نئی دہلی (پریس ریلیز): دہلی کی غیر منظور شدہ کالونیوں کومنظور کئے جانے کے معاملہ میں دہلی پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر سبھاش چوپڑہ بے منگل کے روز ایک مرتبہ پھر مرکز کی بی جے پی اور دہلی کی کجریوال حکومت کے خلاف محاذ کھولتے ہوئے مطالبہ کیا کہ 19 نومبر کو جاری کئے گئے نوٹیفکیشن کو فوری رد کیا جائے۔
پریس کانفرنس میں سابق وزیر شہری ترقیات اروند سنگھ لولی، چیف ترجمان مکیش شرما نے دونوں حکومتوں پر پر چالیس لاکھ افراد کے ساتھ دھوکہ دہی کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ ان دونوں پارٹیوں نے ایک سازش کے تحت کانگریس کے نوٹیفکیشن کو خارج کرکے نیا نوٹیفکیشن جاری کیا ہے، تاکہ ان کالونیوں کے منظور ہونے کے معاملہ کو التوا میں رکھا جا سکے۔
سبھاش چوپڑہ نے ایک مرتبہ پھر دہرایا کہ تقریباً چالیس فیصد کالونیوں کو توڑنے کی بی جے پی اور عام آدمی پارٹی کی سازش کو کانگریس کبھی کامیاب نہیں ہونے دے گی۔ انہوں نے کہا کہ یہ پہلا موقع ہے جب شہری ترقیات کے وزیر ہردیپ پوری نے کالونیوں کی فہرست کو پارلیمنٹ کے اجلاس میں نہیں رکھا۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ بی جے پی والوں کو اس بات کا اندازہ ہے کہ فہرست کو پیش کرنے سے دہلی کے لوگ انہیں چین سے بیٹھنے نہیں دیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ غیر منظور شدہ کالونیوں کو صرف اندرا گاندھی کی پالیسی پر ہی ریگولر کیا جا سکتا ہے۔
وہیں، اروند سنگھ لولی نے ہردیپ پوری پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ غیر منظور شدہ کالونیوں کی حالت ٹھیک اسی طرح ہے کہ ’ہر شاخ پے الو بیٹھا ہے، انجام گلستاں کیا ہوگا!‘
انہوِں نے سی ایم کچریوال کے اس بیان پر اعتراض ظاہر کیا کہ دہلی حکومت پہلے ہی مرکز سے سفارش کر چکی تھی، انہوں نے کہا کہ یہ بیان پوری طرح غلط ہے۔ انہوں نے اس کی تصدیق کرتے ہوئے ایک دستاویز جاری کیا جو کچریول کے وزیر اعلیٰ عہدہ کے وقت کا ہےجس میں واضح طور پر لکھا ہے کہ کالونیوں کی حد طے کرنے کا کام دہلی حکومت کا ہے۔ لولی نے مزید کہا کہ بی جے پی رکن پارلیمنٹ رمیش بڈھوڑی کالونیوں میں مٹھائی بانٹ کر لوگوں کے جلے پر نمک چھڑک رہے ہیں۔
وہیں، مکیش شرما نے اعلان کیا کہ کانگریس کارکنان دہلی کی غیر منظور شدہ کالونیوں میں رینے والے لوگوں کے ساتھ مل کر ان کے ساتھ کی جا رہی ناانصافی کے خلاف مرکزی شہری ترقیات کے وزیر کے آفس کا گھیراؤ کریں گے۔
یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – Source بشکریہ قومی آواز بیورو—-
