مجھے اپنی مسجد واپس چاہیے:اسدالدین اویسی

نئی دہلی۔۱۵؍نومبر: ایودھیاپرآئے سپریم کورٹ کےفیصلے پر آل انڈیا مجلس اتحادالمسلمین کے صدر اسد الدین اویسی کا سیاسی بیان پھرسامنے آیاہے۔ اب انہوں نے ٹویٹ کرکے کہا ہے کہ مجھے اپنی مسجد واپس چاہیے۔

9 نومبر کو فیصلے والے دن اویسی نے کہا تھا کہ آل انڈیامسلم پرسنل لاء بورڈ کی طرح ہم بھی فیصلے سے متفق نہیں ہیں، سپریم کورٹ سے بھی چوک ہوسکتی ہے۔جنہوں نے بابری مسجد کو گرایا، انہیں ٹرسٹ بنا کر رام مندر بنانے کا کام دیاگیاہے۔اسد الدین اویسی نے کہا تھا کہ اگر مسجد وہاں پر رہتی تو سپریم کورٹ کیافیصلہ کرتا۔یہ قانون کے خلاف ہے۔بابری مسجد نہیں گرتی تو فیصلہ کیاآتا۔ہمیں ہندوستان کے آئین پراعتمادہے۔ہم اپنے حق کے لیے لڑ رہے تھے۔ 5 ایکڑ کی ضرورت نہیں

مسلم غریب ہیں، لیکن مسجد بنانے کے لیے ہم پیسہ جمع کر سکتے ہیں۔فیصلے والے دن اسد الدین اویسی نے کہا تھا کہ ہمیں 5 ایکڑ کے آفر کو مسترد کر دینا چاہیے۔ اویسی نے الزام لگایا کہ یہ ملک ابھی ہندوراشٹریہ کے راستے پر جا رہاہے۔راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) نے ایودھیا سے اس کی شروعات کی ہے اور این آرسی، سٹیزن بل سے یہ پوراکیاجائے گا۔اے آئی ایم ایم کے ترجمان وارث پٹھان نے کہاہے کہ سپریم کورٹ کے فیصلہ کا احترام کرتا ہوں اور کرتا رہوں گا۔ہمیں 5 ایکڑ نہیں چاہئیں۔ہماری لڑائی مسجدکے لیے تھی، 5 ایکڑ کی زمین کے لیے نہیں۔اگرمجھے سپریم کورٹ کے فیصلے سے اطمینان نہیں ہوتا ہے توآئین مجھے اپنا پوائنٹ رکھنے کا موقع فراہم کرتاہے۔اگرمسلم پرسنل لاء بورڈ کو لگتا ہے کہ ہمیں ریویو میں جاناچاہیے توہم ان کے ساتھ ہیں۔یہ ہمارے حق کی لڑائی ہے اور 30 سال سے ہم اس کے لیے لڑ رہے تھے۔ہمیں اپنا لیگل رائٹ چاہیے تھا، جو ہمیں نہیں ملا۔

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading