مسلمانوں کو ریزرویشن کے معاملہ میں وزیر اعلی غیر سنجیدہ :مولانا ندیم صدیقی

مراٹھا سماج کیلئے ریزر ویشن کے اعلان کا خیر مقدم
جمعیۃ علماء مہا راشٹر ریزر ویشن کی بحالی کیلئے ہر ممکن کو شش کرے گی

ممبئی ۔16؍ نومبر ( پریس ریلیز ) صوبہ مہا راشٹر کے تازہ ترین حالات میں مراٹھا سماج کوریزر ویشن فراہم کئے جانے کے وزیر اعلی کے اعلان پر آج یہاں جمعیۃ علماء مہا راشٹر کے صدر مولانا حافظ محمد ندیم صدیقی نے حکومت سے پر زور مطالبہ کیا ہے کہ حکومت مسلم ریزر ویشن کی بحالی کا بھی فورا اعلان کرے اور قانونی دشواریوں کو دور کرتے ہوئے مسلم ریزر ویشن کو یقینی بنائے ،،سچر کمیٹی ،رنگا ناتھ مشرا کمیشن اور محمود الرحمن کمیٹی کی سفارشات کے با وجود مسلم ریزرویشن کے معاملہ میں وزیر اعلی مہا راشٹر دیویندر فڑ نویس غیر سنجیدہ دکھائی دے رہے ہیںجب کہ روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ مسلمانوں کی تعلیمی، سماجی اور معاشی پسماندگی کے پیش نظر مسلم طبقات کی حالت دلتوں سے بھی بدتر ہے ، اس لئے ٹال مٹول کا پرانا طریقہ ترک کرکے حکومت مسلم ریزرویشن کے لئے سنجیدگی کا مظاہرہ کرے۔ واضح رہے کہ گذشتہ دنوں وزیر اعلی مہا راشٹر نے احمد نگر میں مراٹھا سماج کو ریزر ویشن دینے کا اعلان کیا ہے کہ کمیشن کی رپورٹ انہیں مو صول ہو چکی ہے ، جس کی وجہ سے جلد ہی قا نونی کے دائرہ میں رہ کر انہیں ریزر ویشن دیا جائے گا اس لئے اب انہیں احتجاج نہیں بلکہ یکم دسمبر سے جشن منا نا چاہئے گو یا حکومت اس معاملہ میں اہم فیصلہ کرے گی ۔ مولانا ندیم صدیقی نے حکومت کی جا نب سے مراٹھا سماج کے لئے ریزرویشن کے اعلان کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ اس سے ایک طبقہ کو راحت ملے گی اور اور ان کی پسماندگی دور ہو گی ،ساتھ ساتھ صو بے کے پسماندہ مسلمانوں کے لئے بھی ریزرویشن کا اعلان کرنا ضروری ہے جو زندگی کے تمام شعبوں میں پچھڑے ہوئے ہیں اور جنکی پسماندگی کا حکو مت کی جا نب سے مقرر کرہ کمیٹوں نے اقرار کرتے ہوئے رپورٹیں پیش کیں ہیں اور ریزرویشن کی سفارش کیں ہیں ۔ مولانا ندیم صدیقی نے مزید کہا کہ مسلم سماج کو ریزرویشن دینے کے معاملہ میںحکومت خا موش ہے۔ جب عدالت نے تعلیمی میدان میں مسلم سماج کے ریزرویشن کو منظوری دی تھی اس کے با و جود حکومت ٹال مٹول کر رہی ہے اور مسلم ریزرویشن کے لئے قا نونی پیچیدگیوں کا بہا نہ بنا کر گذشتہ چار سالوں سے اس معاملہ کو پش پشت ڈال رہی ہے ، حکومت سب کا ساتھ سب کا وکاس کے دعوی میں جھوٹی ثابت ہو رہی ہے کیو نکہ اگر حکومت سب کا ساتھ سب کا وکاس کے دعوی میں سچی ہو تی تو مراٹھا سماج کے ساتھ مسلم و دیگر برادریوں کے ریزر ویشن کا بھی اعلان کرتی ۔مولانا ندیم صدیقی نے مزید کہا کہ ہم نے بار ہا ریزرویشن کے سلسلے میں چیف منسٹر و زیر اعلی دیویندر فڑ نویس سے ملا قاتیں کیں، ۴؍ فروری ۲۰۱۵ ء کو جمعیۃ علماء مہا راشٹر کے ایک نمائندہ وفد نے ملاقات کرکے میمورنڈم دیتے ہوئے ریزرویشن کا مطالبہ کیا۔15؍ دسمبر2016ء کو ناگپور میں اسمبلی سیشن کے دوران ایک اجلاس عام منعقد کیا گیاجس میںقائد ملت مولانا سید محمود مدنی صاحب جنرل سکریٹری جمعیۃ علماء ہند شریک تھے ،اس موقع پروزیر اعلی سے ملاقات کرکے دستوری بنیادوں پر دیئے گئے ریزرویشن کو بحال کرنے کا پر زور مطالبہ کیا گیا ۔ ۹؍ اگست ۲۰۱۷ء کو ایک بار پھر جمعیۃ کے ایک نمائندہ وفد نے ملاقات کرکے دیگر مسائل کے ساتھ ریزرویشن کی جا نب وزیر اعلی کی توجہ مبذول کرائی تھی اس موقع پر وزیر اعلی نے اس سلسلے میں پیش قدمی کرنے کاتیقن دیا تھا لیکن ابھی تک اس معا ملہ میں کوئی پیش قدمی نہیں ہوئی ہے۔ ایک بار پھر ہم چیف منسٹر سے یہ مطالبہ کر تے ہیں کہ جس طرح مراٹھا سماج کے ریزرویشن کے لئے حکومتی پیمانے پر ہمدردی جتائی جا رہی ہے اور انہیں ریزرویشن دینے کی بات کی جا رہی ہے اسی طرح مسلم سماج کو بھی انکی پسماندگی کی بنیاد پر زندگی کے تمام شعبوں میں ریزرویشن بحال کیا جائے ،جمعیۃ علماء مہا راشٹر ریزر ویشن کی بحالی کے لئے ہر ممکن کو شش کرے گی ۔

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading