ازقلم : مقبول احمد سالک مصباحی(قومی صدر ) آل انڈیا مسلم انٹلیکچویل فورم ،مدن پور کھادر ایکس ٹینشن ،سریتا وہار نئی دہلی ۔۷۶۰۰۱۱
آج شاہین باغ اور جامعہ ملیہ اسلامیہ ،اور جے این یو اورمسلم یو نیورسٹی علی گڑھ کی بیٹیوں میں جوش وجذبہ اور جرات وہمت نظر آرہی ہے،اس نے پوری دنیا کو ورطہ حیرت میںڈال دیا ہے۔آ ج پورا ملک ان کو داد وتحسین سے نواز رہا ہے ، ان کی حوصلہ ا فزائی کررہاہے ،اور ان کی طرف پر امید نظروں سے دیکھ بھی رہاہے،مگر ساتھ ہی یہ سوال بھی کررہا ہے کہ یہ خوش آئند انقلاب ان میں کہاں سے آیا؟ کیسے وہ ظالم پولیس کی لاٹھیوں اور گو لیوں کے سامنے آئرن گرل بن کے ڈٹ گئیں ،کس نے ان کو یہ حوصلہ دیا؟ کہاں سے ان میں یہ تحریک پیدا ہوئی ؟ان کی جرات وہمت کا سر چشمہ کیا ہے؟وہ صنف نازک جن کو ہم نے اب تک چراغ خانہ سمجھ رکھا تھاوہ شعلہ جوالہ بن کر آج خرمن باطل پر بجلیاںگرارہی ہیں۔
ان کی اطاعت شعاری اور وفاداری پر بہت کہانیاں لکھی گئیں ،لیکن اب ان کی قیا دت وذہانت اور جرات وبے باکی کی داستانیں بھی لکھی جائیں گی۔یقینا جامعہ ملیہ اسلامیہ اور جے این یو ،دہلی یو نیورسٹی ،علی گڑھ مسلم یو نیورسٹی ،بنار س ہندو یونیورسٹی ،مدراس یو نیورسٹی اور ممبئی یو نیورسٹی کی بیٹیوں نے جو کردکھا یا ہے ،آ ج سے پہلے ہم نے اسے ناولوں میں تو پڑھا تھا مگرآنکھوں سے نہیں دیکھا تھا ،لیکن آج وہ سب کچھ ان کی بدولت ہم اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں ۔مودی جی اور امت شاہ جی !آپ کا بہت بہت شکریہ کہ آپ نے اپنے کالے قانون کے ذریعے ہماری قوم کی بیٹیوں اور جوانوں کو بیدا ر کردیا اوران میں جینے کی اورجد وجہد کرنے کی ایک نئی راہ دکھائی ہے۔یہ ایک جوہر قابل تھا جو ان کے اندر چھپا ہوا تھا اور آپ کی معمولی سی تحریک سے وہ کھل کر سامنے آگیا۔اور انشاءاللہ اس کے دور رس نتائج بر آمد ہوں گے ۔
لیکن رہ گیا یہ سوال کہ یہ معجزہ کیسے ہوا تو اس کا جواب یہ ہے کہ یہ سب کچھ انقلاب ،اور تبدیلی ،یہ جرات وہمت اور یہ حوصلہ وجنون ان کے اندر تعلیم نے پید اکیاہے۔تعلیم نے ان کوسکھا یا ہے کہ ظلم کے خلاف کیسے کھڑا ہو اجاتا ہے۔اور ظا لم کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کرکیسے بات کی جاتی ہے؟ تعلیم خوف کی نفسیات کا خاتمہ کرتی ہے،تعلیم شخصیت کی صحیح تعمیر کرتی ہے،تعلیم اپنے حقوق کی بازیابی کے لیے انسان کوبید ار کرتی ہے۔اگر ہماری بیٹیوں نے تعلیم حاصل نہ کیاہوتا تو ان کے اندر یہ شعور بیدا ر نہیں ہوا ہو تا ،اور نہ یہ احساس ذمہ د اری جاگی ہوتی؟ہماری بیٹیاں اگرعصری دانش گاہوں میں نہ آئی ہوتیں اور اپنے آپ کو زیور تعلیم سے آراستہ نہ کیا ہو تا تو آ ج یہ صف اول میں نظر نہ آتیں ۔تعلیم مردہ کو زندہ کردیتی ہے ،تعلیم پتھر کو تراش کر ہیرے میں تبدیل کردیتی ہے۔جامعہ اور شاہین باغ اور پورے ملک میںخاص کر مالیگاو¿ں میں جس طرح خواتین نے بلاتفریق مذہب وملت این آرسی مخالف ریلی میں شرکت کیا ہے وہ ہندوستان کی تاریخ کاایک حصہ ہے۔

آج بانیان جامعہ ،بانیان علی گڑھ ،اور بانیان جے این یو اور ڈہلی یونیورسٹی کی روحیں خوش ہو رہی ہوں گی اور مچل مچل کہہ رہی ہوںگی کہ ہم نے جس مقصد کے لیے ادار ہ قائم کیا تھا اس میں ہم سوفیصدی کامیاب ہو گئے۔ہم نے جن امنگوں اور ارمانوں سے اس کے لیے اپناخون پسینہ ایک کیا تھا اسے ہم نے اپنی روحانی آنکھوں سے پورا ہوتا دیکھ لیا ۔ آزادی سے پہلے جب مسلمانوں پر پسماندگی اور دقیانوسیت کا ہر طرف پہرہ تھا ،معاشرے کا کوئی باعزت مسلمان اپنی بیٹی کو عصری تعلیم گاہ میں بھیجنے کے لیے تیار نہیں تھا،جو لوگ ہمت کرکے اپنی بیٹیوں کو کسی انگریزی کالج یا یونیورسٹی میں اپنی جوان بیٹی کو حصول تعلیم کی غرض سے بھیج دیتے ان کو عجیب نظر وں سے دیکھا جاتاتھا۔ان پر فقرے کسے جاتے تھے،ان پر تنقیدیں کی جاتی تھیں۔بلاشبہہ ایسے شخص کو مذہب کاباغی تصور کیاجاتا تھا۔معاف کیجیے گا ،ہمارے مقتدر علما ئے ان کا جینا حرام کردیتے تھے ،بسا اوقات ان کے فتا وی بھی صدر ہو جاکرتے تھے ۔اسی لیے سر سید احمد خان سے لے کرمولانا محمد علی جوہر اور مولانا شوکت علی جوہر ،اورڈاکٹر ذاکر حسین اور حکیم عبد الحمید جیسے لوگوں کو عصری جامعات کے قیام میںبڑی جانفشانی کرنی پڑی۔
آج میں اپنے ان تمام بزرگوں ،پرکھوں اور اسلاف کی عظمتوں کو سلام کرتا ہوں اور ان کوان کی ہمتوں کی داد دیتا ہوں کہ انھوں نے لومة لائم کی پرواہ کیے بغیر اپنا مشن جاری رکھا۔اور اپنی زندگیوں کاقیمتی وقت بلکہ ایک ایک لمحہ قربان کرکے ہمیںسینٹرل یو نیورسٹی جامعہ ملیہ اسلامیہ کا تحفہ دیا ،ہمیںڈاکٹر ذاکر حسین کالج جیساعظیم الشان دانش کدہ دیا، ہمیں جامعہ ہمدرد جیسابین الاقوامی معیار کا شفاخانہ دیا۔ہمیں علم وتہذیب کا مرکز علی گڑھ مسلم یو نیورسٹی دیا جہاں آج پوری دنیا کے طلبہ علم حاصل کر نا فخر سمجھتے ہیں۔ ہم ان کے بے حد شکر گزار ہیں ،بلکہ ہم ان کا شکریہ اد اہی نہیں کر سکتے ۔کہ انھوں نے ہمیں تہذیب نفس اور انسانی ترقی کا شعور سکھلایا ۔آج ان اداروںمیں پوری دنیا کے لاکھوں طلبہ بلا تفریق مذہب وملت اپنا علمی پیا س بجھا رہے ہیں۔اور ہندوستان کی گنگا جمنی تہذیب کو فروغ دے رہے ہیں۔اور زندگی کے تمام شعبہ جات میں عروج وارتقا کی نئی نئی منزلیں طے کررہے ہیں۔اور روز آنہ سائینس اور ٹکنا لوجی کی نئی نئی دنیا ئیں فتح کررہے ہیں۔
آزادی سے پہلے ہمارے باپ داد ہندومسلمان اور سکھ جین پارسی سب کی ایک سوچ تھی کہ کسی طرح ملک کوآزادی ملے،اور ہم آزادی کی فضامیں سانس لے سکیں ۔ہماری عزت وناموس محفوظ ہو۔ہمار ااپنا آزاد ملک ہو،ہماری اپنی سرحدیںہوں ،ہماری ا پنی ریاست ہو،ہمارااپنا گھر ہو،ہما را اپنا کاروبار ہو،ہمارے بچے بے خوف زندگی گزار سکیں،ہمارے گریبان تک کسی ظالم کی کلائی نہ پہنچ سکے ۔ اللہ کاشکر واحسان ہے کہ ان کاوہ خواب پورا ہوا،اور ہمارا ملک آزاد ہوگیا۔اور کروڑوں انسانوں نے چین وسکون کا سانس لیا۔اس درمیان تقسیم کادرد بھی ہمارے پرکھوں ہندو اور مسلمان سب نے جھیلا،آزادی کی نعمت ہمیں آسانی سے نہیں حاصل ہوئی بلکہ اس کے لیے لاشوں کے پل سے گزرنا پڑا۔ہزارہا ہزار اور لاکھوں لاکھ انسانوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔تب کہیں جا کر ہم انگریزوں کے خونی چنگل سے نجات پاسکے۔
مگر افسوس کہ ہماری آزادی کی خوشی زیاد ہ دنوں تک قائم نہیںرہی ،کیونکہ ملک کا ایک زہریلا طبقہ ایسابھی تھا جو ملک کی آزادی کے خلاف تھا ،وہ نہیں چاہتاتھا کہ ہندوستان آزاد ہوکر ایک سیکولر اسٹیٹ بنے ،اور جہاں ہندومسلمان چین وسکون کی زندگی گزار سکیں ۔اس لیے وہ انگریزوں کے خلاف ہندومسلم اتحاد کو سبو تاز کرنے کے لیے سازشوں کے تانے بانے تیار کرتا رہا،اور اس کے لیے کسی بھی حد تک جانے کے لیے تیا ررہا ۔انگریزوں کے لیے ماجہدین آزادی کی جاسوسی کیا ،ان کو مجاہدین آزادی اور انقلابی جیالوں کے راز فراہم کیے۔عین اس وقت جب دہلی کی جامع مسجد کی سیڑھویں سے لے کر لاہور کی وادیوں تک ہر درخت پرہندو مسلم علما ومجاہدین آزادی کی لاشیں لٹک رہی تھی ،یہ زہریلا طبقہ انگریز بہادر کے بوٹ پالیش کرنے میں اور ہندوستانیوں کے خون کا سودا کرنے میں مصروف تھا ۔انگریزوں کو یقین تھا کہ ہندوستانی بیدار ہوگیا ور ہندومسلمان ایک ہو گیا تو ہم کبھی بھی ہندوستان پر حکومت کرنے اور اسے لوٹنے کا خواب پورا نہیں کرسکتے ،اس لیے اس نے لڑاو¿اور حکومت کرو کا فارمولہ اپنایا ۔لڑانے کے لیے اس کے پاس کا فی مدعے تھے،ان میں سب سے پڑ امدعا ہندومسلمان کاتھا۔انگریز چلاگیا مگروراثت میں ہندو مسلم کا فارمولہ اپنی ناجائز اولاد کو وراثت میں دے گیا۔اور پچھلے ستر سالوں سے یہی فارمولہ وہ طبقہ استعمال کررہا ہے۔اور بالآخر یہ فارمولہ اتناکامیاب ہوا کہ آزادی کی جنگ میںجن کی انگلی تک نہیں کٹی آج وہ مسند اقتدار پر نہ صرف بیٹھے ہوئے ہیں بلکہ ایک سو چالیس کروڑ ہندوستا نیوں کا جینا بلکہ ان کا کھانا پینا حرام کیے ہوئے ہیں۔
ابھی تک تو صرف مسئلہ لڑاو اور حکومت کرنے کاتھا مگر اس طبقے کے عز ائم اس سے کہیںزیا دہ خطرناک تھے جتنا کہ لوگ اب تک سمجھ رہے تھے۔ عام طور ہندوستان کی قدیم آبادی کا اکثریتی طبقہ بھی یہ ہی سمجھ رہا تھا کہ یہ لوگ صرف مسلمانوںکے دشمن ہیں،ہمارے تو خیر خواہ ہیں ،اس لیے آزادی کے بعد سے اب تک اکثریتی طبقہ کا ایک خاص حصہ ان کے دام فریب میں آتا رہا۔اور ان کی ہاں میںہاں ملاتے ہوئے مسلمانوں کو جانی ومالی نقصان پہنچانے میں ا ن کا آلہ کار بنتا رہا،لیکن کہتے ہیں کہ سانپ کی فطرت نہیں بدلتی ۔یہ وہ زہریلے سانپ تھے جنھوںنے اپنی زہر کا ایک حصہ بچا کر رکھا تھا ،تاکہ آخری وقت میں ان لوگوں کو بھی آسانی سے ڈساجاسکے جو آج ہمارے آلہ کار بنے ہوئے ہیں۔آج وہ زہر این آر سی ،سی اے اے ،اور این پی آر کی شکل میں بر آمد ہو گیاہے ۔اور پورے ملک کے لاکھوں کروڑوں عوام ہندو مسلمان کو ڈسنے کے لیے پھن پھیلائے کھڑا ہے۔کا ش کہ کانگریس پارٹی نے اسی وقت ان کا سر کچل دیا ہوتا جب یہ بھارت ماتا کا دودھ پی پی کر جوان ہو رہے تھے ،تو آج یہ مسئلہ اتنی بھیانک شکل اختیا رنہیں کرتا۔لیکن یہ سچائی ہے کہ کانگریس کی بزدلانہ پالیسیوں اور اس کی گو مگو والی فطرت نے بلکہ نر م ہندتوا کی سیاست نے جن سنگھیوں کو پھلنے پھولنے کاخوب خوب موقع فراہم کیا۔اور اس کی ایک لمبی تاریخ ہے ،جس کی تفصیل کی یہاں گنجائش نہیں۔
این آرسی اور سی اے اے اور اب این پی آر کوئی عام بلوں اورقوانین کی طرح نہیں ہے ،بلکہ سیدھے سیدھے(براہمن کو چھوڑ کر) ایک سو بیس کروڑ عوام ہندو مسلمان کودوسرے درجے کا شہری بنانے کا خوفناک اور گھناو¿نا کھیل ہے۔یہ ایکٹ ہر گز ہر گز صرف مسلم مخالف نہیں ۔اگر ایسا ہو تا تو ہم تنہا آر ایس ایس کودیکھ لیتے ،جیسے ستر سالوں سے دیکھتے آئے ہیں۔لیکن اب یہ پورے ملک کی عزت اور وقار کا معاملہ آگیا ہے۔ملک کے اس آئین کی بقا کا معاملہ آگیا ہے جسے آنجہانی ڈاکٹر بھیم راو¿امبیڈکر نے اپنا خون پسینہ ایک کرکے بنا یا تھا ۔یہ آئین دنیا کاسب سے کامیاب آئین ہے۔اس آئین پرہمیں بجا طور پر فخر ہے۔آئین ہندایک سو بیس کروڑ عوام کی روح سے وابستہ ہے۔ہم اپنی جان دے سکتے ہیں ،مگر آئین پر آنچ نہیں آنے دیں گے۔کیونکہ اگر آئین ختم ہو گیا تو سمجھو ہندوستان ختم ہوگیا ۔اس کی ایکتا اور اکھنڈتا ختم ہوگئی ،اور بالآخر ملک ایک بار اور تقسیم ہوجائے گا۔یہی آئین پورے ہندوستان کو امن اور پیار کے ایک دھاگے پروئے ہوئے ہے۔یہی آئین تمام ہندوستانیوں کو برابری اور مساوات کاحق دیتا ہے۔اور امیر وغریب سب کو باعزت زندگی گزارنے کاموقع فراہم کرتا ہے۔
ہمیں خوشی ہے کہ ہندوستان کی سب سے قدیم اور اصل آبادی جو سب سے پچھڑی ہوئی ہے ،اور جس کو اب تک حکومتوں نے دبا کر رکھا ، وہ اس سازش کوسمجھ چکی ہے ،اسی لیے وہ کھل کر میدا ن میں آگئی ہے،اور مسلمانوں کے شانہ سے شانہ ملاکر سیسہ پلائی ہوئی دیوا ربن کر کھڑی ہوگئی ہے۔آج پورے ملک میں احتجاج اور مظاہرے ہورہے ہیں ،ان مظاہروں میںمسلمانوں سے زیادہ ہندو برادران اور سکھ عیسائی سبھی شامل ہورہے ہیں مگر عیا رومکار بی جے پی حکومت اسے ہندو مسلم بنانے کی سخت جد وجہد کررہی ہے۔مگر اللہ کا شکر ہے کہ کامیاب ہوتی نہیں دکھ رہی ہے۔حالانکہ حکومت نے اس کے لیے ہر طرح کے ہتھ کنڈے استعمال کررہی ہے۔میڈیا پہلے سے ہی برہن واد کے چنگل میںگرفتا رتھا مگر بی جے پی کے آنے کے بعد اس کا راکشش والا چہرہ کھل کر سامنے آگیا ہے جو حقائق کا چہرہ مسخ کرنے اور اس مسئلے کو ہندو مسلمان بنانے میںجی جان سے لگا ہواہے ۔اور بد اخلاقی اور ذلت ورسوائی کی ساری حدیں پار کرچکا ہے۔یہاں تک اب میڈیا کا نام ہی گو دی میڈیا اور مودی میڈیا پڑچکاہے۔میڈیا جن سنگھیوں کا سب سے خوفناک ہتھیا رہے ،اور اس پر برہمن وادی پچھلے ستر سالوں سے مسلسل کام کررہے ہیں ،اسی لیے پورے میڈیا پر انھیں کاکنٹرول ہے ۔وہ کتوں کی طرح اپنے آقاکے اشارے پر دم ہلاتا رہتاہے ۔فی الحال میڈیا مکمل طور پر مون ہو چکا ہے ۔اور انتہائی جانب دارانہ اور جارحانہ طریقے سے دلتوں ،پچھڑوں ،ادیواسیوں ،ایس ۔سی ،ایس ٹی،اور اوبی سی ،نیز مسلم اقلیت کے خلاف زہر اگلنے میں لگا ہواہے۔ اب اس کی یہ حالت ہے کہ کوئی اس کی بات پر اعتبا رکرنے کے لیے تیا رنہیں ہے۔ غریب عوام کوبس شوشل میڈیا کا سہا راہے ،اور شوشل میڈیا نے ان کا کس بل بھی نکال دیا ہے۔اور ایساکیوں نہ ہوجب ملک کے سب سے بڑے عہدے پر بیٹھا ہو شخص لاکھوں کے مجمع میں سینہ تان کر جھوٹ بولتا ہو۔اور اس کا وزیر داخلہ اس کی تکذیب کرتا ہو۔کسی انگریز نے سچ کہا تھا کہ جھوٹ اتنی بار بولو کہ جھوٹ سچ بن جائے،اسے ہمارے سب سے عظیم آئینءعہدے کے مالک نے سچ کر دکھا یا۔
آج ملک اپنی تاریخ کے بد ترین د ور سے گز ررہاہے۔معاشی لحاظ سے اس کمر ٹوٹ چکی ہے۔۵۴سال میں سب سے زیادہ بے روزگاری اور بد حالی کاسامنا کررہا ہے۔ملک کی جی ڈی پی بد ترین سطح تک پہنچ چکی ہے۔آج سے چھ سال پہلے دیس کی جی ڈی پی آٹھ پوائینٹ کے پا س تھی آج سرکاری رپورٹ کے مطابق ساڑھے چار پر سینٹ ہے،جب کہ معاشی تجزیہ نگاروں اور اعدادوشمارکے ماہرین کی مانیں تو صرف ڈھائی بلکہ اس سے بھی کم ہے۔ملک کاخزانہ خالی ہوچکا ہے۔جتنی بڑی بڑی کمانے والی مالدارسرکاری کمپنیاں تھیں سب بک چکی ہیں یا بکنے کے کگار پر ہیں۔جہاں جہاں محفوظ سرمایہ تھا وہاں وہاں سے بی جے پی گو رنمنٹ نے نکال کرکے یا تو دیوالیہ کمپنیوں میں لگا دیا ہے یا اپنے دوستوں کو قرضہ میں دے دیاہے۔بینکوں کے پاس کیش نہیں ہے۔لوگ لائینوںمیں کھڑے ہیں۔نوٹ بندی سے عوام کی کمر ٹوٹ چکی تھی ،جی ایس ٹی لگاکر اسے اور بھی تباہ کیا گیا ۔ایک اندازے کے مطابق پچھلے چھ سالوںمیںدس کروڑ نوکریاں چلی گئیں۔ ہندوستان میں پہلی بار ایساہو اکہ لاکھوں کروڑ روپوں کے قرضے کسی حکومت نے اپنے دوست پوجی پتیوں کے معاف کیے ۔اوردوسری طرف لاکھوںکسانوں نے بھکمری سے دم توڑ دیامگر حکومے کے کانوں پر جوں تک نہ رینگی ۔
جب سے بی جے پی آئی ہے مسلمانوں کے سامنے ہر طرف مسائل کا انبار لگا ہواہے۔لوجہاد،بیف پر پابندی،تین طلاق،بابری مسجد ،ماب لنچنگ،گھر واپسی ،اور اب این آر سی ،اور سی اے اے اور این پی آر۔مسلمان ہر موڑ پر خاموش رہا ،مگر جب ایک سو بیس کروڑ عوام کی گردن پر نہیں حلق پر چھری رکھ دی گئی اور جانکنی کا عالم طاری ہو گیا تب جاکرکے اس کی نیند کا سلسلہ ٹوٹا اور ابھی بھی پورا نہیں ٹوٹاہے۔ابھی بھی اشرافیہ طبقہ خاموش گھروں میںدبکا ہوا ہے۔اور سوچ رہاہے ہے کہ کچھ لے دے کر کے اپنامسئلہ حل کرلیں گے،مگر شاید وہ یہ نہیں سمجھ رہا ہے کہ اب مسئلہ رشوت کا نہیں بلکہ زندگی اور موت کاہے۔شکا ری شکار کرنے سے پہلے ہمیشہ میٹھی آوازیں نکالتا ہے۔دانے ڈالتا ہے۔پھر گلا دبا تا ہے ۔اس وقت کی ایک سو بیس کروڑ عوام کے سامنے کرو یا مرو کا مسئلہ درپیش ہے۔اگر اس وقت سوتے رہے تو پھر زندان خانوں کے حوالے کردیا جائے گا۔تمھاری و ہ جائدادیں جو تمھا رے باپ داد اور تم نے خون پسینے سے بنائی ہیں تمھاری آنکھوں کے سامنے تمھارے دشمنوں کے حوالے کردی جائیں گی۔اور سب سے بڑ اخطر ہ تو تمھاری ناموس کوہے،ڈیٹینشن کیمپ میں داخل کیے جانے کے بعد کون کس حال میں ہوگا،کیا معلوم؟ ۔عوتوں بچوں پر کیسے دن گزریں گے ،اس کا تصور کرتے ہی کلیجہ منھ کو آنے لگتا ہے۔یہ تاریک اور خوفناک زندان خانے تیار کرلیے گئے ہیں اور مزید کی تعمیر جاری ہے ،حکومت مگر مچھ کے آنسو بہا رہی ہے۔اور مسلسل جھوٹ بو ل رہی ہے۔
ہمیں اس بات سے یقینا خوشی ہے کہ وقت رہتے تک ملک جاگ گیا ہے ۔اور اپنے حق کی بازیابی کے لیے سڑک پر آتر چکا ہے۔حکومت ہمارے درمیان سے دلالوں کو کھڑا کررہی ہے۔مولوی ملا،نیتا اور پیر فقیر کہہ رہے ہیں کہ ڈرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔سب کچھ ٹھیک ٹھاک ہے۔مگر عوام اتنی بے وقف بھی نہیں کہ تہہ تک نہ پہنچ سکے ۔اس لیے کوئی تاویل سننے کے لیے تیا رنہیں ہے۔اور ہر قربانی دے رہی ہے ۔اس مقام پر ایک بار پھر میں جامعہ اسلامیہ کے طلبہ وطالبات کو مبارک باد پیش کرتا ہوں اور کھلے دل سے اس بات کا عتراف کرتا ہوں کہ پورا ملک کا آپ احسان مندرہے گا کہ آپ نے اپنا خون دے کو اس بیمار قوم کو زندگی کا ایک احساس دت دیا ہے۔آپ کاخون رائیگا ں نہیں جائے گا۔آپ کی قربانی بار آور ہورہی ہے،اور سنگھیوں کا احتساب شروع ہو چکا ہے۔ہندو مسلم سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن چکے ہیں۔شانے سے شانہ ملائے ہوئے ہیں۔پولیس کی لاٹھیاں اور سنسناتی ہوئی گولیاں کھار ہے ہیں مگر اپنے موقف سے ایک انچ بھی ہٹنے کےلیے تیار نہیں ہیں۔میں ان والدین کو بھی کلمہ تعزیت پیش کرتا ہوں جنھوںنے اس شیطانی آندھی میں اپنا لعل کھویا ہے۔وہ مجاہدین بھی ہماری نیک خواہشات کے مستحق ہیں جنھوں نے ملک اور آئین کے تحفظ کے لیے زخم کھائے ۔اللہ تعالی آپ کے ارادوں میں استحکام عطا فرمائے۔اور ہمارے پیارے ملک وکجلد از جلد اس بحران سے نجات عطا فرمائے۔آمین
میری ہمت کو سراہو، میرے ہمراہ چلو ہم نے ایک دیپ جلایا ہے اندھیروں کے خلاف