اتر پردیش: شہریت قانون کے خلاف مظاہروں کو دیکھ کر سبھی اضلاع میں دفعہ 144 نافذ
شہریت قانون کو لے کر اتر پردیش میں ہنگامہ بڑھتا ہی جا رہا ہے۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں طلبا پرتشدد مظاہرے کر رہے ہیں جس کو دیکھتے ہوئے اے ایم یو نے 5 جنوری تک چھٹی کا اعلان کر دیا ہے اور دوسری طرف لکھنو کے جامعہ ندوۃ العلماء کے طلبا نے بھی خوب مظاہرہ کیا۔ علی گڑھ، سہارنپور اور میرٹھ وغیرہ میں انٹرنیٹ پر پہلے سے ہی پابندی لگی ہوئی ہے اور اب خبر ملی ہے کہ اتر پردیش کے سبھی اضلاع میں دفعہ 144 نافذ کر دیا گیا ہے۔ یہ جانکاری ڈی جی پی او پی سنگھ نے میڈیا کو دی۔
آپ حق کی لڑائی لڑ رہے ہیں، ہم آپ کے ساتھ ہیں: جامعہ ٹیچرس کا طلباء سے خطاب
جامعہ ملیہ اسلامیہ میں آج ٹیچرس کے گروپ نے طلباء کے حق میں آواز اٹھاتے ہوئے ہر موڑ پر ان کے ساتھ کھڑے ہونے کے عزم کا اظہار کیا۔ طلباء سے خطاب کرتے ہوئے ایک خاتون ٹیچر نے کہا کہ ’’آپ کا احتجاج بالکل پرامن ہے۔ آپ جانتے ہین کہ جامعہ کی روایت کیا ہے، ہم یہ روایت قائم رکھتے ہوئے یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ پولس کی طرف سے جو کارروائی کل ہوئی وہ غلط تھی۔‘‘ انھوں نے مزید کہا کہ ’’جامعہ ایک تعلیمی ادارہ ہے اور کسی ایک مذہب کا نہیں ہے۔ یہاں سبھی مذہب کے بچے تعلیم حاصل کرتے ہیں۔‘‘
طلباء سے خطاب کرتے ہوئے ٹیچرس نے مزید کہا کہ ’’آپ کسی افواہ پر یقین نہ کیجیے کیونکہ افواہ کے ذریعہ ہی لوگوں کو توڑنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ آپ حق کی لڑائی لڑ رہے ہیں تو امن کے ساتھ اپنی بات رکھیے۔ ہم آپ کے ساتھ ہیں، ہم سب متحد ہیں۔ ہمیں ظاہر کرنا ہے کہ ہم تعلیم یافتہ ہیں، مہذب ہیں۔ آپ کو کوئی مارنے آئے گا تو ہم بھی مریں گے۔‘‘
دہلی یونیورسٹی طلبا نے امتحان کے بائیکاٹ کا کیا اعلان
میڈیا ذرائع سے موصول ہو رہی اطلاعات کے مطابق دہلی یونیروسٹی کے کئی طلبا نے آج ہونے والے امتحان کو بایئکاٹ کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ ان طلبا کی ناراضگی دہلی پولس کی اس کارروائی سے ہے جو انھوں نے اتوار کے روز جامعہ ملیہ اسلامیہ کے طلباء کے خلاف کیا۔ انھوں نے بے قصور اور لائبریری میں پڑھ رہے طلبا پر لاٹھی چارج کرنے اور آنسو گیس کے گولے چھوڑے جانے کے خلاف احتجاج کیا اور جامعہ کے طلباء کی حمایت میں آج دہلی یونیورسٹی کے امتحانات کے بائیکاٹ کا اعلان کیا۔
دہلی یونیورسٹی طلبا اور پولس کے درمیان بھی تصادم
دہلی یونیورسٹی کیمپس میں آج صبح پولس داخل ہوئی۔ یہاں یونیورسٹی طلبا نے جامعہ طلبا پر ہوئے مظالم کے خلاف آواز اٹھائی اور اس کے لیے ذمہ دار پولس اہلکاروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ بھی کیا۔ اس درمیان خبریں موصول ہو رہی ہیں کہ طلبا اور پولس کے درمیان تصادم شروع ہو گیا ہے۔ اس تصادم میں کچھ طلبا کو چوٹیں آئی ہیں۔ کچھ میڈیا ذرائع پر احتجاجی مظاہرہ کرنے والے طلباء کو حراست میں لیے جانے کی خبریں بھی موصول ہو رہی ہیں۔
Protest started in Delhi University pic.twitter.com/jxm3HHIsDw
— Ashish (@AshishXL) December 16, 2019
حیدر آباد: مولانا آزاد اردو یونیورسٹی کے طلبا نے شہریت قانون کے خلاف اور جامعہ طلبا کے حق میں نکالا مارچ
حیدر آباد واقع مولانا آزاد اردو یونیورسٹی کے طلبا نے آج بڑی تعداد میں سڑکوں پر نکل کر شہریت قانون کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا۔ یونیورسٹی کے طلبا نے اتوار کے روز دہلی واقع جامعہ ملیہ اسلامیہ کے طلبا پر دہلی پولس کی بربریت کے خلاف بھی احتجاجی مظاہرہ کے دوران آواز اٹھائی۔
Hyderabad:Maulana Azad National Urdu University (MANUU) students protest against #CitizenshipAmendmentAct and in support of Jamia students. pic.twitter.com/O0G18tn1nP
— ANI (@ANI) December 16, 2019
جامعہ اور اے ایم یو طلبا کے ساتھ تشدد کا معاملہ پہنچا سپریم کورٹ
شہریت قانون کے خلاف مظاہرہ کر رہے جامعہ ملیہ اسلامیہ اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے طلبا کے ساتھ ہوئے تشدد کا معاملہ سپریم کورٹ پہنچ گیا ہے اور اس معاملے کی سماعت اب منگل کے روز ہوگی۔ دراصل سینئر وکیل اندرا جے سنگھ نے اس سلسلے میں ایک عرضی سپریم کورٹ میں داخل کی ہے۔ ان کی عرضی پر غور کرتے ہوئے چیف جسٹس ایس اے بوبڈے نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ تشدد رکے۔ عرضی پر سماعت کرتے ہوئے جسٹس بوبڈے نے حکومت کو حکم دیا کہ وہ سبھی زخمی طلبا کو میڈیکل سہولت مہیا کرانے کا انتظام کرے۔
جسٹس بوبڈے نے اپنی بات رکھتے ہوئے عدالت میں کہا کہ ہم یہ نہیں کہہ رہے ہیں کہ کون ذمہ دار ہے۔ ہم بس چاہتے ہیں کہ ابھی عدالت میں امن بنائے رکھیں۔ یہ معاملہ سامنے آنے دیجیے پھر ہم دیکھیں گے۔ چیف جسٹس نے یہ بھی کہا کہ بسوں کو آگ لگائی گئی ہے، سرکاری ملکیتوں کو نقصان پہنچایا گیا ہے۔ عرضی دہندہ کو پھٹکارتے ہوئے جسٹس بوبڈے نے کہا کہ یہ کیا طریقہ ہے؟ اندرا جے سنگھ نے اس پر کہا کہ آگ پولس لگا رہی ہے۔ اپنی بات رکھتے ہوئے اندرا جے سنگھ نے اتنی زور سے بولا کہ عدالت کو کہنا پڑا کہ ’’پہلے آپ مائک بند کریں۔‘‘
Chief Justice of India SA Bobde, 'We will determine the rights but not in the atmosphere of riots, let all of this stop and then we will take suo motu cognizance. We are not against rights and peaceful demonstrations' https://t.co/gAF5Va7HKo
— ANI (@ANI) December 16, 2019
بی جے پی-آر ایس ایس پورے ملک کا ماحول خراب کر رہی: پینارائی وجین
کیرالہ میں اس وقت ایل ڈی ایف اور یو ڈی ایف کے ذریعہ شہریت قانون 2019 کے خلاف احتجاجی مظاہرہ چل رہا ہے اور اس درمیان ریاست کے وزیر اعلیٰ پینارائی وجین نے بی جے پی اور آر ایس ایس کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ملک کے ماحول کو بی جے پی-آر ایس ایس خراب کر رہی ہے، وہ اپنا ایجنڈا نافذ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ پینارائی وجین نے مزید کہا کہ پورے ملک میں تشدد ہو رہا ہے، خوف کا ماحول ہے۔ کیرالہ اس وقت پوری طرح متحدہ ہے اور شہریت قانون کے خلاف کھڑی ہے۔
Kerala Chief Minister Pinarayi Vijayan at LDF-UDF joint protest: The present atmosphere has been created by BJP-RSS,they are trying to implement their agenda. Situation in the country is volatile.Kerala is standing together against the #CitizenshipAmendmentAct https://t.co/EqseGb39tI pic.twitter.com/AwJdxtiVuL
— ANI (@ANI) December 16, 2019
جامعہ طالب علم نے شرٹ اتار کر پولس بربریت کے خلاف اٹھائی آواز
جامعہ ملیہ اسلامیہ کا ایک طالب علم دہلی پولس کی بربریت کے خلاف آج علی الصبح شرٹ اتار کر یونیورسٹی کے دروازے پر بیٹھ گیا ہے۔ اس نے مطالبہ کیا ہے کہ اتوار کے روز جامعہ طلبا کے ساتھ جس طرح کی ظالمانہ کارروائی پولس نے کی ہے، ان کے خلاف کارروائی کی جائے۔ کچھ میڈیا ذرائع کے مطابق شرٹ اتارنے والے طالب علم نے پولس کی کارروائی کے خلاف آواز اٹھاتے ہوئے کہا کہ ’’آؤ مجھے بھی پیٹو۔‘‘
Delhi: A student of Jamia Millia Islamia University removes his shirt and sits at the gate of university demanding action against Delhi police following yesterday's incident. pic.twitter.com/IlE1Ea2nk0
— ANI (@ANI) December 16, 2019
پولس نے جو کیا وہ ٹھیک نہیں، میں طلباء کے ساتھ کھڑی ہوں: جامعہ وائس چانسلر
نومنظور شدہ شہریت قانون کے خلاف خاموشی کے ساتھ احتجاجی مظاہرہ کر رہے طلبا کو دہلی پولس نے تشدد کا نشانہ بنایا ہی، جو طلبا اس احتجاجی مظاہرے میں شامل نہیں تھے، انھیں بھی پولس کی بربریت کا سامنا کرنا پڑا۔ جامعہ ملیہ اسلامیہ کے کیمپس میں پولس کے بلااجازت گھس کر طلباء و طالبات پر لاٹھی چارج کیے جانے اور لائبریری میں پڑھ رہے طلبا کو نشانہ بنائے جانے سے ایک ہنگامہ سا برپا ہو گیا ہے۔ یونیورسٹی کی وائس چانسلر نجمہ اختر نے اس پورے واقعہ کے بعد طلباء کے ساتھ کھڑے ہونے کا اعلان کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’’یہ تنہا طلباء کی لڑائی نہیں ہے، میں ان کے ساتھ ہوں۔‘‘ ساتھ ہی انھوں نے یہ بھی کہا کہ جس طرح سے طلبا کے ساتھ برتاؤ کیا گیا ہے، اس سے وہ بہت مایوس ہیں۔
وائس چانسلر نجمہ اختر کا اس سلسلے میں ایک ویڈیو پیغام سامنے آیا ہے۔ اس میں وہ کہتی ہوئی نظر آ رہی ہیں کہ ’’جس طریقے سے میرے طلبا کے ساتھ پیش آیا گیا ہے، اس سے میں غمزدہ ہوں۔ میں میرے طلباء کو بتانا چاہتی ہوں کہ اس لڑائی میں وہ تنہا نہیں ہیں۔ میں ان کے ساتھ ہوں۔ میں اس معاملے کو جہاں تک ہوگا، آگے لے کر جاؤں گی۔‘‘
یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – Source بشکریہ قومی آواز بیورو—-
