متعصب اور بے حس حکومت‘مسلم قائدین اور تنظیمیں اور‘ بیچارا مسلمان ؟

کل ہی ریاست مہاراشٹر کے وزیر اعلی دیویندرفڑنویس نے مراٹھاسماج کو تمام شعبہ حیات میں 15 فیصدتحفظات فراہم کرنے کے لئے تمام ترقانونی اور دستوری چارہ جوئی کی تکمیل کئے جانے کااعلان کرتے ہوئے مراٹھوں کو ان کے دیرینہ خواب کی تعبیرہونے پرجشن منانے کی اپیل کی ہے اور دھنگر سماج کے تحفظات کے لئے مرکزی حکومت کو سفارش کرنے کے اعلان سے بھی نہیں رکے مگر افسوس کہ وزیر اعلی دیویندر فڑنویس نے مسلمانوں کے مطالبات پر لفظ واحد بھی زبان سے نکالنے سے ایسے پرہیز کیا جیسے کوئی شجر ممنوعہ ہے.حالانکہ وزیراعلی کو مسلم تحفظات کے تعلق سے بھی کوئی بات کرنی چاہئے تھی.چونکہ مسلم طبقے سے بھی تحفظات کا مطالبہ کیا گیا ہے اور مسلمان بھی اس ریاست میں بستے ہیں اس بات کا احساس شاید انھیں نہ ہو لیکن مہاراشٹر کی ایوانوں میں بیٹھے ہمارے قائدین کیا کررہے ہیں? یہ سوال ہے. مسلمانوں کو تمام شعبہ حیات میں تحفظات کے حصول کے لئے ہمارے قائدین انتخابات کے قریب ہی بیدار ہوتے ہیں.ارباب حکومت سے مسلسل روابط میں قصور بلکہ داخلی قیادت کا فقدان آج عام مسلمان کی حراسانی کا سبب بنا ہوا ہے.مسلم آرکشن پریشد/سنگھٹنا کے نام پرکئی خودساختہ قائدین اپنی اپنی روٹی سینکنے میں منہمک ہیں.کانگریس، راشٹروادی کانگریس،سماجوادی پارٹی ہو یا پھر مجلس اتحادالمسلمین کے مسلم قائدین, اراکین اسمبلی یہ سارے کے سارے سوائے اخباری بیانات اور ایک آدھ خط وزیر اعلی کے نام کے آگے بڑھنے سے رہے.ہر کوئی اپنی قوم کی قیادت کا نعرہ لگاتا ہے مگر اس کو اپناحق دلوانے کے لئے سنجیدگی سے کوئی پلان و پروگرام بناتا ہے نہ کام کرتا ہے.اپنی قوم کی فلاح و بہبودی کی خاطر یہ سارے قائدین ایک پلیٹ فارم پر آنے سے بھی گریز کرتے ہیں.بلکہ اب تومسلم قائدین میں سیاسی داداگری بھی چل رہی ہے کہ کون کس علاقے کے مسلمانوں کی قیادت کرے اور کون کہاں جائے اور کہاں تک محدود رہے. اسی طرح کے لایعنی بیانوں کو ان مسلم قائدین نے اپنا شیوا بنالیا ہے.اس طرح کی پہلوانی بس اپنوں تک ہی محدود رہتی ہے اور جہاں نبرد آزمائی کرنی ہے وہاں دم دبائے پھرنے کی عادت ہوگئی ہے.لیکن اس طرح کے بیانات سے بھی اب عام مسلمانوں میں شکوک و شبہات کا دائرہ بھی بڑھتا جارہا ہے کہ کون ساقائد کس کی ایمائ پر اپنا بیان جاری کررہا ہے اور کس سیاسی پارٹی کا دم چھلا بنا پھرتا ہے.کسی نے سچ کہا ہے…ع
کس کو ہے فکر کہ قبیلے کا کیا ہوا
سب اس پہ لڑ رہے ہیں کہ سردار کون ہے
واضح ہو کہ ریاست مہاراشٹر میں مسلمانوں کوحکومت کے تمام شعبوں میں5 فیصد تحفظات کا مطالبہ کرتے ہوئے تمام ضلعی مقامات پرمسلم آرکشن سنگھرش مورچہ کے نام پرمنظم مطالباتی احتجاجی جلوس نکالے گئے. مسلمانوں کے تمام طبقات نے متحدہ طور پر اس مطالبے کو لے کر لاکھوں کی تعداد میں شرکت کی.ان احتجاجات کو ایک سال مکمل ہوا.لیکن اس دوران کہیں سے کوئی خبر نہیں ملی کہ اپنے اس مطالبے کے تعلق سے مسلم قائدین اور تنظیموں نے یا پھر مسلم آرکشن مورچہ کی جانب سے برسر اقتدار حکومت سے کوئی گفت وشنید یا ملاقات کی گئی ہو. یا حکومت نے مسلمانوں کی ان تنظیموں یا قائدین کو اس مطالبے پر سنجیدگی سے غور کرنے اور حل ڈھونڈنے کے لئے دعوت دی ہو.
دراصل اقلیت بالخصوص مسلمانوں کی سماجی,اقتصادی اور تعلیمی پسماندگی کا جائزہ لینے کے لئے مرکز میں برسر اقتدار حکومتوں نے اپنے اپنے دور میں مختلف کمیشنس اور کمیٹیوں کا قیام عمل میں لایا. ان میں سے 2004 میں برسر اقتدار ہونے کے ایک برس بعد کانگریس کی قیادت والی یو پی اے حکومت نے ملک میں آزادی کے بعد سےاب تک مسلمانوں کی سماجی،اقتصادی اور تعلیمی پسماندگی کا پتہ لگانے کے لیے 2005 میں سچر کمیٹی کی تشکیل کی،جس نے اپنی رپورٹ وزیراعظم ڈاکٹرمنموہن سنگھ حکومت کو 17 نومبر2006 کو سونپ بھی دی۔دریں اثنائ 2004 کے اواخر میں لسانی و مذہبی اقلیتوں سے متعلق متعدد ایشوز کی تحقیق کے لیے سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس رنگناتھ مشرا کی سربراہی میں’قومی کمیشن برائے مذہبی و لسانی اقلیت‘کا قیام عمل میں لایا.جس نے مئی 2007 کو اپنی رپورٹ حکومت کو سپرد کی.جسٹس سچر کمیشن نے اقلیتوں کے موجودہ حالات کا مفصل جائزہ معہ سفارشات حکومت کو پیش کیا.اس پر مرکز کے دونوں ایوانوں میں کافی بحث مباحثہ بھی ہوتارہا بالآخر اس وقت کی کانگریس حکومت نے جسٹس سچر کمیشن کی اس رپورٹ اور سفارشوں کو قبول کرلیا اور اس کے نفاذ کا اعلان بھی کیا تاہم اس پر مکمل طورپر سنجیدگی سے عمل ندارد.محض چند اسکالرشپس کا جاری کرنا اور اس کے حصول کے لئے بھی کئی مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے یہ کوئی بڑا کارنامہ نہیں ہے.اقتصادی اور سماجی معاملات کو سرد خانے میں رکھ دیا گیا.جسٹس سچر کمیٹی نے اپنی سفارشات میں اس بات پر زور دیا تھا کہ مسلمانوں کی تعلیمی پسماندگی کو اگر دور کرنا ہے،تو ان کے لیے بنیادی تعلیم کا انتظام ان کی مادری زبان،یعنی اردو میں کرنا ہوگا،لیکن یو پی اے حکومت نے نہ تو اردو میڈیم کے سرکاری پرائمری اسکول کہیں پر کھولے ہیں اور نہ ہی ملک بھر کے ان پرائیویٹ اسکولوں کو ترجیحی بنیاد پر کوئی خاص سہولت عطا کی ہے،جہاں پر اردو میڈیم کے ذریعے تعلیم کا نظم و نسق ہے۔
اس وقت کی حکومت مہاراشٹر نے جسٹس سچر کمیشن کی سفارشات پر عمل آوری کے لئے مزید ایک کمیٹی محمود الرحمن کمیٹی قائم کی اور مہاراشٹر کے تمام اضلاع میں اقلیتوں کی پسماندگی کا جائزہ لینے اور اس کی مفصل رپورٹ پیش کرنے کو کہا گیا.جس نے اپنی سفارشات ریاستی حکومت کے سپرد کرتے ہوئے اقلیت بالخصوص مسلمانوں کی پسماندگی کاجائزہ اپنی تفصیلی رپورٹ میں مسلمانوں کی ہمہ جہت پسماندگی کے اسباب اورحل کو پیش کیا ہے.اپنے آپ کو اقلیتوں کے ہمدرد کہنے والے کانگریس اور راشٹروادی کانگریس نے اپنے دورحکومت کے آخری لمحات میں ریاست مہاراشٹر میں مسلمانوں کو تعلیمی شعبہ جات میں 5 فیصد تحفظات فراہم کیا.لیکن عدالت نے یہ 5 فیصد تحفظات سوائے تعلیمی شعبے کے کہیں اور قبول نہیں کیا.چونکہ حکومت کی جانب سے اپنے اس ادعا پر عدالت میں ناقص پیروی اور اثبات کی عدم پیشی سے اقلیتوں کے لئے فراہم کئے گئے تحفظات معلق رہ گئے. لیکن تعلیمی شعبے کے لئے ان تحفظات کو برقرار رکھنے میں موجودہ زعفرانی حکومت نے اپنا متعصابانہ اورفرقہ پرست نظریہ کے مدنظر اقلیتوں کی جانب سے نکالے گئے جلوس و اجلاس کی طرف قطعا توجہ نہیں دی بلکہ ان کی طرف قطعی نظر انداز کیا. افسوس تو اس بات کا ہوتا ہے کہ کانگریس کے دور حکومت میں بی جے پی کے کسان قائد اور سابق ایم ایل سی سید پاشاہ پٹیل نے ریاست بھر جلسوں کا انعقاد کرکے سچر کمیشن کی سفارشات کے نفاذ کے لئے تمام مسلمانوں کو ورغلایا اور اپنی سیاسی ساخت کو قائم رکھنے کی کوشش کی لیکن جب ان کی پارٹی کی حکومت برسر اقتدار آئی تو سید پاشاہ پٹیل اپنی قوم کو ان کا اپناحق دلانے سے مکر کر مسلم آرکشن مورچوں سے ایسے گل ہوگئے جیسے کافور..اب تو وہ مسلمانوں کے حقوق کی بات بھی نہیں کرتےاور نہ ہی اس مسئلے پر اپنا موجودہ موقف کا اظہار کرتے ہیں.اسی طرح مسلمانوں کے نام نہاد ہمدرد سیاسی پارٹیوں کے غیر مسلم قائدین سے تو امید نہیں لیکن مسلم قائدین بھی اس معاملے میں بے رخی کا مظاہرہ کرتے نظر آرہے ہیں.
مسلم آرکشن مورچہ سنگھرش سمیتی کی ریاستی کل جماعتی کوور کمیٹی اپنے اس مشن کو قائم رکھنے کے لئے حکومت,عوام اور قائدین سے ملاقات کا سلسلہ قائم رکھنا چاہئے تھا.چونکہ مسلمانوں نے اپنے حقوق کی اس لڑائی میں قائدین کی دعوت پر لبیک کہہ کر بڑی دلجمعی سے اپنی حاضری لگائی تھی اور انشائ اللہ لگاتے رہیں گے مگر یہ کیا کہ”تم ہی سوگئے داستاں کہتے کہتے”کے مترادف ان بھاری بھرکم اور بیمثال جلوسوں کے بعد سب کے سب خاموش جیسے سانپ سونگھ گیا یا مقصد کی تکمیل ہوگئی یا حق مل گیا.
ریاست کے مسلم اقلیت کےمطالبات ہیں کہ جسٹس رنگناتھ مشراکمیشن‘جسٹس راجندر سنگھ سچرکمیٹی اور محمود الرحمن کمیٹی کی سفارشات کے مطابق ریاستی حکومت مسلمانوں کو 15 فیصد تحفظات تمام شعبہ حیات میں فراہم کرے اور مسلم پرسنل لائ , شرعی معاملات میں کسی قسم کی کوئی مداخلت نہ کی جائے،وقف جائیدادوں کی بازیابی عمل میں لائی جائے اور جن بے قصور مسلم نوجوانوں کو دہشت گردی کے نام پرسزائیں اور اذیتیں پہنچائیں گئی انہیں معاوضہ ادا کیاجائے.بے قصورمسلم نوجوانوں کی گرفتاری نہ کی جائے.ان مطالبات پر آج بھی مسلمانوں کے تمام طبقات متفق اور کسی بھی وقت احتجاج کے لئے تیار ہیں.مگر یہ بات مسلم قائدین کی قوت ارادی پر منحصر ہے کہ اپنی قوم کے تئیں اپنی انا, پارٹی,جماعت اور تنظیم سے ماوری ہو کر متفقہ طور پر انتہائی کوشش کریں اور حکومت سے اپنی بات منوالیں اور اپنے قوم کو صرف وو¿ٹوں کی سیاسی جال میں پھنسا کر اپنی سیاسی دکانیں بچانیں کے بجائے ترقی کی راہیں ہموار کرنے میں معاون بنیں اور قوم کو صحیح رخ دیں.ورنہ”کوئی داستاں نہ ہوگی کسی داستاں میں