عید میلاد النبی اور ہماری ذمہ داریاں    

محسن رضا ضیائی، پونہ.9921934812

   ماہِ ربیع النورکی آمدہوچکی ہے ،ہر طرف خوشیوں اورشادمانیوں کا کیف آورسماںہے۔ گلیوں، شاہراہوں ، دکانوں ،مکانوں اور گھروں کو سجانےکی تیاریاں زوروں پر ہے۔یقیناً اس اہم اور سنہرے موقع پر اس طرح زیب وآرائش کرکے خوشیوں کا اظہار کرنا چاہیے ۔کیوں یہ وہ مہینہ ہے جس میں ہم سب کے آقا ،دونوں عالم کے داتاحضور رحمۃ اللعلمینﷺ اس خاک دانِ گیتی پر تشریف فرما ہوئے ۔اللہ تعالیٰ نے آپ ہی کی خاطر اس کائنات کو پیدا فرمایا ۔چناں چہ حدیثِ قدسی میںہے کہ : ’’لو لاک لما خلقت الدنیا‘‘ یعنی اے پیارے حبیب تو نہ ہوتا تو میں دنیا کو نہ بناتا۔ ایک اور حدیثِ قدسی میں آیا’’ لولاک لما خلقت الافلاک ‘‘یعنی میرے نبی اگر تجھے پیدا کرنا مقصود نہ ہوتا تو میں آسمانوں کو بھی پیدا نہ کرتا ۔ اور تفسیر حسینی میں ایک حدیثِ قدسی نقل کی گئی ’’لولاک لما اظہرت الربوبیۃ‘‘ پیارے اگرتو نہ ہوتا تو میں اپنے رب ہونے کو ظاہر نہ کرتا۔

ان تمام احادیث مبارکہ کی روسے پتہ چلا کہ اللہ تعالیٰ نے اس کائنات کو اپنے محبوب ﷺ کی خاطر بنایا۔ہمارے پیارے آقاﷺکی مکہ شریف میں بارہ ربیع الاول شریف مطابق ۲۰؍ اپریل  ۵۷۱؁ء بروز شنبہ بوقتِ صبح صادق ولادتِ باسعادت ہوئی۔وہ گھڑی بہت ہی بابرکت اور سہانی تھی ،جس میں آپ کی جلوہ گیری ہوئی ۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کی پیدائش کےصدقے میں بیماروں کو شفا،کمزوروں کو صحت،بے روزگاروں کو روزی ،بے اولادوں کو اولاد اورکفروشرک میں مبتلا لوگوں کو ایمان کی دولت نصیب فرمایا۔آپ کی تشریف آوری دنیا میں خیروبرکت کا باعث ثابت ہوئی۔

الحمدللہ ! چودہ سو سالوں سے پوری دنیا میں عیدِ میلاد النبی ﷺ کا جشن ہوتا چلا آرہاہے،صحابۂ کرام ،تابعینِ عظام ،اولیا،صوفیا،صلحااور مشائخ کرام نے بھی عیدِ میلاد النبی ﷺ منایا،اور آج تک امتِ مسلمہ جلوس ومیلاد کی شکل میں ہر سال ’’عید میلاد النبی‘‘بارہ ربیع الاول شریف کو نہایت ہی تزک واحتشام کے ساتھ مناتی آرہی ہے ۔ اس مبارک دن کو تومسلمانِ عالم عید میلادالنبیﷺ کی خوشی میں اپنے گھروں،دکانوں،شاہ راہوں، درگاہوں، مدرسوں ا ورمسجدوں میں چراغاں کرتے ہیں، کیوں کہ یہ اللہ تعالیٰ کی سنتِ مبارکہ ہے۔ خالق کائنات نے نہ صرف سا ر ی کائنات میں چراغاں کیا بلکہ آسمان کے ستاروں کو فانوس اور قمقمے بنا کر زمین کے قریب کردیا ۔یقیناً نبی کریم ﷺ اللہ تعالیٰ کی ہم پر ایک نعمت وعطا ہے ،اس کا ہر حال میںشکر ادا کرنا چاہیے ،اس کی نعمتوں پر اظہارِ خوشی کرنا چاہیے ۔چناں چہ اللہ تعالیٰ قرآنِ عظیم میں ارشاد فرماتاہے:

اے محبوب(ﷺ)! مومنوں کو چاہیے کہ وہ اللہ ہی فضل اوراس کی رحمت پر خوشی منائیں۔[يونس: 58]

دوسری جگہ ارشاد ہے:اور انہیں اللہ کے دن یاد دلاؤ ۔[إبراهيم: 5]

امام المفسرین سیدنا عبد اللہ بن عباس ؆ کے نزدیک ’’ایام اللہ‘‘ سے مراد وہ دن ہیں جن میں رب تعالیٰ کی کسی نعمت کا نزول ہوا ہو۔ ان ایام میں سب سے بڑی نعمت کے دن سید عالمﷺ کی ولادت و معراج کے دن ہیں، ان کی یا د قائم کرنا بھی اس آیت کے حکم میں داخل ہے)۔ (تفسیر خزائن العرفان)۔

مذکورہ بالا آیات کی روشنی میں پتہ چلا کہ عید میلادالنبی ﷺ اللہ تعالیٰ کی بندوں پر ایک عظیم ترین نعمت ہے ۔ لہذا س موقع پر ہماری کچھ اس طرح کی ذمہ داریاں بنتی ہیں۔جیسے:

ثولادتِ رسول کی خوشی میں ایک دوسرے کو مبارک بادی پیش کریں۔

ثغریبوں،فقیروں ،محتاجوں اور ضرورت مندوں کی مددواعانت کریں۔

ثسیرتِ رسول ﷺ پر جلسے منعقد کریں ۔

ثنہایت ہی امن وآشتی ،اتحادویک جہتی اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے ساتھ جلوسِ عید میلاد النبیﷺ نکالیں۔

ث جلوس میں شریک ہوکردرود شریف کا ورد اپنی زبانوں پر جاری رکھیں۔

ثجلوسِ محمدی میں ناچ گانے ،ڈی جے(DJ)اورمیوزک(Music)وغیرہ سے کلی طور پراجتناب کریں۔

ثبلکہ ہر طرح کی خرافات اور غلط روایات سے بچیں۔ کیوں کہ یہ چیزیں شریعت کے اصول وقوانین کے منافی ہیں۔

ثاس کے علاوہ جلوس میںاپنے گھر کی خواتین کو نہ جانے دیں کہ یہ عمل خلافِ شریعت ہے۔

ثراستے میں کھانے پینے کی چیزیں بطور تبرک مل جائیں تو سنت اور ادب کے دائرے میں بیٹھ کر کھائیں اور پئیں۔

ثجلوس میں موجود سبھی حضرات اپنا دینی،ملی اور قومی فریضہ انجام دیتے ہوئے کسی بھی طرح کی کوئی بد نظمی نہ ہونے دیں۔بلکہ اس دن کو یومِ امن کے طور پر منائیں اور پوری دنیا کو اس اہم اور سنہرے موقع پر امن ومحبت ،تحمل ورواداری اوراخوت و بھائی چارگی کا پیغام دیں۔جلوسِ عید میلاد النبی کے حوالے سے یہ چند اہم نکات تھے،جسے ہم نے بہ طور احتیاط کے پیش کردیا ہے،امیدواثق ہے کہ قارئین انہیں روبہ عمل لائیں گے اور جلوس محمدی کو مروجہ تمام خرافات و غلط روایات سے بچانے کی ہر ممکنہ کوشش کریں گے۔

اللہ تعالیٰ اپنے حبیب پاک ﷺ کی آمد کی برکت سے ہم سبھی کو وفورِ عمل کی توفیق ارزانی عطا فرمائیں۔ آمین

(مضمون نگار‘ ماہ نامہ انوارِ ہاشمی کے چیف ایڈیٹر ہیں)

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading