مالیگاﺅں 2008 بم دھماکہ معاملہ: 286 گواہوں پر مشتمل فہرست پیش

ممبئی:2 نومبر (ای میل)مالیگاﺅں 2008ءبم دھماکہ معاملے میںآج یہاں خصوصی این آئی اے عدالت میں استغاثہ نے 286 گواہوں پر مشتمل فہرست پیش کی نیز 216 دستاویزات سمیت بم دھماکوں میں شہید ہونے والے 6 مسلم نوجوان اور101 زخمیوں کی تفصیلات بھی عدالت میںپیش کی جسے عدالت نے اپنے ریکارڈ پر لیتے ہوئے ملزمین کو اپنا جواب داخل کرنے کا حکم دیتے ہوئے معاملے کی سماعت 12 نومبر تک ملتوی کردی۔موصولہ اطلاعات کے مطابق خصوصی این آئی اے عدالت کے جج ونود پڈالکرنے گذشہ دنوں چارج فریم کیئے جانے کے بعد استغاثہ کو حکم دیا تھاکہ ملزمین کے خلاف گواہی دینے والے سرکار ی گواہوں سمیت دیگر دستاویزات کی فہرست داخل کرے جس کے بعد آج خصوصی وکیل استغاثہ اویناس رسال نے خصوصی عدالت میں دستاویزات داخل کیا ۔آج عدالت میں دووان سماعت متاثرین کی نمائندگی کرنے والی تنظیم جمعیةعلماءمہاراشٹر(ارشد مدنی) کے وکلاءایڈوکیٹ شریف شیخ، ایڈوکیٹ شاہد ندیم، ایڈوکیٹ ابھیشک پانڈے و دیگر موجود تھے ۔اسی درمیان معتبر ذرائع سے ملی اطلاعات کے مطابق بھگواءملزم لفٹنٹ کرنل شریکانت پروہیت نے ممبئی ہائی کورٹ کے فیصلہ کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے کے لیئے پٹیشن داخل کی ہے جس پر دیوالی کی تعطیلات کے بعد سماعت متوقع ہے۔کرنل پروہیت کے سپریم کورٹ سے رجوع ہونے کے بعد جمعیة علماءمہاراشٹرقانونی امداد کمیٹی کے سربراہ گلزار اعظمی نے ممبئی میں اخبار نویسوں سے کہا کہ جمعیة علماءسپریم کورٹ سے رجوع کرنل پروہیت کی عرضداشت کی مخالفت کریگی ۔انہوں نے کہاکہ ممبئی ہائی کورٹ میں بھی کرنل پروہیت کی عرضداشت کی مخالفت کی گئی تھی جس کے بعد عدالت نے اسٹے دینے سے انکار کردیا تھا۔گلزار اعظمی نے کہا کہ انہوں نے ایڈوکیٹ آن ریکارڈ اعجاز مقبول سے رابطہ قائم کرکے کرنل پروہیت کی عرضداشت کی مخالفت کے لیئے تیاری کرنے کو کہا اور جلد ہی بم دھماکہ کے متاثرین کی جانب سے سپریم کورٹ میں حلف نامہ داخل کردیا جائے گا۔واضح رہے کہ آج کی عدالتی کارروائی کے بعد یہ امید جگی ہیکہ دیوالی کی تعطیلات کے بعد باقاعدہ مقدمہ کلی سماعت کاآغاز ہوجائے گا اور سرکاری گواہوں کو گواہی دینے کے لیئے خصوصی عدالت طلب کریگی جو ملزمین سادھوی پرگیا سنگھ ٹھاکر(47 (میجر رمیش اپادھیائے(67) اجئے ایکناتھ راہیکر (48)، سمیر شرد کلرنی(47)، کرنل پروہیت(46)، سوامی امرتیا نند(49) اور سدھاکر چترودیدی(46) کے خلاف اپنے بیانات درج کرائیں گے۔

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading