اندور ۔ 03 ستمبر 2019- مدھیہ پردیش کے صنعتی شہر اندور میں مذہبی و سماجی تنظیم سنی ائمہ کونسل اے ڈی جی ورون کپور کو میمورنڈم سونپ کر فلم ‘عائشہ’ پر پابندی کا مطالبہ کیا ہے۔
اندور کی سنی ائمہ کونسل نے اے ڈی جی ورون کپور کو ایک میمورینڈم دیا اور مطالبہ کیا کی فلم پر پابندی لگائی جائے اور فلم بنانے والے پر سخت سے سخت کاروائی کی جائے، کیوں کی یہ فلم مسلمانوں کے, مذہبی جذبات کو تکلیف پہنچاتی ہے اور یہ فلم ملک کے امن و آمان کے لیے خطرہ ہو سکتا ہے۔
نامہ نگاروں سے بات چیت کرتے ہوئے مالوہ کے مفتی نورالحق صاحب نے کہا کہ ‘شیعہ وقف بورڈ کے صدر وسیم رضوی بسااوقات جھوٹی بیان بازی کرتے رہتے ہیں۔’
انہوں نے کہا کہ حضرت عائشہ صدیقہ پر وسیم رضوی کی فلم بنانے کی کوشش کو ہرگز برداشت نہیں کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہاکہ وہ حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ ایسے شخص کو گرفتار کرکے فورا کوئی کارروائی کی جائے، تاکہ مستقبل میں کوئی شخص اس جرات کا مظاہرہ نہیں کر سکے۔
مولانا سید صابر علی مصباحی نے کہا کی اس شخص نے مسلمانوں کے خلاف مختلف قسموں کے بیان بازی کی ہے آج اندور کے علماء کرام متحد ہوکر حکومت سے یہ مطالبہ کرتے ہیں کی فلم جس کا ابھی ٹیلر اپلوڈ کیا گیا ہے پابندی لگائی جائے اور اس کو گرفتار کر سخت سے سخت سزا دی جائے۔
اندور کے قاضی سید عشرت علی نے کہا: ‘پتہ چلا ہے کی متنازعہ فلم 2020 تک مکمل ہوجائے گی فلم سے مسلمان کی مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچی ہے اور ملک میں امن و امان کو بھی اس سے خطرہ ہے۔ہم نے اے ڈی جی صاحب سے گزارش کی ہے کہ اس کے خلاف مقدمہ درج کیا جائے ساتھ ہی ہم سنسر بورڈ کو بھی لکھیں گے اس فلم پر پابندی لگائی جائے۔’