یا دودھ ہے وہ ایک اللہ کی معتبر دین ہے اُس کا ہمیں احترام کرنا چاہئے ۔ یہ کسی انسان کی تشکیل کردہ شئے نہیں ہے ۔ بیشک اُسے پلانے بول دو۔ جیس ہی معصومہ کو دودھ پناے کی اجازت دی اُس کی تو بانچھیں کھل گئیں۔ پوری پوری طرح سے اُس کی آنکھوں سے ممتا ٹپکنے لگی زبان سے خوشی کے فوارے بہنے لگے ۔ اُس کے چہرے پر ایک خاص قسم کی چمک دکھائی دے رہی تھی۔ جاتے جاتے کہہ رہی تھی کہ جس کام کے لیے آئی تھی وہ کام ہوگیا کل کا آخری دن ہے کل رات بارہ بجے کی پرواز ہے ۔ گھر سے کم سے کم نو بجے تو نکلنا ہوگا۔ تھوڑی سی خریداری ہے وہ صبح کر لوں گی ۔ دوپہر کو آپ لوگ ضرور بضرور آنا میں بے چینی سے انتظار کروں گی اور دوپہر کا کھانا ہم لوگ ساتھ میں کھائیں گے۔ میں کھانے کی تیاری کررہی ہوں اتنا کہہ کر وہ چلی گئی۔
چوتھے دن دوپہر کو جب یہ لوگ اُن کے گھر پہنچے تو معصومہ ک شوہر کو ایک مذاق سوجھی اُنھوں نے سورنا کو نہایت ہی سنجیدہ انداز میں کہا ”اب میری بیٹی ہندو ہوگئی اب کیا کریں….؟“ یہ سُنتے ہی سورنا نے بآواز بلند سمجھانا شروع کردیا کہ ایسا تھوڑی ہوتا ہے جو قدرتی سیال تھا اور جس کے لیے تھا وہ اُس کے پاس پہنچ گیا ۔ اور وہ تو معصوم بچہ ہے اُسے کیا معلوم کہ یہ دودھ کس کا ہے یہ شیر خوار بچے تو بھگوان ہوتے ہیں وہ سب کو ایک ہی نظر سے دیکھتے ہیں ۔ اُنھیں کیا معلوم دھرم کس چیز کا نام ہے ۔ اگر اُسے کوئی دھرم کا پاٹھ پڑھائے بھی تو وہ سیکھ نہیں سکتے ۔ یہ دھرم ورم سب ہم بڑوں میں ہے اس دودھ جیسی پاک اور معتبر چیز پر کسی قوم یا دھرم کی چھاپ نہیں ہے یہ محض آپ کی سوچ ہے کہ بچی ہندو ہوگئی۔ ہم پہلے انسان ہیں بعد میں ہندو یا مسلمان ۔پیدا کرنے والے نے کسی کو ہندو کے گھر میں پیدا کیا تو کسی کو مسلمان کے گھر پر اُس وقت اُن کے پاس کوئی مذہب یا دھرم نہیں ہوتا۔ ہر مذہب کے بتائے ہوئے راستے بہترین ہیں مگر ہم ہیں کہ اپنے قوانین و ضوابط کو اُس میں شامل کرکے اپنے آپ کو ایک دوسرے کے لیے اجنبی بن بیٹھتے ہیں ۔ بھائی صاحب آپ میرے بڑے بھائی ہو آپ کے منہ سے ایسی باتیں زیب نہیں دیتی۔ پھر ایک دفعہ سناٹا ہوگیا سب خاموش ہوگئے۔ تب معصومہ کے شوہر نے خاموشی کو ضرب لگائی اور کہا بھابی جی میں تو مذاق کر رہا تھا ۔ ساتھ ہی ساتھ یہ سندیشہ دینا چاہتا ہوں کہ کھانا کھانا ہوتا ہے بھلے وہ کسی کے بھی ہاتھ سے بنا ہو تمہارے ہاتھ کا بنا کھانا معصومہ بڑے شوق سے کھاسکتی ہے تو تمہیں کیا اعتراض ہوسکتا ہے کیا اُس کا بنایا ہوا کھانا لذیذ نہیں ہے ؟ یا اُس کے بنائے ہوئے ضیافت میں کوئی کمی ہے….؟؟ اگر تم وہ کھانا کھاو¿گی تو تمہارا مذہب بدل جائے گا ….؟؟؟ بلکہ اس بات کا تہہ دل سے اعتراف کرو کہ تمہاری بہن کا بنایا ہوا کھانا تمہارے لیے امرت ہے ۔ اُسے کھاو¿ تا کہ دل میں کوئی خلش نہ ہو ایسا کرنے سے دلوں میں خلوص و عقیدت کی شمع تادم حیات جگمگاتی رہے گی اور جو تمہارے دل میں جو رشتہ استمراری ہے وہ ہر وقت مضبوط و مستحکم رہے گا ۔ اگر تم سمجھتی ہو کہ ہمارے گھر کا کھانا کھانے کو مذہبی پابندی ہے تو بیشک مت کھاو¿۔ جو شخص کسی کو دل کی اتھاہ گہرائیوں سے چاہتا ہے اُس کے ہاتھ سے بنایا ہوا کھانا اگر کچا بھی ہوتو وہ عیب نظر نہیں آتا۔ وہ بہت ذائقہ دار لگتا ہے میری بہنا ذرا سوچو۔ اس سے اگر تم نے تنگ دلی دکھائی تو تمہارے بچے بھی تمہارے نقش قدم پر چلیں گے اور اس طرح کھانا نہ کھانے کا تسلسل جاری و ساری رہے گا ۔
جب معصومہ اپنے گھر آنے کی تیاری کررہی تھی تو سورنا نے اُسے گلے لگایا خوب روئی مگر یہ آنسو خوشی کے آنسو تھے ۔ نہایت ہی شرمندگی سے معافی مانگی اور شیریں انداز میں کہا ۔ ابھی وقت نہیں ہے ورنہ میں آپ کے گھر آتی اور آپ کے ہاتھ سے بنی ہوئی ہر ضیافت کھالیتی۔ اب میرا یہ دل سے وعدہ ہے کہ جب میں ممبئی سے آو¿ں گی تب آپ کے ادھر کھانا کھانے پہنچ جاو¿ں گی ۔ اللہ نے میری آنکھیں کھول دی ہیں۔

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading