
ایودھیا کا معاملہ بی جے پی کے لیے اب تک دودھ دیتی گائے ثابت ہوا ہے، اس نے حکومت دلائی اور مسلسل حکومت میں بنے رہنے کی امیدیں بندھائیں اس لیے وہ اسے کسی قیمت پر ہاتھ سے جانے دینے کے لیے تیار نہیں ہے، آج کے دنوں میں تو بالخصوص کہ بی جے پی کی مرکزی اور ریاستی حکومتیں ہر محاذ پر ناکام ہیں۔ معیشت کی صورتحال ابتر بلکہ بدتر ہے، بےروزگاری خطرناک حد تک بڑھ گئی ہے، کورونا کے متاثرین کی تعداد میں روز بروز تشویش ناک اضافہ ہوتا جا رہا ہے، خدشہ ہے کہ متاثرین کی تعداد کے لحاظ سے بھارت چند ہی دنوں میں برازیل سے بھی آگے نکل جائے گا۔
لاک ڈاؤن نے اچھے اچھوں کے کس بل نکال دیے ہیں، کاروبار بند ہو رہے ہیں، لوگوں کی نوکریاں ختم ہو رہی ہیں، اور ملک زبردست معاشی تباہی کے دہانے پر کھڑا ہو گیا ہے۔ اور لوگ اس عذاب کو بھولنے کے لیے تیار نہیں جو انہوں نے لاک ڈاؤن کے دوران سہا ہے، مزدور ہزاروں کلو میٹر کے پیدل سفر کی اذیت سے اب تک ابھر نہیں سکے ہیں۔ اندھ بھکت، مودی سرکار کی تعریف میں چاہے جس طرح زمین و آسمان کے قلابے ملائیں، حکمرانوں کے خلاف ایک عام ناراضگی پائی جاتی ہے۔ چین کے ہاتھوں بیس بھارتی جوانوں کے مارے جانے اور چین کے حملے پر حکمرانوں کی طرف سے کوئی تشفی بخش جواب نہ پانے سے بھی لوگ خوش نہیں ہیں۔ گویا کہ مودی کی مرکزی سرکار اور ملک کی بھاجپائی ریاستوں کے لیے آج کے دنوں میں حالات پہلے کی طرح نہ تو بہتر ہیں اور نہ ہی امید بھرے ہیں۔ لوگوں کی ناراضگی اس موقع پر جبکہ بہار اسمبلی کے انتخابات سر پر کھڑے ہیں بی جے پی کے لیے انتہائی نقصاندہ ثابت ہو سکتی ہے۔
مگر بات بہار اسمبلی انتخابات کی نہیں کرنی ہے، بات دودھ دیتی گائے یعنی ایودھیا معاملے، کورونا وباء کی شدت اور عیدالاضحٰی پر قربانی اور نماز عید کی کرنی ہے۔ ویسے ایودھیا کا معاملہ چونکہ بہار اسمبلی انتخابات سے بس چند مہینے پہلے ہی گرمایا جارہا ہے اس لیے اسے بہار اسمبلی انتخابات کے لیے بھی بھنانا آسان ہو جائے گا۔ وزیراعلیٰ نتیش کمار اور وزیراعظم نریندر مودی پوری کوشش کر سکتے ہیں کہ بہار کے لوگ خاص کر وہ مزدور جو پیدل چلے، بھوک اور پیاس سے تڑپے اور اپنے اعزا واقارب کو مرتے دیکھا ان کی ناراضگی ایودھیا میں بھوئیہ رام مندر کی تعمیر کے لیے بھومی پوجن یا باالفاظ دیگر سنگ بنیاد رکھنے کی تصاویر اور ویڈیو کی بڑے پیمانے پر تشہیر سے دور کی جا سکے اور دھرم کے نام پر ان کے جذبات کا سیاسی مفادات کے لیے استحصال کیا جا سکے ۔
اگست کی ٥ تاریخ کو ایودھیا میں جو ہونے جا رہا ہے اسے دھرم کے نام پر سیاسی استحصال کے سوا اور کیا کہا جا سکتا ہے ! مذکورہ تاریخ کو شہید بابری مسجد کی جگہ رام مندر کی تعمیر کے لیے بھومی پوجن /سنگ بنیاد کی تقریب ہو گی جس میں ایک اطلاع کے مطابق تین سو کے قریب لوگ شریک ہوں گے، شرکاء میں وزیراعظم نریندر مودی بھی ہوں گے بلکہ ان کے ہی ہاتھوں رام مندر کا سنگ بنیاد رکھا جائے گا۔ مودی کے دست راست امیت شاہ ہوں گے، اور رام مندر تحریک کے آرکی ٹیکٹ لال کرشن اڈوانی ہوں گے۔ اڈوانی کا ابھی کل ہی ایک بیان آیا ہے کہ وہ شہید بابری مسجد کے قصور وار نہیں ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ ان پر لگے الزامات بے بنیاد اور سیاسی ہیں۔ خیر وہ سچائی کو چاہے جتنا چاہیں جھٹلائیں ساری دنیا نے دیکھا ہے کہ وہ کاریہ سیوکوں کو بابری مسجد شہید کرنے کے لیے اکسا رہے تھے، ان کے ساتھ مرلی منوہر جوشی اور اوما بھارتی اور دیگر سنگھی عناصر موجود تھے۔ لوگ اب تک اڈوانی اور جوشی کی خونیں رتھ یاترائیں بھول نہیں سکے ہیں، دونوں کے دامن انگنت بے قصوروں کے خون سے سرخ ہیں۔ بھلے عدالت انہیں بری کر دے یہ بابری مسجد کے قصور وار تھے اور رہیں گے۔ بھومی پوجن کے لیے یوں تو سارے ملک کی ریاستوں کے وزرائے اعلیٰ کو مدعو کرنے کا منصوبہ ہے مگر مہاراشٹر کے وزیر اعلیٰ ادھو ٹھاکرے کو خاص طور پر مدعو کیا گیا ہے کہ وہ اپنے پِتا بال ٹھاکرے کی طرح خود اپنی سیاسی پارٹی شیوسینا کے ساتھ رام مندر کی تحریک میں پیش پیش رہے ہیں، وہ وزیراعلیٰ بننے کے بعد ایک بار ایودھیا رام مندر کے درشن کو جا چکے ہیں اب دوسری بار پھر جائیں گے۔۔ ٥اگست کے بھومی پوجن کی خاص بات یہ ہے کہ کورونا کی تالا بندی کے باوجود جبکہ تمام ہی مذہبی تقریبات پر روک ہے، اسے ایک دھارمک تقریب ہوتے ہوئے بھی بغیر روک ٹوک کے ہونے دیا جا رہا ہے۔
بھومی پوجن سے چار روز قبل عید الاضحٰی کا تہوار ہے مگر اس موقع پر نہ عید کی باجماعت نمازوں کی اجازت ہے اور نہ ہی پہلے کی طرح فریضہ قربانی کی چھوٹ۔ لوگ اگر یہ سوال کریں کہ بھلا ایسا کیوں، دونوں ہی مذہبی تقریبات ہیں تو ایک کی اجازت کس لیے اور دوسرے پر روک کس واسطے، تو وہ یہ سوال کرنے میں حق بجانب ہوں گے، لیکن انہیں اس سوال کا کوئی تسلی بخش جواب نہیں ملے گا، اس لیے کہ اس کا کوئی تسلی بخش جواب ہے ہی نہیں۔ کورونا کی وباء کے سبب یوں تو تمام ہی مذاہب کے تہواروں کو منانے پر روک ہے لیکن اس روک سے سب سے زیادہ متاثر مسلمان ہی ہو رہے ہیں۔ رمضان المبارک کے دوران لوگ عبادتوں سے محروم رہے، باجماعت نماز تراویح نہیں ادا کر سکے۔ عید الفطر آئی اور اپنے آنے کا احساس دلائے بغیر گزر گئی، لوگ عید کی نماز گھروں میں ادا کرنے پر مجبور تھے ۔ اور اب عیدالاضحیٰ قریب ہے، اس کی نماز بھی باہر ادا کرنے پر روک لگا دی گئی ہے، بڑے جانوروں کی قربانی قطعی ممنوع ہے اور چھوٹے جانوروں کی قربانی کے لیے ڈھیروں شرطیں لگا دی گئی ہیں۔ ریاست کی اگھاڑی سرکار کے وزیر داخلہ انیل دیشمکھ نے، جن کا تعلق سیکولر کہلانے والی سیاسی جماعت این سی پی سے ہے جو گائیڈ لائن جاری کی ہے وہ سمجھ سے باہر ہے۔ آن لائن بکروں کی خریداری کی ہدایت کے ساتھ علامتی قربانی کا شوشہ چھوڑا گیا ہے۔ وزیراعلیٰ ادھو ٹھاکرے کو ہم بہت ڑیادہ قصور وار نہیں مانتے، شیوسینا تو ہمیشہ قربانی کے خلاف رہی ہے، سوال یہ ہے کہ این سی پی اور کانگریس جیسی دو سیکولر کہلانے والی سیاسی جماعتیں کیوں قربانی کے مسئلے کو حل نہیں کر سکیں؟ مہاراشٹر کی اگھاڑی سرکار میں شامل مسلم وزراء اور مسلم ممبران اسمبلی بھی ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے رہے، ان کے عمل سے لوگوں نے مسلم قیادت پر رہا سہا بھرم بھی کھو دیا ہے ۔ یہ مسلم قائدین یہ سوال تک نہیں کر سکے کہ اگر کورونا وباء کے دوران تمام مذہبی سرگرمیوں پر پابندی عائد ہے تو ادھو ٹھاکرے کیسے ایودھیا بھومی پوجن کرنے کے لیے جا رہے ہیں؟
پھر بھی مہاراشٹر میں حالات بی جے پی کی ریاستوں کی طرح خوف و تشویش پیدا کرنے والے نہیں ہیں ۔مدھیہ پردیش کی مثال لے لیں، دو روز قبل وہاں کے وزیر داخلہ ڈاکٹر نروتم مشرا نے یہ اعلان کیا ہے کہ ٢٤ جولائی سے دس دن کے لیے سخت لاک ڈاؤن رہے گا لہٰذا لوگ ضروری اشیاء کی خریداری کر لیں ۔ دس دن کے لاک ڈاؤن کا سیدھا مطلب یہ ہے کہ عید بھی لاک ڈاؤن کی بھینٹ چڑھ جائے گی۔ ایم پی کے مسلمان نماز اور قربانی سے مکمل محروم رہ جائیں گے۔
عید کے پیش نظر لاک ڈاؤن میں چند دنوں کی کمی زیادتی کی جا سکتی تھی، لیکن یہاں تو مقصد ہی عید کے تہوار کو نہ ہونے دینا ہے۔ اب اگر وہاں لوگوں نے قربانی کا فریضہ ادا کرنے کی کوشش کی تو پکڑے جائیں گے، مقدمے بنیں گے، اور ساری دنیا میں یہ پروپیگنڈا کیا جائے گا کہ مسلمان لاک ڈاؤن کی خلاف ورزی کر کے کورونا کی وباء کو دانستہ پھیلا رہے ہیں، جیسے تبلیغی جماعت پر الزام لگا اور اب تک نہیں دھلا اسی طرح لوگ اس الزام کو سچ مان لیں گے۔ یہ وہی مدھیہ پردیش ہے جہاں کورونا کی پرواہ کیے بغیر بی جے پی نے کمل ناتھ کی کانگریسی سرکار گروائی اور شیو راج سنگھ چوہان کی بھاجپائی سرکار بنوائی تھی، اور اس کے لیے سوشل ڈسٹنسنگ کی ساری دھجیاں اڑا دی تھیں۔ اسی ایم پی میں کورونا کو اندیکھا کرکے مندر میں بھیڑ جمع کر کے پوجا اور سیاست دانوں کے ذریعے سالگرہ کی تقریبات منانے کے واقعے بھی ہوئے ہیں۔ پر عید الاضحٰی پر بی جے پی کی یہ سرکار کوئی سہولت دینے کو تیار نہیں ہے۔
یوپی کی یوگی آدتیہ ناتھ کی سرکار نے گائیڈ لائن جاری کرکے قربانی کی اجازت تو دے دی ہے لیکن یوپی کے مسلم قائدین اس کو غیر واضح قرار دے رہے ہیں ۔کھلی جگہوں میں قربانی کی اجازت نہیں ہے اور گوشت کو غیر مسلم علاقوں سے لے جانے کی ممانعت ہے لیکن یہ واضح نہیں کیا گیا ہے کہ کھلی جگہوں سے اور غیر مسلم علاقوں سے کیا مراد ہے۔ پھر یہ اعلان بھی ہے کہ ڈرون سے نگرانی کی جائے گی۔ اب ایسے میں اگر پولیس کو کوئی بھی عمل، بھلے مشتبہ نہ ہو، مشتبہ نظر آئے تو مقدمہ بننا یقینی ہے۔ کہا یہ جا رہا ہے کہ سخت گائیڈ لائن ہراساں کرنے کے لیے ہی بنائی گئی ہے۔ یوگی کا ریکارڈ مسلمانوں کے تعلق سے کوئی اچھا نہیں رہا ہے اس لیے اندیشے اور خدشات اٹھ رہے ہیں۔ نماز پر تو مکمل پابندی ہے لیکن اگر گھر کے اندر کچھ لوگوں نے جماعت بنا کر عید کی نماز ادا کر لی اور پولیس والے نے اسے بھی گائیڈ لائن کی خلاف ورزی قرار دے کر پرچی کاٹ دی تو؟ ایسا یوپی میں ہوچکا ہے اس لیے یہ سوال اٹھ رہا ہے۔ یہ وہی یوپی ہے جہاں ایودھیا میں ٥اگست کو رام مندر کے لیے بھومی پوجن ہونا ہے۔ مارچ کے مہینے میں جب کورونا تیزی سے پھیل رہا تھا، یوگی لاک ڈاؤن کی ساری ہدایات کو نظر انداز کر کے وہاں جا کر رام مندر کے لیے پوجا پاٹ کر آئے تھے۔ یہ اہم سوال ہے کہ کیا آج کے حالات میں جب کورونا کے پھیلنے کی رفتار تیز ترین ہو گئی ہے ایودھیا میں بھومی پوجن کیا جانا چاہیے؟
اس سوال کا کوئی بھی عقلمند شخص جواب نہیں میں دے گا، لیکن مودی اینڈ کمپنی بھومی پوجن کو روکنے کو تیار نہیں ہے۔ اور عدالت بھی یہی سمجھ رہی ہے کہ بھومی پوجن پر کورونا کے سبب روک لگانا مناسب نہیں ہے۔مہاراشٹر کے ایک سماجی کارکن ساکیت گوکھلے نے الہ آباد ہائی کورٹ میں بھومی پوجن پر روک لگانے کے لیے ایک درخواست دائر کی تھی جسے عدالت نے خارج کر دیا ہے۔درخواست تھی کہ کورونا کے سبب جب عید الاضحٰی کی نماز کی اجازت نہیں دی گئی تو بھومی پوجن کی تقریب کیسے ہو سکتی ہے، اس تقریب میں کوئی تین سو افراد شریک ہو رہے ہیں جس کی وجہ سے کورونا کی روک تھام کے پروٹوکول کی خلاف ورزی ہو سکتی ہے۔ معزز جج صاحبان نے یہ درخواست اس بنا پر مسترد کی کہ یہ امکانات اور اندیشوں پر مبنی ہے! نماز پر روک اور قربانی پر سختی بھی تو امکانات اور اندیشوں پر مبنی ہے مگر شاید ہی کوئی عدالت نماز پر روک ختم کرنے یا قربانی کو آسان بنانے کا فیصلہ دے، عید الفطر پر ہم سب خوب مشاہدہ کر چکے ہیں۔ اب یہ دیکھ لیں کہ ملک کی سب سے بڑی عدالت سپریم کورٹ نے اڈیشہ میں جگناتھ یاترا کی اجازت دی تھی، یہ دس دن چلی، کوئی کورونا کے پھیلنے کا خوف بھی اسے نہیں روک سکا۔ یہ جمہوری اور سیکولر بھارت کا حقیقی روپ ہے۔کہنے کو تو کورونا کے سبب سب ہی مذاہب کی سرگرمیوں پر روک، مگر مندر میں پوجا کی اجازت بھی اور ایودھیا میں بھومی پوجن بھی جائز ، لیکن عید الاضحٰی پر یہ اپیل کہ اسے سادگی سے منائیں، نماز عید گھر میں ادا کریں اور قربانی یا تو شرائط کے ساتھ کریں یا علامتی کریں۔
جمہوریت اور سیکولرزم زندہ باد!!
بھومی پوجن کی بات کچھ اور کرلیتے ہیں۔ کیوں کورونا کے باوجود اور چند سنتوں کے ذریعے ٥اگست کی تاریخ کو اشبھ قرار دینے کے بعد بھی اسے روکا نہیں جا رہا ہے؟ اس سوال کا جواب سامنے ہے۔ اوپر یہ تحریر کر دیا گیا ہے کہ یہ معاملہ بی جے پی اور سنگھ کے لیے دودھ دیتی گائے ہے، فرقہ پرست عناصر نے ساری سیاسی ترقی اسی کی پیٹھ پر سوار ہو کر کی ہے۔ اب جبکہ مودی اینڈ کمپنی کی ساکھ متاثر ہونے لگی ہے اور وہ افراد بھی جو آنکھ بند کر کے اس سرکار کے ہر فرمان کو قبول کر لیتے تھے، سوال کرنے لگے ہیں، اور سارے وعدے دھرے کے دھرے رہ گیے ہیں، وکاس کا نعرہ بس نعرہ ہی رہ گیا ہے، اور پوری حکومت بے نقاب ہو رہی اور اس کی ناکامیاں سامنے آ رہی ہیں، تو لوگوں کے ذہنوں کو بھٹکانے کے لیے اس سے بہتر کوئی اور موضوع نہیں مل سکتا ۔ بہار اسمبلی انتخابات میں اس کا پرچار تو کیا ہی جائے گا، تین سال بعد جب رام مندر تیار ہو جائے گا تو لوک سبھا کے انتخابات میں اسے استعمال کیا جائے گا۔ یعنی آج کی مودی سرکار اس بھومی پوجن کے ذریعے آئندہ بھارت پر قبضہ کی برقراری کی بنیاد رکھ رہی ہے۔ ان دنوں حال کے کام مستقبل پر نظر رکھ کر ہی کیے جا رہے ہیں۔