یورپی یونین نے قرآن کا نسخہ نذر آتش کرنے کے واقعے کو شدید انداز میں مسترد کرتے ہوئے اسے ’جارحانہ، توہین آمیز اور اشتعال انگیزی پر مبنی اقدام‘ قرار دیا ہے۔
ایک بیان میں یورپی یونین نے کا کہنا تھا کہ ’یہ واقعہ قطعی طور پر یورپی یونین کے نظریات کی عکاسی نہیں کرتا۔ نسل پرستی، غیر ملکیوں کے خلاف تعصب اور اس سے متعلقہ عدم برداشت کی یورپ میں کوئی جگہ نہیں ہے۔‘یورپی یونین کے بیان کے مطابق ’قرآن جلانے کا یہ عمل اس لحاظ سے بھی زیادہ افسوسناک ہے کہ یہ ایسے وقت میں کیا گیا جب مسلمان عیدالاضحیٰ منا رہے تھے۔‘
بیان میں مزید کہا گیا کہ ’یورپی یونین بیرون ملک اور اندرون ملک مذہب یا عقیدے اور اظہار رائے کی آزادی کے لیے کھڑی ہے۔‘یورپی یونین نے یہ بھی کہا ہے کہ وہ بغداد صورت حال کو قریب سے دیکھ رہی ہے اور پرسکون رہنے اور تحمل سے کام لینے پر زور دیتی ہے۔
بدھ کے روز سٹاک ہوم کی سب سے بڑی مسجد کے سامنے عراق سے تعلق رکھنے والے 37 سالہ پناہ گزین سلوان مومیکا کی جانب سے قرآن کی بے حرمتی اور اس کے صفحات کو نذر آتش کرنے کے بعد سے مسلم اور عرب دنیا میں بڑے پیمانے پر غم و غصہ کا اظہار اور مذمت کی جا رہی ہے۔
پورے مشرق وسطیٰ اور اس سے باہر کے ممالک نے قرآن کے نسخے کو آگ لگانے کی مذمت کی، کچھ ممالک نے اپنے سفیروں کو واپس بلا لیا اور وزارت خارجہ نے سویڈن کے سفیروں کو سرکاری احتجاج سننے کے لیے اپنے ممالک میں طلب کیا۔