جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ اور محبوبہ مفتی پر پبلک سیفٹی ایکٹ (پی ایس اے) لگانے پر سابق وزیر مالیات پی چدمبرم نے مودی حکومت پر حملہ کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ دونوں لیڈروں پر لگائے گئے پی ایس اے سے میں حیران ہوں۔
Shocked and devastated by the cruel invocation of the Public Safety Act against Omar Abdullah, Mehbooba Mufti and others.
— P. Chidambaram (@PChidambaram_IN) February 7, 2020
پی چدمبرم نے کہا کہ ’’عمر عبداللہ، محبوبہ مفتی اور دیگر کے خلاف پبلک سیفٹی ایکٹ (پی ایس اے) کی بربریت بھری کارروائی سے حیران ہوں۔ الزامات کے بغیر کسی پر کارروائی جمہوریت کا سب سے گھٹیا قدم ہے۔ جب ناانصافی والے قانون پاس کیے جاتے ہیں یا ناانصافی کرتے ہوئے قانون نافذ کیے جاتے ہیں تو لوگوں کے پاس امن سے مظاہرہ کرنے کے علاوہ کیا متبادل ہوتا ہے؟‘‘
پی چدمبرم نے مزید کہا کہ ’’پی ایم مودی کا کہنا ہے کہ احتجاجی مظاہرہ سے انارکی ہوگی اور پارلیمنٹ و اسمبلیوں کے ذریعہ پاس قوانین پر عمل کرنا ہوگا۔ وہ تاریخ اور مہاتما گاندھی، مارٹن لوتھر کنگ اور نیلسن منڈیلا کے رہنما مثالوں کو بھول گئے ہیں۔‘‘
PM says that protests will lead to anarchy and laws passed by Parliament and legislatures must be obeyed. He has forgotten history and the inspiring examples of Mahatma Gandhi, Martin Luther King and Nelson Mandela.
— P. Chidambaram (@PChidambaram_IN) February 7, 2020
واضح رہے کہ جمعرات کو جموں و کشمیر کے سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی اور نیشنل کانفرنس کے لیڈر عمر عبداللہ کے خلاف پی ایس اے کے تحت معاملہ درج کیا گیا۔ محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ پر جموں و کشمیر انتظامیہ نے ایک بار پھر سے پی ایس اے لگا دیا۔ دونوں کے خلاف عوامی تحفظ ایکٹ کے تحت معاملہ درج کر لیا گیا ہے۔
غور طلب ہے کہ جموں و کشمیر کے تین سابق وزرائے اعلیٰ 5 اگست سے نظربند ہیں۔ انتظامیہ نے سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی کو جہاں ٹرانسپورٹ لین میں ایک سرکاری گیسٹ ہاؤس میں نظر بند رکھا ہے تو وہیں سابق وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کو ان کے گھر میں نظر بند رکھا گیا ہے۔ وہیں سابق وزیر اعلیٰ ڈاکٹر فاروق عبداللہ کو پی ایس اے کے تحت ان کے ہی گھر میں یرغمال بنا کر رکھا گیا ہے۔
یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – بشکریہ قومی آواز بیورو