مالیگاؤں: راشٹروادی کانگریس کے سابقہ ایم ایل اے مفتی اسماعیل 20 کارپوریٹرس کیساتھ ایم آئی ایم میں شامل

مالیگاؤں: 29 اگست: (ورق تازہ نیوز) مہاراشٹر ایم آئی ایم کے صدر اور اورنگ آباد کے ایم پی امتیاز جلیل کی موجودگی میں مالیگاؤں میں منعقدہ "جشن امتیاز” پروگرام میں آج رسمی طور پر مالیگاؤں کے سابقہ ایم ایل اے مفتی محمد اسماعیل نے مجلس اتحاد المسلمین میں شمولیت اختیار کرلی. مفتی صاحب طلاق ثلاثہ کی مخالفت نہ کرنے پر نام نہاد سیکولر پارٹی پر برہم تھے.

طلاق ثلاثہ بل پر پارٹی کے روّیے کے خلاف احتجاج ، امتیاز جلیل نے خیر مقدم کیا

مالیگائوں کے معروف سیاست داں مفتی محمد اسماعیل نے، جو دارالعلوم دیوبند کی شوریٰ کے رکن بھی ہیں، آج این سی پی چھوڑ کر آل انڈیا مجلس اتحادالمسلمین (ایم آئی ایم) میں اپنے این سی پی کے ساتھیوں کے ساتھ شمولیت اختیار کرلی۔ مشاورت چوک پر منعقد ایک جلسے میں ایم اائی ایم کے اورنگ آباد رکن پارلیمان امتیاز جلیل نے ان کی شمولیت کا اعلان کیا۔

اس موقع پر مفتی محمد اسماعیل نے کہا کہ انہوں نے سیاسی پارٹی بنانے کے باوجود اس لیے این سی میں شمولیت اختیار کی تھی کہ شرد پوار اور ان کی پارٹی نے اس موقع پر مالیگائوں کے بم دھماکوں کے سلسلے میں مالیگائوں کے ملزمین کی مدد کی تھی لیکن اب طلاق ثلاثہ کے خلاف بی جے پی سرکار نے جو بل پیش کیا اس موقع پر این سی پی کے رکن پارلیمان ایوان سے غائب رہے، اس طرح بی جے پی کو طلاق ثلاثہ مخالف قانون بنانے میں آسانی ہوگئی۔

انہوں نے مزید کہاکہ این سی پی کے اس رویے مذمت کرتے ہوئے انہو ں نے این سی پی چھوڑ کر ایم آئی ایم میں شمولیت اختیار کرلی۔ نمائندے سے بات کرتے ہوئے مفتی محمد اسماعیل نے، جو مالیگائوں کے سابق رکن اسمبلی ہیں، مزید کہا کہ انہوں نے ایم آئی ایم پر لگے الزامات کا سنجیدگی سے جائزہ لیا ہے اور یہ پایا ہے کہ یہ محض الزامات ہیں، اسدالدین اویسی او ران کی پارٹی مسلمانوں او ر اقلیتوں کی فلاح و بہبود کےلیے سرگرم ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ’’اب میں مالیگائوں میں ایم آئی ایم کو آگے بڑھانے کےلیے سرگرمی سے کام کروں گا‘‘۔ ایم پی امتیاز جلیل نے کہاکہ وہ لوگ جو یہ الزام عائد کرتے ہیں کہ ایم آئی ایم آر ایس ایس او ربی جے پی کی بی ٹیم ہیں آنکھیں کھول کر دیکھ لیں کہ آر ایس ایس او ربی جے پی کی بی ٹیم کون ہے۔ یہ این سی پی او رکانگریس والے آج بی جے پی میں ایک کے بعد ایک شامل ہورہے ہیں، ایم آئی ایم توڈٹ کر آر ایس ایس او ربی جے پی کے مقابل کھڑی ہوئی ہے۔ انہو ںنے مفتی محمد اسماعیل او راین سی پی کے مقامی ذمے داران کی ایم آئی ایم میں شمولیت کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہاکہ یہ پارٹی مالیگائوں میں کامیابی کی نئی منزل پر پہنچے گی۔ آج مشاورت چوک کے جلسے میں ایم آئی ایم کے مقامی عہدیداران بھی موجود تھے۔

مفتی اسماعیل کی ایم آئی ایم میں شمولیت سے مالیگائوں کی سیاسی فضا میں ایک ہلچل مچی ہے، ایسا سمجھاجاتا ہے کہ آئندہ اسمبلی الیکشن میں وہ مالیگائوں سے ایم آئی ایم کے امیدوار ہوسکتے ہیں۔ اگر ایسا ہوا تو مالیگائوں میں این سی پی ، کانگریس اور ایم آئی ایم کے درمیان تو مقابلہ ہوگا ہی سماج وادی پارٹی او رمقامی پارٹی کے امیدوار بھی میدان میں اترسکتے ہیں۔

واضح رہے کہ مفتی محمد اسماعیل مالیگاؤں کے 2014 میں راشٹروادی کانگریس پارٹی کے ایم ایل اے رہ چکے ہیں. اور مالیگاؤں جمیعتہ علماء ہند کے نومنتخہ صدر بھی ہیں. حج سے واپسی کے بعد سے ہی ان کے مجلس میں شمولیت اختیار کرنے کی بحث جاری تھی. اور آج ایم پی امتیاز جلیل کی موجودگی میں مفتی اسماعیل نے اپنے 20 کارپوریٹرس کے ہمراہ مجلس اتحاد المسلمین میں شمولیت اختیار کرکی.

اس بات کی اطلاع امتیاز جلیل نے اپنے فیس بک پیج پر بھی دی.

مفتی اسماعیل نے 2 اگست کو راشٹروادی کانگریس کو خیرآباد کہہ دیاتھا ان کا کہنا تھا کہ میں پیدائشی مسلمان ہوں، پیدائشی مسلمان ہونے کے ساتھ ساتھ دارالعلوم دیوبند کی مجلسِ شوریٰ کا رکن اور جمعیت علماء مالیگاؤں کا صدر ہوں، میں اپنے مذہب پر سب کچھ قربان کرنے کیلئے تیار ہوں. مجھے افسوس ہے کہ جس وقت مسلمانوں کو پارٹی کی ضرورت پڑی اس وقت پارٹی نے ساتھ نہیں دیا اس لئے میں NCP سے دستبردار و مستعفی ہورہا ہوں

موصوف نے کہا تھا کہ 2014 میں راشٹروادی کانگریس پارٹی میں شامل ہو کر اسمبلی چناؤ میں امیدواری کرکے بھاری اکثریت سے ووٹ حاصل کر کے پارٹی کو مضبوطی بخشی، لیکن موجودہ حالات میں حکومت نے اسلام اور مسلمانوں کو نقصان پہنچانے کیلئے طلاقِ ثلاثہ بل پیش کیا اس موقع پر نام نہاد کانگریس، بہوجن سماج پارٹیوں کے علاوہ NCP نے بھی اس بل کی مخالفت نہ کی اور منظم پلاننگ کیساتھ طلاقِ ثلاثہ بل کو راجیہ سبھا میں منظور کروایا، میں پارٹی کی دوغلی پالیسی پر بہت دل برداشتہ ہوں اور دینی و ملّی حمیت کی بنیاد پر NCP کو استعفیٰ دیتا ہوں.

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading