زبیر حسن شیخ
بس اتنا لکھ سکا ہوں آپ کی الفت میں آقاﷺ
قلم عاجز ہے میرا آپکی مدحت میں آقا
وضو اشکوں سےکرکے گر میں لکھتا تو یہ لکھتا
کہ قرآں بس گیا ہے آپکی سیرت میں آقا
قسم کھائی ہے رب نے آپکے رتبے کی آقا
دو عالم غرق ہیں سب آپکی رحمت میں آقا
ہے نازاں رب عطا کر آپکو مقامِ محمود
یہ لکھا جا چکا تھا آپکی قسمت میں آقا
زمین و آسماں سب ذاتِ اقدس میں ہیں گم سم
ازل سے ہیں یہ تشنہ آپکی مدحت میں آقا
صحابہ سر نگوں تھے آپکی صحبت میں ہر دم
ملائک دست بستہ آپکی خدمت میں آقا
غلاموں کی غلامی آپکے مل جاتی ہم کو
کہ ہم بھی ہیں سوالی آپکی امت میں آقا
کہاں سے لائیں وہ الفاظ، اورلکھیں اسوۂ حسنہ
کہ فطرت خود ہے پنہاں آپکی فطرت میں آقا
کیا لکھیے کہ لکھّا جا چکا جب، رفعنا لک ذکرک