قاہرہ: مصر کی پولس نے مقامی میڈیا ادارہ ’مدی مصر ‘کے دفتر پر چھاپہ مار کر اس سے وابستہ تین نیوز ایڈیٹرز کو گرفتار کرلیا۔ خبررساں ایجنسی اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق مصر کی آزاد نیوز سائٹ نے بتایا کہ’’ سیکورٹی فورسز جاچکی ہیں، ہمارے دفاتر میں داخل ہونے والے ایک شخص کے مطابق ہمیں صرف ہمارے فونز اور لیپ ٹاپس واپس ملے ہیں، لینا اتالا، محمد حمامہ اور رانا ممدوح کو پروسیکیوشن سروس لے جایا گیا ہے‘‘۔
A plainclothes man told the rest of the staff that the three colleagues were being taken to the prosecution. When asked, he refused to designate which one. When asked to identify himself or the agency he worked for, he also refused.
— Mada Masr مدى مصر (@MadaMasr) November 24, 2019
مدی مصر نے سوشل میڈیا پر جاری پوسٹ میں لکھا کہ سادہ لباس میں ملبوس 9 افسران نے کئی گھنٹوں تک ویب سائٹ کے صحافیوں سے پوچھ گچھ کی، ان سے فونز اور لیپ ٹاپ اَن لاک کرکے حوالے کرنے کا مطالبہ کیا۔واضح رہے کہ گرفتار شدگان صحافی اس وقت کہاں ہیں اس سے متعلق کچھ معلوم نہیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ گزشتہ روز مقامی وقت کے مطابق دوپہر ڈیڑھ بجے ’مدی مصر‘ کے دفتر پر چھاپہ مارا گیا تھا، اس چھاپہ سے ایک روز قبل اسی ویب سائٹ پر 2014 سے وابستہ 37 سالہ نیوز ایڈیٹر شیدی زلات کو ان کے گھر سے گرفتار کیا گیا تھا۔ نیوز ویب سائٹ کے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر بتایا گیا کہ ’’شیدی زلات کو گزشتہ شام ساڑھے 5 بجے رہا کیا گیا تھا‘‘۔
خیال رہے کہ مصری ویب سائٹ ’مدی مصر‘ عربی اور انگریزی دونوں زبانوں میں کرپشن اور سیکورٹی مسائل سے متعلق تحقیقات شائع کرتی ہے۔ یہ بھی یاد رہے کہ گزشتہ برس مصر کی عدالت نے الجریزہ چینل کے صحافی محمود حسین کی حراست میں 17 ویں مرتبہ توسیع کی تھی جنہیں 20 دسمبر 2016 کو قائرہ کے ایئرپورٹ پر اس وقت گرفتار کیا تھا، جب وہ چھٹیاں منا کر مصر واپس پہنچے تھے۔
اس سے قبل اگست 2015 میں مصر نے عربی چینل الجریزہ سے تعلق رکھنے والے کینیڈین نژاد محمد فہمی، مصری شہری باہر محمد اور تیسرے صحافی پیٹر گریٹس کو جعلی خبر پھیلانے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا بعدازاں تمام صحافیوں کو چھوڑ دیا گیا تھا۔ تاہم مصر کے اس اقدام پر عالمی میڈیا اور سیاستدانوں نے شدید تنقید کی تھی۔
یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – Source بشکریہ قومی آواز بیورو—-
