ممبئی ،24جون(یواین آئی)مرکزمیں بی جے پی کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد حالانکہ وزیراعظم نریندرمودی نے اقلیتی فرقہ کا اعتماد جیتنے کی بات کہی تھی ،لیکن طلاق ثلاثہ بل ،یوپی میں مدارس میں ہندی کے اساتذہ کی تقرری اور دیگر امور پر اقدامات کیے جارہے ہیں ،وہیں حکومت مہاراشٹر نے مسلمانوں کو ریزرویشن دینے سے حکومت نے صاف انکارکردیا ہے اور وزیر اقلیتی امور وتعلیم ونود تاوڑے نے کہا کہ حکومت مذہب کی بنیاد پر ریزرویشن دینے کے خلاف ہے۔اس موقع پر رکن کونسل وجاہت مرزا نے واضح کیا کہ مسلمانوں کو سابقہ کانگریس اور این سی پی حکومت نے پسماندگی کی وجہ سے تعلیم اور روزگار میں پانچ فیصد ریزرویشن دینے کااعلان کیا تھا ،لیکن 2014میں بی جے پی نے برسراقتدارآنے کے بعد اس سلسلہ میں کوئی مثبت قدم نہیں اٹھایا ،حالانکہ ہائی کورٹ نے بھی مسلمانوں کو تعلیمی سطح پر پانچ فیصد ریزرویشن دینے کی حکومت کو ہدایت دی تھی ،مگر حکومت نے سابقہ حکومت نے آرڈننس میں توسیع نہیں کی اور اب تو صاف طورپر انکار کردیا ہے۔وجاہت مرزا نے مزید کہا کہ مسلمانوں کی معاشی ،تعلیمی اور سماجی پسماندگی کے سبب ریزرویشن کا مطالبہ کیا جارہا ہے ،کیونکہ جسٹس سچر کمیشن کی رپورٹ اور محمودالرحمن کمیٹی نے مسلمانوں کی پسماندگی کو سب کے سامنے پیش کردیا ہے ،لیکن حکومت مذہب کی بنیاد بنا کر ریزرویشن دینے سے انکارکررہی ہے جوکہ سراسرناانصافی ہے۔واضح رہے کہ ایم ایل سی حسنہ بانو خلفے نے بھی ایوان میں کہا تھا کہ مسلمانوں کو پسماندگی کی بنیاد پر ریزرویشن کا مطالبہ کیا جارہا ہے اور اس میں مذہب کا کوئی عمل دخل نہیں ہے۔مہاراشٹر اسمبلی میں ڈپٹی لیڈر اور سنیئر کانگریسی لیڈر عارف نسیم خان نے بھی مسلمانوں کو ریزرویشن دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے ایوان میں سحت احتجاج کیا تھا اور موجودہ حکومت پر الزام عائد کیا کہ موجودہ حکومت کو سابقہ سرکارکے ذریعہ مسلم ریزرویشن کے بارے میں پیش کردہ بل کو قانون کی حیثیت دینا چاہئے تاکہ پسماندہ مسلمان اپنے حق سے محروم نہ ہوں۔واضح رہے کہ سابق کانگریس اور این سی پی محاذ حکومت نے2014میںمسلمانوں کو تعلیم اورروزگار میں پانچ فیصد اورمراٹھافرقہ کو 18فیصدریزرویشن دینے کا آرڈننس جاری کیا تھا ،لیکن معاملہ میں عدالت پہنچا اور ہائی کورٹ نے بھی مسلمانوں کو تعلیم میں ریزرویشن دینے کا حکم دیتے ہوئے مراٹھا ریزرویشن کومستردکردیا تھا۔اس کے باوجود حکومت مراٹھا?ں کے حق میں کئی فیصلہ کرچکی ہے ،لیکن مسلمانوں کو نظرانداز کیا جارہا ہے اور کہا جارہا ہے کہ مسلمانوں کو اوبی سی اور غریبوں کی سطح پھر دیئے گئے ریزرویشن سے فائدہ پہنچ رہا ہے