(محترم محمد عبدالسمیع صاحب کے نذرجن کی تہہ دار شخصیت کو سمجھنے کی ایک ادنیٰ کوشش)
از: اقبال مجید اﷲ۔69 یوسف کالونی، پربھنی Mobile: 09420816696 Email:iqbalmajeedulla@gmail.com
ہمارے شہر میں ایک ایسی شخصیت بھی ہے جس کے بارے میں بلاشبہ کہا جاسکتا ہے کہ جس کا رنگ رنگِ بہار ہے۔اور جب ہم انھیں دیکھتے ہیں تو آنکھوں میں نور، رگوں میں کیف و سرور اور دماغوں میں ادراک اور شعور بھر دیتا ہے اور ہم اس سے بصارت اور بصیرت دونوں ہی پاتے ہیں۔اور اُن سے مل کر ہم ایک ایسے احساس سے دو چار ہوجاتے ہیں جس کا اظہار ممکن نہیں بس یوں سمجھے کہ ایک خمار کی سی کیفیت طاری ہوجاتی ہے۔رسمی طور پر ہم آپ کو بتلا دیں کے اُن کہ والدین نے اُن کی شناخت کے لئے محمد عبدالسمیع ایک نام ضروردے رکھا ہے مگر اُن کے احباب سے اُن کی خصوصیات کو پیش نظر رکھتے ہوئے ہم انھیں رفیق محترم کے نام سے بھی مخاطب کرتے ہیں بظاہر نظر آنے والی سیدھی سادھی شخصیت اپنے اندر کئی پہلو سموئے ہوئی ہے۔ رفیق محترم سے ہمارے دیرنیہ مراسم کی وجہ سے ہم نے انھیں بہت قریب سے نہ صرف دیکھا ہے بلکہ انھیں سمجھنے کی مقدور بھر کوشش بھی ہنوز جاری ہے۔مگر لگتا ہے کہ یہ مرحلہ اتنا آسان نہیں اُن سے پہلی ملاقات میں آپ اُن کے بارے میں کوئی خاص تاثر یا کوئی رائے قائم نہیں کرپائیں گے مگر اُن سے مل کر آپ کا تجسس بڑھتاجائے گا اور اور اُن سے دوبارہ ملنے کی شدید خواہش پیدا ہوگی۔ اب ہم اس بات کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں ہمارے رفیق محترم میں کونسی خصوصیات ہیں جو ہمیں اپنی طرف راغب کرتے ہیں۔ دراصل بات یہ ہے کہ رفیق محترم اپنی بات چیت میں خواہ وہ روزمرہ کی بات چیت یا کسی خاص موضوع پر ہو وہ اُردو کم اور ادق اور عربی و فارسی میز الفاظ کے استعمال سے اپنے سننے والوں کو اس حد تک مسحور کردیتے ہیں کہ وہ شخص اُن کی بات چیت کو مکمل ہونے کے بعد اس سحر سے باہرنکلتا ہے اور کچھ دیر کہ بعد سنبھلنے کہ بعد ہی وہ سمجھ پاتا ہے وہ کونسے الفاظ تھے جو اُس کی سماعت سے ٹکرائے اور جس کے اثر سے وہ کچھ دیر کے لئے اپنے ہوش و حواس کھو بیٹھا۔ اب ہمارے لئے اس حقیقت سے انکار نہیں کہ ہمارے رفیق محترم کی گفتگو سننے والوں کو افہام و تفہیم کے عمل سے گذرے بغیر سمجھنا از حد دشوار ہے جب کبھی ہم اُن سے ادباًکہتے ہیں آپ ان مشکل الفاظ کو استعمال کرنے کے بجائے عام فہم اور آسان الفاظ کو اپنائیں تاکہ ہم کچھ سمجھ سکے ہم انھیں اپنی ناقص دلیل بھی د بے الفاظ میں یوںپیش کرتے ہیں کہا جاتا ہے کہ اُردو کا حسن اور اُس کی خوبصورتی اُس کی سادگی اُس کے عام فہم الفاظ میں عیاں ہے ۔اُنھوں نے ہماری اس دلیل کو بغور سنا اور نہایت فلسفیانہ انداز میں گویا ہوئے کہ آسان و عام فہم الفاظ نے اُردو کے وقار کو مجروع کرکے رکھ دیا ہے اور مزید کہا کہ آپ نے فلم مغل اعظم کے مکالموں اور اُن کی ادائیگی کے جاہ و جلال کو نہیں دیکھا ذرا آپ تصور کیجئے ان مکالموں کو اگر عام فہم زبان میںادا کئے جاتے تو کیا اُن میں وہ جان پیدا ہوسکتی تھی جو آج ہم سنتے ہیں ۔
اِن الفاظ کا جادو ہی تھا جو آج تک ہمارے ذہن میں نقش ہو کر رہ گیا ہے بھلا ہم اُن سے کیا بحث کرتے بہتر یہی سمجھا کہ اُن کی اس دلیل کو تسلیم کرلیا جائے۔کبھی خاص موقعوں پر جب کسی موضوع پر مخاطب کرنا ہوتا ہے اد ق اور بھاری بھر کم الفاظ کا استعمال سامعین کو مرعوب کرنے کے لئے ضروری ہوتا ہے ۔ مگر عام بات چیت میں یہ ادق الفاظ ایک عجیب صورتحال سے بھی دو چار کردیتے ہیں ایک ایسے ہی موقع پر رفیق محترم کی بات چیت میںصاحبہ خانہ کو الجھن میں مبتلا کردیا۔ یوں ہوا کہ ہم موسم گرما میں ایک دوپہر میں وہ اپنے ایک دوست سے ملنے کے لئے اُن کی رہائش گاہ پر تشریف لے گئے۔ اور اُن سے بات چیت کے دوران انھوں نے اپنے دوست کے لڑکے سے جو اُن کی گفتگو کو نہایت ہی دلچسپی سے سن رہا تھا اُس سے کہا۔میاں صاحبزادے ذرا آبِ مقعطر لے آئیے۔ اُن کے دوست اس فرمائش کو سن کر پس و پیش میں مبتلا ہوگئے انھوں نے ہمارے رفیق محترم سے نہایت انکساری سے کہا ہم لوگ یونانی ادویات کا استعمال کم کرتے ہیں بلکہ آپ جانتے ہیں کہ ان دنوں اُن کی جگہ ایلیوپیتھک نے لی ہے اور اس لئے ہم معذرت چاہتے ہیں کہ ہم آپ کی فرمائش پوری کرنے سے قاصر ہیں۔ اس بات کو سن کر ہمارے رفیق محترم نے ہنس کر کہا میں دراصل آپ سے ایک گلاس صاف ستھرے پانی کا مطالبہ کررہا تھا جسے میں نے آب بمعنی پانی اور مقعطر صاف و شفاف کے لئے استعمال کیا ہے اور آپ اتنی سی بات پر الجھن میں پڑ گئے۔ہمارے دوست نے اُن سے وست بستہ کہا کہ ہم سیدھے سادے لوگ آسان الفاظ میں بات چیت کرنے کے عادی ہیں اور آپ کا یہ انداز تکلم ہم سمجھ نہیں پائے۔ ہمارے رفیق محترم کا انداز تخاطب اورضخیم الفاظ کا استعمال ایک ادنی مثال آپ دیکھ چکے ہیں یہ بات صرف روزمرہ کی گفتگو کی حد تک ہی محدود نہیں بلکہ یہ انداز بہت ہی شدت کے ساتھ ہی اُن کی تحریریں میں بھی نمایاں ہے جو شخص اپنی عام بات چیت میں اپنے سننے والوں کو مسحورکردیتی ہے بھلا وہ اپنی تحریر میں کیا قیامت نہیں ڈھائے گی۔ہمارے رفیق محترم صحافت کے پیشے سے وابستہ ہیں اور شہر کے ایک ہفتہ روزہ اخبارکے مدیر ہونے کی حیثیت سے بھی خدمات انجام دے چکے ہیں آپ یقین مانیئے اس اخبار کو عام لغت نہیں بلکہ فیروز الغات سے اونچے درجہ کی لغت سے رجوع کئے بغیر سمجھنا ممکن نہیں تھا بس اتنا ہی کہا جاسکتا ہے کہ اس اخبار کو پڑھنا بلاشبہ ایک آزمائش سے گذرنا تھا یہ اُس زمانے میںاس اخبار کے قارئین کو مشورہ دیتے ہوتے سنا گیا کہ اس موسم گرمامیں اس اخبار کو زیادہ غور و فکرسے پڑھنے سے احتیاط کریں۔ اس اخبارکے قارئین اپنے قریبی احباب کو بطور تبرک دیا کرتے تھے اس درخواست کے ساتھ کہ آپ اس کو سمجھنے اور پھر ہمیں سمجھانے کی حتیٰ الامکان کوشش کریں۔جس کے لئے ہم دل کی گہرائیوں سے ممنون رہیں گے۔ اس اخبار کی اشاعت کے بعد قارئین میں افہام و تفہیم کا سلسلہ شروع ہوجاتا تھا۔اسی اخبار کے حوالے سے رفیق محترم کو ثقیل الفاظ اور اُن کی زبان دانی کیسے گل کھلاتی تھی وہ قارئین کے ذہن میں آج بھی محفوظ ہیں آسان الفاظ کی جگہ ادق الفاظ کا استعمال ہمارے رفیق محترم کو دلچسپ حالات سے بھی دوچار کردیتا ہے جیسے ایک دفعہ وہ بس میں سفر کررہے تھے اور کافی بھیڑ ہونے کی وجہ سے ہمارے رفیق محترم بھی کھڑے ہوئے اور بس کے ڈنڈے کوپکڑے ہوئے سفر کررہے تھے۔اتفاقاً ایک دیہاتی خاتون بھی اُس ڈنڈے کے ڈنڈے کے سہارے کھڑی تھی تیز رفتار ہونے کی وجہ سے بس ہچکولے کھارہی تھی ۔وقت گذاری کے لئے اور اپنی زبان دانی سے مجبور ہمارے رفیق محترم نے اُس دیہاتی خاتون سے پوچھا”محترمہ آپ کی منزل مقصود آپ کا یہ ہم سفر جاننے کا متمنی ہے ۔“وہ خاتون اُس قسم کے بات چیت سے واقف نہیں تھی اُس نے سمجھا کہ شاید مجھ سے کوئی غلط الفاظ میں بات کررہا ہے بس اتنا ہی سنناتھا وہ مراٹھی میں گلی گلوج میں شروع ہوگئی جیسے تمہارے گھر کوئی ماں بہن بیٹی وغیرہ نہیں ہے یہ تو اچھا ہوا کہ بات زیادہ نہیں بڑھی چوں کہ اُن کے بازو ہی بیٹھے ہوئے ایک صاحب وہ ہمارے رفیق محترم اور اُن کی اندازِ گفتگو سے اچھی طرح واقف تھے انھوں مراٹھی زبان میں اُس خاتون کو سمجھایا کہ وہ صرف یہ بات پوچھ رہے ہیں کہ تم کہاں جارہی ہو۔یہ بات سن کر وہ مسکرا کر رہ گئی اور اُن صاحب نے ہمارے رفیق محترم کو سمجھایا کہ آپ کے اندازہ تخاطب اور اُس پر الفاظ کے استعمال پر مجھے انکار نہیں مگر موقع محل دیکھ کر ہی الفاظ کا استعمال کیا جانا چاہیے اور دونوں ہی ہنس پڑے اور اس طرح سے یہ معاملہ رفع دفع ہوا۔ہمارے رفیق محترم کی شخصیت کا جادو کسی پر نہ چلے یہ ممکن نہیں بلکہ اس کے اثرات واضح طور پر نظر آرہے ہیںاور اُن کا اندازِ گفتگو اور بے دریغ استعمال اُن کے احباب میں بھی سرایت کررہا ہے اوراب وہ بھی انہی کے انداز میں بات کرتے نظر آرہے ہیں۔
شہر میں ان تما م حشر سامانیوں سے بے نیاز ہمارے رفیق محترم اپنے مخصوص لباس میں اور اپنے شانوں پر جھکی ہوئی زلفیں لئے کسی دیوان خانے کسی نکڑ یا پھر کسی چائے خانے میں اپنے احباب کے ساتھ کچھ گتھیوں خواہ وہ سیاسی ہوں یا سماجی ہوں یا ثقافتی مذہبی ہو یا روایتی سلجھاتے ہوئے نظر آئیں گے اِن کی اپنی الگ دنیا ہے جو سب میں شامل بھی ہے اور اُن سے مختلف بھی۔ابھی تک ہم پر اسرار کردار کو سمجھنے کی کوشش بھی کررہے تھے اور اُن کے انداز تخاطب ادق الفاظ کا بے دردی سے استحصال اور انوکھے طرز تحریر سے ابھی سنبھل بھی نہیں پائے تھے کہ اُنھوں نے دعوت نامے اور رقعہ جات کی شکل میں ایک نئی قیامت سے دوچار کردیا۔ وہ یوں کہ ہمارے رفیقِ محترم زیادہ غور و فکر کرنے کے عادی ہیں اور شاید اسی لئے انھوں نے سونچا عام طور پر شادی بیاہ و دیگر تقریبات کے موقع پر جو دعوت نامے عزیز و اقارب اور احباب کو شرکت کے لئے روانہ کئے جاتے ہیں اور اُن پر جو تحریر ہوتی ہے نہایت ازکار رفتہ اور کسی پرانی داستان کا ایک حصّہ معلوم ہوتی ہیں اور اس طرح کے دعوت نامے پڑھتے ہوئے اُکتا سے گئے ہیں۔چنانچہ اُنھوں نے سونچا اس میں کچھ نیا انداز اپنانا چاہیے اور اسی جدت کے طور پر جو دعوت نامے لکھے ہیں وہ اﷲ کی پناہ بس ہم اتنا ضرورکہہ سکتے ہیں کہ ان دعوت ناموں کے ملنے کے بعد کچھ لوگ یہی دُعا کرتے ہوئے نظر آئے اے پروردگار جس طرح سے تو نے ہمیں اس تقریب میں شرکت کرنے کی دعوت بخشی ہے اس کے دعوت نامے کی تحریر کو بھی سمجھنے کی توفیق بھی عطا کر اور یہ مرحلہ آسان فرما۔ اس دعوت نامے میں کیسے کیسے الفاظ کا استعامل کیا گیا وہ پڑھنے سے بھی تعلق رکھتا ہے اور اُسے دعوت نا موں کی تایخ کا ایک بے مثال نمونہ ہے۔
تحریر بڑی حد تک کچھ لوگ کسی طرح سمجھنے کی کوشش میں کامیاب ہوتے نظر آئے مگر ان کے علاوہ ایک لفظ آئے اے پروردگار جس طرح سے تو نے ہمیں اس تقریب میں شرکت کرنے کی دعوت بخشی ہے اس کے دعوت نامے کی تحریر کو بھی سمجھنے کی توفیق بھی عطا کر اور یہ مرحلہ میں آسانی فرما۔ اس دعوت نامے میں کیسے کیسے نافانانوس الفاظ کا استعمال کیا گیا وہ پڑھنے سے بھی تعلق رکھتا ہے اور اُسے دعوت نا موں کی تایخ کا ایک بے مثال نمونہ ہے۔یہ تحریر بڑی حد تک کچھ لوگ کسی طرح سمجھنے کی کوشش میں کامیاب ہوتے نظر آئے مگر ان کے علاوہ ایک لفظ ” عروبہ“ لکھا گیا اس سے لوگ تقریبا نا واقف ہی تھے کہ یہ کونسی تقریب ہے اور کس موقع پر منعقد کی جاتی ہے اور کس طرح انجام دی جاتی ہے اور اس میں شریکف عزیز و اقارب و احباب کا کیا کردار ادا کرنا پڑتا ہے ان دعوت نامے ملنے کے بعد جو طوفان اٹھا اُسے سمجھنے کے لئے میں پریشان نظر آرہا تھا ۔بلاشبہ یہ رقعہ ایک آگ کا دریا تھا جنھیں ڈوب کر گذرنا تھا ہمارے ایک کرم فرما جنھیں یہ دعوت نامہ ملا تھا اُنھوں نے اس کو سمجھنے کی بہت کوشش کی آخر تھک ہار کر انھوں نے سونچا شاید ہمارے محلے کے مولوی صاحب جو درس و تدریس سے وابستہ شاید و ہماری مدد کرسکیں جب ہم نے اپنا مدعا پیش کیا وہ بڑی دیر تک اس کو پڑھتے رہے اور یوں گویا ہوئے یہ کہ یہ گمان سے پرے بلکہ یقین سے یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ وہ عربی زبان میں نہیں ہے بلکہ فارسی میں لکھا ہوا ہے چونکہ ہم عربی درس و تدریس سے وابستہ ہیں لہذا آپ کی مدد کرنے سے قاصر ہیں۔مولوی صاحب سے مایوس ہونے کے بعد انھوں نے اپنے ایک قریبی دوست جو مقامی کالج میں شعبہ اُردو کی حیثیت سے کام کررہے ہیں وہ ضرور اُسے سمجھا دیں گے جب انھوں نے اُن سے ملاقات کی اور اپنی الجھن بتایا وہ دعوت نامہ کو پڑھنے کے بعد نہایت دانشورانہ انداز اختیار کرتے ہوئے کہا کہ کہ ہمارے کالج میں کبھی شعبہ میں اُردو و فارسی کی تدریس کی جاتی تھی مگر اب شعبہ اُردو و فارسی علیحدہ کام کررہے ہیں اور یہ دوستانہ بلاشبہ فارسی میں تحریر ہے۔بلکہ جدید فارسی کا بہترین نمونہ ہے اس لئے بہتر ہے کہ وہ فارسی داں ہے وہ رجوع کریں ہاں اگر غالب کا کوئی شعر یا مابد جدیت یا ساختیات کا کوئی نکتہ ہوتا ہم ضرور آپ کی مدد کرسکتے تھے۔اب ہمارے کرم فرما یہ بات واضح ہوچکی تھی کہ یہ تحریر فارسی میں ہے انھوں نے بہت کوشش کی کے ہمارے شہر میں کوئی فارسی داں کل جائے مگر معلوم ہوا کہ جو اس زبان کو جانتے سمجھتے وہ اب اس دُنیا میں نہیں رہے۔ ان حالات میں انہوں نے ضروری یہی سمجھا کہ جن صاحب سے دعوت نامہ وصول ہوا ہے اُنھیں سے ملاقات کی جائے تاکہ صحیح تفصیلات معلوم کی جاسکتی کہ اس قسم کی تقریب میں شرکت کرنی ہے۔ جب اُن سے ملاقات کی تو عقدہ یہ کھلا کہ ہمارے ایک عزیز جواب نہیں رہے اُن کے بڑے فرزندکی شادی کی تقریب کے سلسلہ میں یہ دعوت نامہ اُن کی اہلیہ کی جانب سے بجھوائے گئے ۔یہ تقریب شادی کے بعد چوتھے جمعہ کو منعقد کی جاتی ہے پس اسی میںہی آپ کو شریک ہونا ہے بس یہ بات ہمارے دوست کو یوں لگا کہ بڑھے بوجھ سے اُتر آئے۔جب یہ بات ہم نے رفیق قوم کو بتائی تو انھوں نے بڑے ہی معصوم انداز سے کہا کہ میں تو اُردو کو زندگہ رکھنے کی ایک ادنیٰ کوشش کررہا ہوں جسے آپ لوگ رفتہ رفتہ فراموش کررہے ہیں ہمارے رفیق محترم کی ہمارے اس ملاقات میں ان دعوت ناموں کی شہرت آگ کی طرح پھیل چکی ہے۔ہمارے قرب و جوار کے لوگ بطور تبرک حاصل کرنے کی کوشش کررہے ہیں اور اُس کے بعد ہی شادی کی تاریخ طے کئے جارہی ہے ۔ہمارے محترم یوں بھی طوفان اٹھانے کے عادی ہیں اور ان طوفانوں کا نظارہ کرنے میں ہمیں بھی لطف آنے لگا ہے۔
ہمارے رفیق محترم کے بے شمار واقعات لوگوں کے ذہن پر نقش ہوچکے ہیں اب وہ شہر میں ایک افسانوی کردار بن چکے ہیں ہم اُن کے حکایات خونچکاں کب تک بیان کرتے رہے مگر سلسلہ دراز ہوتا ہی رہے گا۔ ان تمام کے باوجود آپ کو اس بات پر شاید یقین نہ دلا سکیں کے یہ گفتگو و تحریر میں جو شخصیت چھپی ہے وہ کئی پہلوو¿ں کو احاطہ کرتی ہے۔ہم نے اُن کے ہر انداز کو بہت قریب سے دیکھا ہے اوراسی لئے اُنھیں قبول کیا ہے اور یونہی ہم اُن کے معتقد نہیں ہوئے۔بظاہر نظر آنے والی شخصیت کی جب پرتیں کھلتی ہیں تو علم و ادب اخلاق و مذہب فلسفہ و منطق سیاسیات و سماجیات آگہی و بصیرت مسائل کو دلائل سے قائل کروانے کا ہنر صرف ایک ہی شخصیت میں سمٹے ہوئے نظر آتی ہے کوئی مسئلہ و ہ تشفی نہ کرسکیں یہ ممکن نہیں یہی وہ اوصاف ہیں جو ہمارے رفیق محترم کو ایک منفرد انداز میں اجاگر کرتے ہیں۔
ہماری دل کی گہرائیوں سے یہی خواہش ہے کہ ہمارے شہر کا یہ کردار جاویداں رہے اُن کی گفتگو ہمارے شہر کی گلیوں میں مہکتی رہے یہ سحر ہم پر چھایا رہے اور ہم اس میں کھو جائیںاُن کے دعوت ناموں اور رقعوں کی یہ تحریر کا بانکپن یونہی اپنے شرکت کرنے والوں پر قیامت ڈھاتا رہے کبھی کبھی خیال آتا ہے کہ ناصرکاظمی کو اس خصوصیات کے حامل اس کردارکابہت پہلے اندازہ کرچکے تھے تب ہی تو انھوں نے اس شعر میں ترجمانی کرچکے ہیں۔
جب سے تونے ہمیں دیوانہ بنا رکھا ہے
سنگ ہر شخص نے ہاتھوں میں اٹھا رکھا ہے