فلم ” دی ایکسیڈنٹل پرائم منسٹر” محض سیاسی پروپیگنڈہ؛ سوشل میڈیاپر انوپم کھیر کے خلاف شائقین نے کھولا نیا محاذ

ممبئی: بالی ووڈ انڈسٹری کی نئی فلم ’دی ایکسیڈنٹل پرائم منسٹر‘ ریلیز کردی گئی جس کو شائقین نے پروپیگنڈا فلم قرار دیتے ہوئے انوپم کھیر پر تنقید کی۔

تفصیلات کے مطابق بالی ووڈ کی دو فلمیں 11 جنوری کو ریلیز ہوئیں جن میں ایک اڑی سیکٹر پر حملے سے متعلق اور دوسری سابق وزیراعظم ڈاکٹر من موہن سنگھ کے خلاف ہونے والی سازشوں سے متعلق ہے۔

ایکسیڈنٹل پرائم منسٹر ملک کے 1300 اور بیرونِ ملک میں 140 سینما گھروں میں ریلیز کے لیے پیش کی گئی جس میں اداکار انوپم کھیر مرکزی کردار ادا کررہے ہیں۔

بالی ووڈ تجزیہ نگاروں نے فلم کو پانچ میں سے 3 اسٹارز دیے جبکہ سوشل میڈیا پر اداکار انوپم کھیر کے خلاف نیا محاذ بھی کھلا جس میں اُن پر بھارتیہ جنتا پارٹی کا ہمدرد ہونے کا بھی الزام لگا۔

یہ فلم ایک ایسے وقت میں ریلیز کی گئی جب لوک سبھا کے الیکشن کی وجہ سے سیاسی ماحول گرم ہے، ’دی ایکسیڈنٹل پرائم منسٹر‘ کو مجموعی طور پر سیاسی جماعت کانگریس کے خلاف بنایا گیا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق وزیراعظم، کانگریس جماعت کی اہم شخصیات کو منفی انداز میں پیش کرنے پر فلم ڈائریکٹر، اداکار انوپم کھیر کے خلاف مقدمہ درج کرلیا گیا۔

انوپم کھیر نے فلم دیکھنے کے بعد اپنی والدہ کا ویڈیو پیغام بھی جاری کیا جنہوں نے مختصر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ’من موہن سنگھ بے چارہ شریف آدمی تھا‘۔

قبل ازیں فلم کا ٹریلر 27 دسمبر کو جاری کیا گیا تھا جس میں بھارت کے عالمی ممالک سے معاہدے اور کانگریس رہنماؤں کی من موہن سنگھ مخالفت کے بارے میں دکھایا گیا۔

ٹریلر میں یہ بھی دکھایا گیا کہ من موہن سنگھ بین الاقوامی معاہدوں میں درمیانے شخص کا کردار ادا کررہے ہیں جبکہ ان کے پیچھے کسی اور کا ہاتھ ملوث ہے۔

فلم میں سونیا گاندھی کا کردار جرمن اداکارہ سوزانے بیرنیرت نے نبھایا جبکہ آہنہ کمار پریانکا گاندھی، ارجن مدتھور راہول گاندھی کا کردار ادا کرتے نظر آئیں گے۔

انوپم کھیر کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’ایکسیڈنٹل پرائم منسٹر بین الاقوامی فلم ہے کیونکہ اس میں بہت سارے ایسے موضوعات بھی دکھائے گئے جن کا تعلق عالمی ممالک سے ہے’۔

یاد رہے کہ ڈاکٹر من موہن سنگھ 2004 سے 2014 تک وزیر اعظم رہے، بعد ازاں اُن کی زندگی پر ایک کتاب لکھی گئی جس پر یہ فلم بنائی جارہی ہے۔

سنجایا بارو وزیراعظم کے میڈیا ایڈوائزر تھے جنہوں نے اپنے عہدے سے مستعفیٰ ہونے کے بعد انکشاف سے بھرپور ایک کتاب لکھی اور پھر اسے شائع کروایا۔

اُن کا کہنا تھا کہ ’میری کتاب میں چند ایسے انکشافات اور واقعات موجود ہیں جنہیں پڑھ کر سب دنگ رہ جائیں گے، یہ کتاب لکھ کر میں نے اپنا قومی حق ادا کیا’

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading