ناندیڑ:15 جنوری(ورق تازہ نیوز)متنازعہ شہریت ترمیمی قانون کےخلاف ملک بھر میں جاری احتجاجی تحریک کی آواز میں آواز ملاتے ہوئے ناندیڑ میں بھی کل جماعتی تحریک نے دفتر ضلع کلکٹر کے سامنے بے مدت دھرنا شروع کردیا ہے ۔دہلی کے شاہین باغ کی طرز پر شروع کئے گئے احتجاجی دھرنے کا آج تیسرا دن تھا ۔تیسرے دن بھی صبح آٹھ بجے سے لوگوں کی آمد کا سلسلہ شروع ہوا ۔

دیکھتے ہی دیکھتے پورا پنڈال مظاہرین سے بھر گیا ۔طے کی گئی منصوبہ بندی کے مطابق آج کا دن پاکیزہ نگر ،ہلال نگراور اطراف کے لوگوں کے لئے مختص کیا گیا تھا ۔کل جماعتی تحریک کے ذمہ داران نے ایک قبل سے ہی پاکیزہ نگر میں لوگوں سے ملاقات کرکے دھرنے میں شریک ہونے کی اپیل کی تھی ۔اس اپیل پر لوگوں نے کثیر تعداد میں اپنی شرکت درج کرائی ۔آج بھی مظاہرین نے نہایت جذبات انداز میں سی اے اے ،این آر سی اور این پی آر کے خلاف جم کر نعرے بازی کی ۔وزیر اعظم مودی اور وزیر داخلہ امیت شاہ کو زوردار انداز میں تنقید کا نشانہ بنایا گیا ۔
دھرنے کی حمایت میں آج بھی کثیر تعداد میں سیاسی ،سماجی تنظیموں کے نمائندے پہنچے خاص طورپر ونچت بہوجن اگھاڑی کے ضلع صدر سنگھ رتن کرے ، سی پی ایم کے وجئے گابھنے ،وڈار سماج کے لیڈر صاحب راو¿ ،بھیڑے وغیرہ کے نام شامل ہے ۔غیر مسلم رہنماو¿ں نے کل جماعتی تحریک کے اس بے مدت دھرنے کی بھر پور حمایت کی اور مودی حکومت کی جانب سے لائے گئے سی اے اے قانون کو ملک میں مذہبی منافرت پھیلانے کی ایک مذموم کوشش قراردیا ۔وجئے گابھنے نے دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ این آرسی لاکر مودی حکومت لوگوں سے ان کی شہریت ثابت کرنے کےلئے دستاویزات کی مانگ کررہے ہیں جبکہ خود وزیر اعظم مودی اپنی تعلیمی قابلیت ثابت کرنے کےلئے آج تج اپنی ڈگری نہیں پیش کرسکے ۔جو شخص اپنی ڈگری نہیں پیش کرپارہاہے اسے کیا حق بنتاہے لوگوں پر این آرسی نافذکرنے کا ۔وڈار کرانتی سینا کے صدر صاحب راو¿ بھیڑے نے کہا کہ ہندوستان ڈاکٹر بابا صاحب امبیڈ کر کے بنائے ہوئے آئین کے تحت چلے گا مودی حکومت اگر اس آئین میں کسی بھی طرح کی کوئی تبدیلی کرنے کی کوشش کرے گی تو ہم کسی صورت میں اس کو قبول کرنے کے لئے تیار نہیں ہے ۔سی اے اے کا قانون یہ بھی دستور کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی ہی ایک کوشش ہے اس کو ہم مسترد کرتے ہیں ۔شہر ناندیڑ کے سکھ سماج سے تعلق رکھنے والے کی افراد آج بھی دھرنے میں شرکت درج کی اور کل جماعتی تحریک کے دھرنے کی حمایت کا اعلان کیا ۔ دھرنے میں آج ایک نئی بات یہ دیکھی گئی کہ کئی معذور نوجوان بھی اپنی معذوری کے باوجود وہاں پہنچے انہوں نے بھی صدائے احتجاج بلند کی ۔کل جماعتی تحریک کے ذمہ داران اپنے اپنے مقرر وقت پر وہاں پہنچے اور انہوں نے دھرنے کو کامیاب بنانے کےلئے دل سے محنت کی ۔اسی طرح ہیپی کلب اور خادمین امت کے نوجوان والینٹرس کی بھی خدمات قابل ستائش رہی ۔جسے جو ذمہ داری دی گئی تھی وہ نہایت چاک و چوبند رہ کر خدمات انجام دیتا نظر آیا ۔آج تیسرے شہر کے تقریباً تمام مسلم کارپوریٹرس بھی موجود تھے انہوں نے بھی اس دھرنے میں شرکت کی اورپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے سی اے اے قانون کو واپس لینے کا مطالبہ کیا ۔