مرشدآباد میں ”جے شری رام“نہ بولنے پر مدرسہ طالب علم کی پٹائی

کلکتہ،14جولائی (یوا ین آئی)جے شری رام کے نام پر مارپیٹ کی وبا اترپردیش اور ہریانہ سے ہوتے ہوئے مغربی بنگال تک پہنچ گئی۔مرشدآباد ضلع کے ساگر دیگھی پولیس اسٹیشن علاقے میں ایک11 سالہ مدرسہ کے طالب علموں کو چند افراد نے جے شری رام کا نعرہ نہ لگانے پر جم کر پٹائی جس کی وجہ سے وہ شدید زخمی ہوگیا ہے اور اسے اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔واقعہ کی خبر ملتے ہی ناراض لوگوں نے نیشنل ہائی نمبر34کا گھیراؤ کردیا جس کی وجہ سے سلی گوڑی اور کلکتہ کے درمیان آمد و رفت کرنے والی گاڑیاں روک گئیں۔سڑک جام کی اطلاع ملتے ہی ایڈیشنل سپرنڈنٹ آف پولس مرشدآباد وہاں پہنچ گئے۔کافی دیر تک مظاہرین سے بات چیت اور قصور واروں کی گرفتاری کی یقین دہانی کے بعد ہائی وے کا گھیراؤ ختم کیا گیا۔دوگھنٹے جام کی وجہ سے دور تک دونوں طرف گاڑیوں کا جام لگ گیا۔
مقامی لوگوں کے مطابق ساگر دیگھی تھانہ کے تحت ہی کمار سونا میں زیر تعلیم 11سالہ رجب عالم اپنے گاؤں سے مدرسہ جارہا تھا۔اسی درمیان مالدہ کی جانب سے بہرام پور کی جانب جارہے چند موٹر سائیکل سواروں نے ساگردیگھی پولس اسٹیشن کے قریب مدرسہ طالب کو پکڑ جے شری رام کے نعرے لگانے پر مجبور کرنے لگے۔طالب علم کے انکار کے باوجود موٹر سائیکل سوار جے شری رام کے نعرے لگانے پر مجبور کررہے تھے۔طالب کے انکار کے بعد یہ موٹر سائیکل سوار اس کی پٹائی کرنے لگے۔جس کی وجہ سے مدرسہ طالب علم رجب عالم شدید زخمی ہوگیا۔رجب جنگی پور اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔اطلاعات کے مطابق طالب علم کی حالت نازک بنی ہوئی ہے۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading