لکھنؤ: ایودھیا کے بابری مسجد رام مندر تنازعہ کے حوالہ سے سپریم کورٹ کے فیصلے پر اتوار کے روز آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ نے ایک اجلاس کا انعقاد کیا۔ بورڈ کی جانب سے غور و خوض کے بعد یہ اعلان کیا گیا کہ سپریم کورٹ نے جو فیصلہ دیا ہے وہ انصاف کے تقاضوں پر پورا نہیں اترتا لہذا اس کے خلاف نظر ثانی کی عرضی داخل کی جائے گی۔ علاوہ ازیں، مسجد کےلئے متبادل اراضی قبول نہیں کی جائے گی۔
ایودھیا قضیہ کے بعد ریاستی راجدھانی میں ممتاز پی جی کالج میں بورڈ کی ہوئی ایمرجنسی میٹنگ کی صدرات بورڈ کے صدر مولانا رابع حسنی ندوی نے کی۔ مسلم پرسنل لاء بورڈ کی میٹنگ کے بعد میڈیا نمائندوں سے خطاب کرتے ہوئے بابری مسجد کے کو کنوینر ڈاکٹر سید قاسم رسول الیاس نے کہا کہ بورڈ اراکین کے ساتھ ہوئی میٹنگ میں یہ محسوس کیا گیا کہ عدالت عظمی کے مذکورہ فیصلے میں کئی پہلوؤں پر باہمی تضاد ہے لہذا متفقہ طور پرفیصلہ کیا گیا ہے کہ اس ضمن میں نظر ثانی کی اپیل داخل کی جائے۔ساتھ ہی بورڈ نے پایا کہ مسجد کے لئے 5 ایکڑ زمین لینا اسلام کے منافی بتایا ہے۔
مسجد کے لئے سپریم کورٹ کی جانب سے ایودھیا میں 5 ایکڑ زمین دستیاب کرنے کی ہدایت کے بعد بورڈ کی جانب سے زمین نہ لینے کے فیصلے کے شرعی پہلوؤں پر روشنی ڈالتے ہوئے مسلم پرسنل لاء بورد کے سکریٹری مفتی محفوط رحمانی نے کہا کہ ’’ایک بار مسجد جہاں بنا دی جاتی ہے وہ شروعی طور پر تا قیامت مسجد ہی رہتی ہے۔ اس کو کسی دوسرے مقام پر منتقل نہیں کی جاسکتا اور نہ ہی اس کے عوض میں کسی بھی قسم کا بدل قبول کرنا جائز نہیں ہے خواہ ہو کسی بھی شکل میں ہو۔ شریعت کے اسی نقطہ نظر کے پیش نظر بورڈ نے زمین بھی نہ لینے کا فیصلہ کیا ہے۔‘‘

بابری مسجد کے کنوینرو مسلم پرسنل لا ء بورڈ کے ممبر و اس قضیہ میں وکیل ظفر یاب جیلانی نے کہا کہ ہماری عبادت گاہ کو توڑا گیا تھا اور آئین میں حاصل ہمارے حقوق کے تحت ہم نے عدالت میں ٹائٹل سوٹ فائل کیا تھا یہ انصاف کی روح کے عین مخالف ہے کہ ٹائٹل سوٹ کے معاملے میں ہمیں دوسری جگہ پر تھوڑی سی زمین فراہم کردی جائے لہذا ہم بورڈ میں ریویو پٹیشن داخل کریں گے اور اس کے لئے اس قضیہ میں مدعی مولانا محفوظ الرحمان، محمد عمر اور مصباح الدین بورڈ کے فیصلے کے ساتھ ہیں۔ انہوں نے مزدید کہا کہ سینئر وکلاء سے بات کرنے کے بعد اگر ضرورت پڑی تو اس معاملے میں جودیگر مدعین ہیں ان کے افیڈیویڈ کو بھی لگایا جائےگا۔
واضح رہے کہ 9 نومبر 2019 کو ایودھیا معاملہ پر سپریم کورٹ نے فیصلہ سنایا تھا۔ عدالت عظمی نے عدالت نے ایودھیا کی متنازعہ اراضی پر رام للا براجمان کے حق کو قبول کیا، جبکہ مسلم فریق کو نئی مسجد بنانے کے لئے ایودھیا میں ہی 5 ایکڑ اراضی دینے کا حکم دیا گیا۔ چیف جسٹس رنجن گگوئی کی سربراہی میں 5 ججوں کے خصوصی بنچ نے متفقہ طور پر یہ فیصلہ سنایا تھا۔
یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – Source بشکریہ قومی آواز بیورو—-
