قاہرہ ۔ اشرف عبدالحمید. مصری حکام نے سابق مصری صدر محمد مرسی کے بیٹے عبد اللہ محمد مرسی کی لاش کا پوسٹ مارٹم ختم ہونے کے بعد اسے اس کے والد کے پہلو میں دفن کرنے کی اجازت دی ہے۔
تفصیلات کے مطابق عبداللہ محمد مرسی کو جمعہ کے روز صبح سویرے قاہرہ کے مشرق میں نصر شہر میں اپنے والد کے قبرستان میں دفن کیا گیا تھا۔
تدفین میں رسومات میں مرسی کی اہلیہ، بیٹے اور بیٹی، ماموں، دیگر اقارب اور ایک خاندانی وکیل نے شرکت کی۔
قبل ازیں مصری پراسیکیوشن حکام نے عبداللہ محمد مرسی کی لاش کا پوسٹ مارٹم کرنے کیا تاکہ ان کی موت کی وجوہات کا پتہ لگایا جاسکے۔
اسپتال کی ابتدائی رپورٹ کے بعد کہ موت کی وجہ منشیات اور دیگر محرک دوائیں لینے کے نتیجے میں دل کے پٹھوں کو ختم کرنا بتایا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ متوفی متعدد منشیات سے تیار کردہ دوائیاں لے رہا تھا جو ممکنہ طور پر دل کا شدید دورہ پڑنے کا محرک ہوسکتا ہے۔
سابق صدر کے اہل خانہ نے اعلان کیا کہ ان کے بیٹے کی موت میں کوئی مجرمانہ شبہ نہیں ہے اور مشرق میں اس کی لاش کو دفنانے کے لئے مصری حکام سے منظوری کی درخواست کی گئی تھی مگر حکام نے قاہرہ کے نصر شہر میں اس کی تدفین کا حکم دیا۔
سابق مصری صدر محمد مرسی کا چھوٹا بیٹا عبد اللہ محمد مرسی 26 سال کی عمر میں جمعرات کی صبح ابتدائی اوقات میں گاڑی چلاتے ہوئے شدید دل کا دورہ پڑنے کے بعد انتقال کر گئے تھے۔ انہیں انتہائی تشویناک حالت میں اسپتال پہنچایا گیا جہاں وہ دم توڑ گئے تھے۔
بشکریہ العربیہ اردو ڈاٹ نیٹ