MPCC Urdu News 01 July 23

سمردھی ہائی وے حادثہ معاملہ

ای ڈی حکومت کے خلاف غیرارادتاً قتل کامقدمہ درج کیا جائے: ناناپٹولے

سمردھی ہائی وے کا آزادانہ آڈٹ کریں اور تمام خامیاں دور کریں

54ہزار کروڑ روپئے کی لاگت سے بنا لوگوں کی موت کا ہائی وے

کانگریس کے ریاستی صدر نے بلڈھانہ حادثہ میں مرنے والوں کو خراج عقیدت پیش کیا

ممبئی:وزیراعظم نریندرمودی نے ای ڈی حکومت کی دعوت پر بڑی دھوم دھام سے ناگپورممبئی سمردھی ہائی وے کا نہایت عجلت میں افتتاح کیا تھا۔ اس ہائی وے کے شروع ہونے کے بعد سے آئے دن حادثات ہورہے ہیں۔ اس ہائی وے سے متعلق کئی شکایات ہیں، لیکن شندے-فڈنویس حکومت اس پر کوئی توجہ نہیں دے رہی ہے۔ بلڈھانہ کے قریب ایک پرائیویٹ بس کے حادثے میں 26 افراد کاجاں بحق ہونا کوئی حادثہ نہیں بلکہ حکومتی بے حسی اور لاپرواہی کا نتیجہ ہے۔یہ تمام لوگ حکومت کی لاپرواہی کے شکار ہوئے ہیں۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ ان 26لوگوں کی موت کے لیے شندے فڈنویس حکومت کے خلاف غیرارادتاً قتل کا مقدمہ درج کیا جائے۔ یہ مطالبہ مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر نانا پٹولے نے کیا ہے۔

پٹولے نے کہا کہ سمریدھی ہائی وے پر ایک ہولناک حادثے میں 26 لوگوں کی موت کا واقعہ انتہائی افسوسناک اور دل دہلا دینے والا ہے۔ حادثے میں ہلاک ہونے والوں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس شاہراہ پر 54 ہزار کروڑ روپے خرچ ہوئے ہیں، لیکن لوگوں کی حفاظت کی کوئی ضمانت نہیں ہے۔ ای ڈی حکومت یہ کہتی رہتی ہے کہ اس نے بہت اچھا کام کیا ہے لیکن اس ہائی وے کے کھلنے کے بعد سے پچھلے چھ مہینوں میں تقریباً 300 حادثات ہو چکے ہیں۔ ہر حادثے میں کوئی نہ کوئی مر جاتا ہے۔ بلڈھانہ میں ہفتہ کی رات پیش آنے والا حادثہ انتہائی ہولناک تھا، جس میں 26 لوگوں کی موت ہو گئی۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس حادثے کی سنگینی کتنی بھیانک تھی۔ یہ سمریدھی ہائی وے کچھ لوگوں کے لیے ضرور خوشحالی لے کر آئی ہے لیکن یہ بہت سے لوگوں کے لیے موت کی شاہراہ بھی بن چکی ہے۔ کانگریس کے ریاستی صدر نے کہا کہ سیکورٹی کے نقطہ نظر سے اس شاہراہ پر بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس ہائی وے کا خصوصی آڈٹ کرایاجانا چاہئے تاکہ شاہراہ کو محفوظ بنایا جا سکے، لیکن شندے-فڈنویس حکومت تشہیر کے ذریعے کریڈٹ لینے میں مصروف ہے۔

کانگریس کے ریاستی صدر نے کہا کہ سمردھی ہائی وے کے ڈیزائن کے لیے ماہرین کی ٹیم کو ہزاروں کروڑ روپے دیے گئے ہیں۔ لیکن حادثات کی تعداد کو دیکھ کر لگتا ہے کہ سڑکوں کی تعمیر میں زیادہ احتیاط نہیں کی گئی۔ یہاں نیشنل ہائی ویز اتھارٹی آف انڈیا اور ایکسپریس ویز کے لیے مقرر کردہ اصولوں پر عمل نہیں کیا جاتا ہے۔کچھ ماہرین کے مطابق ہائی وے ہپنوائزیشن کی وجہ سے بھی سڑک حادثات ہوتے ہیں لیکن کچھ نہیں کیا گیا۔ک پر کچھ مخصوص فاصلوں پر کھانے پینے کی ہوٹلیں اوربیت الخلاء وغیرہ کی سہولت ہونی چاہئے لیکن وہ بھی نہیں ہے۔ جس سے ڈرائیوروں اور مسافروں کو پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور سڑک پر ہپنوائزیشن کے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ حکومت کا دعویٰ ہے کہ دیگر شاہراہوں کے مقابلے اس شاہراہ پر حادثات کم ہیں۔ لیکن بنیادی طور پر ای ڈی حکومت اپنی غلطی ماننے کو تیار نہیں ہے۔ وہ اس بات میں مگن ہیں کہ ہم نے ایک شاہراہ بنائی ہے جس کے ذریعے ناگپور سے ممبئی کا سفر صرف 12 گھنٹے میں طے کیا جا سکتا ہے۔ پٹولے نے کہا کہ اب بھی حکومت کو اپنی آنکھیں کھولنی چاہئیں اور سمردھی ہائی وے پر حادثات کو روکنے کے لیے فوری اقدامات کرنے چاہئیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہم مانسون سیشن میں حکومت سے اس معاملے میں جواب مانگنے والے ہیں۔ ای ڈی حکومت کو سنجیدگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس واقعہ سے سبق لیتے ہوئے فوری طور پر تدارک کا منصوبہ تیار کرنا چاہئے۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading