لاتورضلع میں موسم سرما سے آبی قلت کا سامنا.. بیشتر آبی پراجیکٹ خشک

انتظامیہ غیر سنجیدہ

شہروں میں ہر دس یوم بعد آبی سربراہی

دیہی زندگیاں اجیرن

لاتور(محمدمسلم کبیر کی اسپیشل رپورٹ) لاتور ضلع میں ماہ دسمبر 2018 کے اواخر سے ہی آبی قلت کا سامنا کرنا پڑرہاہے.گذشتہ دو برسوں سے پھر ضلع بھر میں بارش کی اوسط میں کمی سےآبی ذخائر میں آبی ذخیرہ ہو نہ سکااور آبی خشک سالی سےانسانوں کے علاوہ جانوروں کے چارے اور پانی کا مسئلہ انتہائی سنجیدہ بنا ہوا ہے.بیشتر آبی پروجیکٹس میں مردہ آبی ذخائر ہیں یا پھر نصف سے زائد پروجیکس اور تالاب خشکی سے میدان بن چکے ہیں.واضح ہو کہ دوسال قبل لاتور شہر کے عوام کی پیاس بجھانے کے لئے ریلوے ذرائع سے آبی فراہمی کی گئی تھی. تب چونکہ ایک شہر کی پیاس بجھائی گئی تھی تاہم اب سارے لاتور ضلع کی کم و بیش یہی حالت ہے.لاتور شہر میں کارپوریشن کی جانب سے ہر دسویں یوم آبی سربراہی کی جارہی ہے اور لاتور سے قریب اوسہ شہر میں انتظامیہ کی بدنظمی اور عدم توجہی سے پندرہ پندرہ دنوں سے عوام پانی کے انتظار میں لگی ہوئی ہے.اوسہ شہر کے شفاء نگر،قاضی محلے،قادری نگر،ہاشمی نگر،شہناز کالونی،احمدنگر اور سنجئے نگر علاقوں میں عوام پانی خرید کر استعمال کرنے پر مجبور ہے تو مومن محلے کی عوام کو اوسہ بلدیہ آبی سربراہی کو یقینی بنانے میں ہنوز غیر سنجیدہ ہے.اس محلے میں گذشتہ کئی ماہ سے آبی سربراہی نہیں ہو پارہی ہے.حالانکہ اہلیان محلہ کے مرد و خواتین نے مستقل آبرسانی کروانے کے مطالبے کو لے کر احتجاج بھی کیا تھا.لیکن عوامی نمائندوں اور انتظامیہ میں میل نہ ہونے کی وجہ سے عوام کو اس کا خمیازہ بھگتنا پڑ رہا ہے.
آبی خشک سالی کے پیش نظر لاتور ضلع کے 105 دیہاتوں اور 15 چھوٹی بستیوں میں واقع 171 بورویلز،کنوؤں اور باولیوں کو حکومت عارضی طور پر اپنے قبضے میں لینے کے لئے تجاویزات متعلقہ پنچایت سمیتیوں کو پیش کئے گئے ہیں.ان میں سے 75 دیہاتوں کے تجاويزات متعلقہ ڈیويزنل افسران کو صادر کئے جاچکے ہیں اس کی بہ نسبت صرف 23 دیہاتوں اور 5 چھوٹی بستیوں کے تجاويزات کو منظوری دی گئی ہے بقیہ 87 دیہاتوں کو قبضے میں لینے کی کاروائی ٹھپ پڑی ہوئی ہے.حالانکہ یہ تمام کاروائی اور منظوری کی ذمہ داری متعلقہ ڈیویزنل آفیسرس کی ہے لیکن وہ افسران اس معاملے میں غیر سنجیدگی کا مظاہرہ کرتے نضر آرہے ہیں.جس عوام میں ناراضی پائی جارہی ہے.بلکہ یہ مانا جارہا ہے کہ حکومت عوام کو خشک سالی میں ڈھکیلنے پر آمادہ ہے.دستیاب اطلاع کے مطابق ڈیویزنل آفسرس نے جن تجاویزکو منظوری دی ہے ان میں لاتور تعلقے کے 16 دیہاتوں میں سے 22,اوسہ تعلقے کے 3 دیہاتوں اور 3 چھوٹی بستیوں سے 6،ریناپور تعلقے کے 2 دیہاتوں سے 2,اودگیر تعءقے کے 2 دیہاتوں اور 2 چھوٹی بستیوں سے 5 اس طرح 23 دیہاتوں اور 5 چھوٹی بستیوں سے 35 بورویلز، کنویں اور باولیوں پر قبضہ کرکے عوامی آبی سربراہی کے لئے مخصوص کردیا ہے.ان منظورشدہ تجاويزات میں دیونی ، نلنگہ، شرور اننتپال، جلکوٹ ان تعلقوں کا شمار بھی نہیں کیا گیا.

لاتور ضلع میں دو بڑے اور 8 درمیانی اور 132 چھوٹے آبی پراجیکٹس موجود ہیں.آبی ذخائر کی سطح میں ہورہی کمی کے مدنظر ضلع انتظامیہ نے آبی خشک سالی سے نپٹنے کا منصوبہ بناطئے کیا ہے. ضلع کے تمام پنچایت سمیتیوں نے بالترتیب اوسہ کے 17, لاتور کے 73, نلنگہ کے 14, ریناپور کے 8, احمدپور کے 13, چاکور کے 1, شروراننتپال کے4, اودگیر کے 8, اس طرح 138 دیہاتوں کی آبی خشک سالی سے عوام کو نجات دلانے کے لئے ان علاقوں میں موجود خانگی مالکین کے بورویلز، کنويں اور باولیوں پر حکومت قابض ہونے کے تجاویزات ضلع انتظامیہ کو سونپے ہیں. اس ضمن میں ضلع پریشد کے شعبہ آبی سربراہی نے واضح کیا ہے کہ یکم جون 2019 تا 30/ جون 2019 تک آبی خشک سالی سے نپٹنے کے لئے 46 کروڑ 60 لاکھ 28 ہزار روپیوں پر مبنی منصوبہ تیار ہے.

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading