غیر قانونی ڈپازٹ اسکیم پابندی والا بل لوک سبھا میں متفقہ طور پر منظور

lok

نئی دہلی، 24 جولائی (یو این آئی) رقم ڈپاز اسکیم پر پابندی لگانے والا غیر قانونی ڈپازٹ اسکیم پابندی بل، 2019 بدھ کے روز لوک سبھا میں متفقہ طور پر منظور ہو گیا۔ بل کو سبھی جماعتوں کی حمایت حاصل ہوئی اور کسی بھی رکن نے اس میں ترمیم کے لئے نہیں کہا۔یہ بل غیر قانونیڈپازٹ اسکیم پابندی آرڈیننس، 2019 کی جگہ لے گا جو اس سال 21 فروری سے عمل میں آیا تھا۔ پچھلی لوک سبھا میں 13 فروری 2019 کو یہ بل منظور کیا گیا تھا، لیکن راجیہ سبھا میں منظور نہیں ہو پانے کی وجہ بل کو نئے سرے سے پیش کرنا پڑا۔بل پر بحث کا جواب دیتے ہوئے خزانہ کے وزیر مملکت انوراگ ٹھاکر نے کہا کہ ’’چاہے کوئی بھی گھپلہ ہو، ہماری پوری کوشش ہوگی کہ غریبوں کا پیسہ انہیں واپس ملے اور قصورواروں کو جیل میں ڈالا جائے‘‘۔ انہوں نے ریاستی حکومتوں سے تعاون کی توقع ظاہر۔ بل میں قانون بنانے کا حق ریاستوں کو دیا گیا ہے۔ وہ مجوزہ ایکٹ کے دائرے میں قانون بنا سکتی ہیں۔مسٹر ٹھاکر نے ایوان کو یقین دلایا کہ رقم ڈپازٹ اسکیم میں پیسہ جمع کرنے والے غریبوں کے ڈیٹا کسی کے ساتھ مشترک نہیں کئے جائیں گے۔ بل میں صرف ان لوگوں کا مرکزی ڈیٹا بینک بنانے کا التزام ہے جو اس طرح کی جمع اسکیمیں چلا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ریئل اسٹیٹ میں سرمایہ کاری اور رشتہ اور دوستوں سے ہنگامی حالات میں پیسہ لینے والوں کو اس قانون کے دائرے سے باہر رکھا جائے گا۔

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading